19.4.10

شفیق الرحمان: ایک مزاح نگار کے غم

شفیق الرحمان کا نام آتے ہی مسکراہٹ اور مزاح کا تصور ہی آتا ہےذہن میں۔ حال ہی میں ان کے بارے میں ایک مضمون پڑھ کر میں حیران رہ گیا کہ شفیق الرحمان کی زندگی میں کتنے گہرے رنج و الم تھے۔
شفیق الرحمان کا تعلق ایک خوش حال، خوش باش اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ادب سے لگاو انہیں والدین سے ورثے میں ملا تھا۔انہیں اپنے دو بھائیوں اور ہمشیرہ سے بہت محبت تھی۔ کنگ ایڈورڈ لاہور میں تعلیم کے دوران انہیں سٹیج ایکٹر کے طور پہ اپنے جوہر دکھانے کا خوب موقعہ ملا۔انہی دنوں میں شفیق الرحمان نے اپنی پہلی کہانی ”چاکلیٹ“ لکھی۔
1940 کا لاہور ادب کا گہوارہ تھا. ایک اور افسانہ ”فاسٹ باولر“ منطر عام پہ آنے سے شفیق الرحمان کو ادبی حلقوں میں خاطر خواہ پذیرائی ملی۔فیض،منٹو، کرشن چندر،ساحر، راجندر سنگھ بیدی جیسی مایہ ناز ادبی شخصیات کی صحبت نے شفیق الرحمان کے فن تحریر کو خوب جلا بخشی۔
1942شفیق الرحمان کی زندگی کا ایک اہم سال ہے۔ اس سال انہوں نے ایک تو MBBS کا امتحان پاس کر لیا اور ساتھ ہی ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ”کرنیں“ شائع ہو گیا۔22 سال کی عمر میں ان کی یہ کامیابیاں قابل رشک تھیں۔1950 میں شفیق الرحمان مزید تعلیم کے لیئے برطانیہ گئے۔ تب انہیں یورپ کے طول و عرض میں سفر کرنے کا موقعہ ملا۔ ان سب تجربات کو انہوں نے اپنے سفر نامے “برساتی” کی زینت بنایا۔
غرض کہ ان کی زندگی ترقیوں، کامیابیوں اور خوشیوں کا ایک خوبصورت مرقع تھی۔پھر اچانک اس زندگی میں ایک اندوہناک موڑ آیا۔ شفیق الرحمان کے دو بیٹوں نے خودکشی کر لی۔ ان بیٹوں سے شفیق کو بے حد لگاو تھا۔انکے ساتھ شفیق ہمیشہ دوستوں کی طرح رہے اور ان کی تعلیم و تربیت میں ان کی خوب معاونت کی۔یہ معلوم نہ ہو سکا آخر کس بات نے ان دونوں کو خودکشی جیسے انتہائی اقدام پہ مائل کیا۔
اس شدید غم ناک سانحے نے شفیق الرحمان کی طبیعت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔اپریل 1981 اور اپریل 1991کے درمیان جو خطوط انہوں نے ڈاکٹر صفیہ بانو کے نام لکھے ان میں شفیق کے کرب و الم کا بیان نظر آتا ہے۔یہ خطوط ادبی جریدے ”مکالمہ“ میں شائع ہوئے۔ہر بعد والا خط پہلے والے سے زیادہ شدت کے ساتھ شفیق کے رنج و ملال کا مظہر ہے۔
پھر ان کے بھائی خلیل الرحمان کی موت واقع ہوئی۔اور 1987 میں ان کی نو عمر بھتیجی نصرت بھی فوت ہو گئی۔ ان اموا ت نے بھی شفیق ا لرحمان کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ۔ انہی دنوں میں ان کی اہلیہ دل اور سانس کے عارضوں میں مبتلا ہو گئیں۔شفیق دونوں کی زندگی میں آنے والے گہرے غم و رنج کو اپنی شریک حیات کی بیماری کی وجہ سمجھتے تھے۔ پھر ان خاتون کو ایک ایسے مرض نے آن لیا جس میں مریض کا خون جسم سے کچھ مدت بعد نکالنا ہوتا ہے۔اسی اثنا میں شفیق الرحمان کے چھوٹے بھائی عتیق الرحمان بھی داغ مفارقت دے گئے۔
یوں تو موت کوئی انہونی چیز نہیں ہے۔ لیکن بسا اوقات اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا غم سوہان روح بن جاتا ہے۔ انسان بوکھلا سا جاتا ہے ، سمجھ نہیں پاتا کہ ایسا کیونکر ممکن ہے کہ وہ لوگ جو اسکے ساتھ ایک طویل مدت تک رہے اب وہ ایسے گئے ہیں کہ اب وہ ان کی شکل تک نہیں دیکھ پائے گا، کبھی بھی ان کی آواز تک سن نہیں پائے گا۔ جبکہ ان چلے جانے والے لوگوں سے متعلق چیزیں پہلے کی طرح آس پاس موجود نظر آتی رہیں گی۔
شفیق الرحمان بھی اپنے عزیزوں کی موت سے از حد پریشان اور رنجیدہ ہو گئے تھے.مر جانے والوں کے پیچھے رہ جانے والوں کو اللہ آہستہ آہستہ صبر ضرور دیتا ہے مگر بعض اوقات بعض لوگ غم کی گہرائیوں سے باہر نکل نہیں پاتے۔ غم بنیادی طور پہ انسان کی سوچ اور خیال پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی سوچ کو ہم طویل عرصے کے لیے اپنے ذہن میں جگہ دیئے رکھیں اور ہماری ذہنی توجہ اس ایک خیال پہ ہی ہر وقت رہے تو پھر ہم مستقل ایک ہی قسم کی ذہنی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ یہ کیفیت امید اور خوشی بھی ہو سکتی ہے اور مایوسی اور بے کیفی کی بھی۔جیسا خیال ویسی دل کی کیفیت۔
شفیق الرحمان آخر خود بھی 2000 میں وفات پا گئے۔ ان کے پسماندگان میں ان کا سب سے بڑا بیٹا عتیق ہے۔ انسان جب اپنی خوش باش زندگی کے پر لطف شب و روز گذ؎ار رہا ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ حالات ہمیشہ یوں ہی رہیں گے۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ ایک وقت آئے گا کہ دھیرے دھیرے سب کچھ یوں بدل جائے گا جیسے پہلے کبھی تھا ہی نہیں۔ حالات بگڑ جائیں تو پھر تو انسان اللہ کو پکارتا ہی ہے۔یہ بہت ضروری ہے کہ خوشی اور آسانی کی فراوانی والے وقت میں بھی اللہ سے اسکے فضل،رحمت، خیر و برکت اور عافیت کی دعایں مانگی جاتی رہیں۔

