13.8.10

مساجد میں افطاری

جس شام رمضان کا چاند نظر آیا اس رات مسجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی صفوں کی تعداد ڈبل ہو گئی۔ اگلے دن مغرب کے وقت یہ تعداد واضح طور پر اوربھی بڑھ گئی۔ مسجدوں میں افطار کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب کے وقت خاصی گہماگہمی ہو جاتی ہے۔

ایک خاطرخواہ تعداد اس رونق میں ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو صرف افطاری سے مستفید ہونے کی نیت سے آئے ہوتے ہیں اور ان کے پروگرام میں افطاری کے بعد مغرب کی نماز میں شرکت کرنا شامل نہیں ہوتا۔ یہ لوگ کھا پی کر اور کچھ مزید اشیاء خورد و نوش شاپر میں ہمراہ لے کر جماعت کھڑ ی ہونے سے پہلے پہلے واپسی کا قصد کرتے ہیں ۔

اکثر مساجد میں تو ان کی یوں واپسی میں کوئی خلل نہیں ڈالا جاتا لیکن بعض مساجد میں ذرا حساس طبع قسم کے انتظامیہ والے ان کو یوں نہیں لوٹنے دیتے اور ان کو گفتگو اور ہلکے ہلکے دھکوں وغیرہ کی مدد سے مسجد کے اندر بھیج دیتے ہیں کہ آپ باجماعت نماز پڑھے بغیر یوں نہ جائیں۔

اب ان بیچارے غریب لوگوں کے لیے جو محض پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر مسجد کی افطار پارٹی میں آ نکلے تھے ایک عجیب نہ جاۓ ماندن نہ پاۓ رفتن والی کیفیت ہو جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر کا روزہ نہیں بھی ہوتا۔ اور بعض صورتوںمیں گمان غالب ہے کہ بیچ میں کچھ غیر مسلم بھی شکم پری کے چکر میں آن پھنستےہیں۔

مسجد کےھال میں پہنچ کر یہ مجبور کیا گیا گروہ پچھلی ترین صفوں میں کھڑا ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ دوران نماز ان کی کیفیت اور حالت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی رش سے بھری سڑک پر لرنر لائسنس والے ڈرائیور کی ہوتی ہے۔لیکن چیلنج سے بھرپور یہ صورتحال ان کے حوصلے اس طور پست نہیں ہونے دیتی کہ وہ آنے والے بقیہ دنوں میں نماز سے عاری افطاری میں شمولیت کا ارادہ ترک کر دیں۔

سو رونقیں لگی رہتی ہیں۔

13 تبصرے:

میرا پاکستان said...

یہ سب بدانتظامی کا نتیجہ ہے وگرنہ مسجد کی انتظامیہ ایسے مسائل سے آسانی سے نمٹنے کیلیے اصول وضح کر سکتی ہیں۔ غربت مذہب کیلیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے یہی وجہ ہے زیادہ تر غریب ہی مذہب تبدیل کرنے میں‌پہل کرتے ہیں۔ ہندوستان میں‌شودروں کا مسلمان ہونا، پاکستانی غریب کمی کمینوں کا شیعہ ہونا اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ عیسائی تنظیمیں بھی زیادہ تر غریب علاقوںمیں لوگوں کو عیسائی بنانے میں‌کامیاب ہوتی ہیں۔

سعد said...

میں افضل صاحب کی بات سے متفق ہوں۔ اکثر لوگ غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر آتے ہیں۔

عثمان said...

پاکستان میں‌تو کبھی مسجد میں‌ افطاری نہیں کی۔ لیکن یہاں کینیڈا میں‌ضرور گیا ہوں۔ بہت اچھی افطار پارٹیاں ہوتی ہیں۔ نئے نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ صحیح معنوں میں ایک کمیونٹی سنٹر کا سماں‌ ہوتا ہے۔

اور ہاں۔۔۔آپ تو میرے پچھلا تبصرہ مائنڈ کرگئے ۔ وہ پوسٹ کو ہٹا لی؟ :mrgreen:

احمد عرفان شفقت said...