7 تبصرے:

بپیبلی said...

شفیق الرحمان میرے پسندیدہ مصنف ہیں۔ ان کے ذاتی المیوں کو پڑھ کر دلی رنج ہوا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحیح مزاح وہی لکھ سکتا ہے جو غم سے آشنا ہو۔

لیکن شفیق الرحمان نے صرف مزاح ہی نہیں لکھا، بلکہ ان کی تحاریر مین حزن و الم کا گہرا رنگ بھی نظر آتا ہے جیسے "پچھتاوے" میں، بلکہ مزاحیہ مجموعوں میں بھی ایک آدھ سنجیدہ تحریر نظر آ جاتی ہے۔ اور کئی بظاہر مزاحیہ کہانیوں میں بھی بہت گہری باتین بھی نظر سے گزریں۔

مجھے ذاتی طور پر اس بات پر کاقی تعجب ہوتا ہے کہ مرحوم اردو ادب کے بہترین مصنفین میں سے ہیں، تاہم ان کے حالات زندگی کے بارے میں بہت کم یا نا کافی معلومات دستیاب ہیں۔

احمد عرفان شفقت said...

”شفیق الرحمان نے صرف مزاح ہی نہیں لکھا، بلکہ ان کی تحاریر مین حزن و الم کا گہرا رنگ بھی نظر آتا ہے“
”اور کئی بظاہر مزاحیہ کہانیوں میں بھی بہت گہری باتیں بھی نظر سے گزریں۔ “
یہ بات میں نے بھی نوٹ کی ہے۔

اور یہ بھی درست ہے کہ شفیق الرحمان کے بارے میں بہت کم مواد دستیاب ہے۔ نہ جانے ایسا کیوں ہے۔

پھپھے کٹنی said...

بات ادھر کرنی تو نہيں چائيےليکن موضوع يہيں ہے دو بيٹوں نے خود کشي کر لی ہمارے معاشرے ميں والدين تھوڑا تنگ تو نہيں کرتے اولاد کو يہ تو ميں بہادر تھی جو سہہ گئی نہيں تو دل تو ميرا بپی ايک آدھ دفعہ کيا تھا

احمد عرفان شفقت said...

شکر ہے دل کے کرنے پہ عمل درآمد نہیں کر ڈالا آپ نے۔ ورنہ دنیا ایک زبردست اردو بلاگ کو وجود میں آتا نہ دیکھ پاتی۔
باقی یہ تو والدین کو ہی کہتے سنا گیا ہے کہ اولاد ان کو تنگ کرتی ہے۔ یہ تو مروّج کلام نہیں ہے کہ وائس ورسا بھی ہوتا ہے۔ کیوں جی؟

خرم ابن شبیر said...

کیا لکھوں عجیب سی کیفیت ہوگی ہے یہ سب پڑھ کر ایسے تمام لوگوں کی زندگیاں تقریباََ ایسی ہی ہوتی ہیں
آج ک ببوبرال بھی بہت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں

احمد عرفان شفقت said...

اور روحی بانو بھی تو اسی فہرست میں شامل رہی ہیں۔

دعا said...

ہمارے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والے کے یہ حالات زندگی تھے مجھے آج سے پہلے معلوم نہ تھا۔

Post a comment