افضل صا حب، آپ نے بالکل بجا فرمایا ۔ غربت واقعی بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ اللہ اس سے ہم کو اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔بہت سال پہلے میں بھی ایک ایسے ٹیلر ماسٹر سے ملا تھا جو شیعہ بن چکے ہوئے تھے۔

عثمان، آپ کا تبصرہ مائنڈ نہیں کیا گیا بلکہ وہ پوسٹ اس لیے ہٹا لی کیونکہ قارئین کے فیڈ بیک سے اندازہ ہو چلا تھا کہ اس خبر میں کوئی وزن نہیں ہے۔ :smile:

بلوُ said...

اب اس بات پر کیا کہوں
:?:

ھارون اعظم said...

السلام علیکم،

افطاری کے بعد لوگوں کو نماز پر مجبور کرنا میرے خیال میں تو مناسب نہیں۔ ہاں، ان کو ترغیب دی جاسکتی ہے۔ اس طرح دعوت کا ثواب تو مل جائے گا۔

احمد عرفان شفقت said...

@ ھارون اعظم:
جی بالکل نا مناسب ہے یہ۔ سعودیہ میں زبردستی نماز پڑھانے کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے۔ یہ تو لوگوں کو دین سے دور لے جانے والی باتیں ہیں۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین said...

اس مسئلے پہ تو کوئی مستند عالمِ دین ہی رائے دے سکتے ہیں۔میں عالم دین نہیں ہوں۔ مگر میری ذاتی رائے میں اگر کوئی‌غیر مسلم یا غربت سے تنگ کوئی ایسا فرد یا افراد مسلمانوں کی کسی مسجد میں محض کھانا کھانے کے لئیے پہنچتے ہیں تواُن سے کوئی تغرض نہیں کیا جانا چاہئیے۔ کیونکہ اسلام ایک اعلیٰ ظرف مذھب ہے اور صلہِ رحمی کی ترغیب و تقلید کرتا ہے۔ اگر کوئ غیر مسلم دین اسلام سے دلشسپی ظاہر کرے تو ضرور اسکی رہنمائی کی جانی چاہئیے ۔ مگر اسے کسی صورت میں شرمسار یا مجبور نہیں کیا جانا چاہئیے۔ اسی طرح کسی کم نصیب مسلمان کو جو کسی وجہ سے نماز میں شریک نہ ہونا چاہے اسے بھی شرمسار نہیں کیا جانا چاہئیے صرف آرام سے دین کی ترغیب دی جانی چاہئیے۔ کسی کی عزت نفس پہ حرف نہیں آنا چاہئیے۔
اسلام بہت فراخدل اور اعلٰی ظرف مذھب ہے۔مسلمان اگر کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ دینے والے کو خدا کے عطا کئیے گئے رزق و مال سے دیتا ہے۔

احمد عرفان شفقت said...

@ جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین:
میں آپ سے بالکل اتفاق کرتا ہوں۔ احادیث کے مطالعے سے جو صحابہ اکرام کے وقت کی ایک تصویر بنتی ہے اس کے تناظر میں جو آپ نے کہا ہے صحیح لگتا ہے۔

محمد طارق راحیل said...

جہاں تک یاداشت کا سہارا ہے
آج تک اتفاق نہیں ہوا مسجد میں افطاری کا

کاشف نصیر said...

جو گروہ داخل ہوتا ہے اسکو افطار کی کچھ نہ کچھ قیمت تو چکانی ہوگی۔

احمد عرفان شفقت said...

@ کاشف نصیر:
یہ بات بھی ہے۔

Truth Exposed said...

کبھی کبھی میرا بھی دل کرتا ھے کہ کسی حلال کی خیرات سے جا کر چاول کھاوں۔۔۔۔
مگر پھر شرم آتی ہے جاتے ہوے۔۔۔۔

Post a comment