28.1.11

مرد بڑے ظالم ہوتے ہیں

ساری زندگی عورت کو کنفیوژن میں ہی رکھتے ہیں۔کبھی تو اس کو لگتا ہے کہ میرا میاں بس مجھ کو ہی دل و جان سے چاہتا ہے اور کبھی اس کو یوں لگنے لگتا ہے کہ اس کا شوہر کسی دوسری عورت سے بھی محبت کرتا ہے۔آدمی کے طرز عمل کے مد و جزر عورت کے ان دو خیالات کا باعث بنتے ہیں۔وہ اندرونی طور پر اسی ادھیڑ بن میں سالہا سال گزار دیتی ہے۔

11 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین said...

آپ بھی خواتین کے خلاف ثابت ہوئے۔ خواتین کی کنفیوز ہونے کو جان بوجھ کر مردوں کے ظلم سے جوڑ دیا۔ یعنی آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خواتین اسقدر دانش نازک ہوتی ہیں کہ انہیں اچھی بھلی سامنے کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی ۔ ہیں جی؟۔ اب بھگتئیے گا۔

عمران اقبال said...

احمد صاحب۔۔۔ اس میں مرد حضرات کا زیادہ قصور نہیں۔۔۔ یہ خوامخواہ تین ہی ایسی ہوتی ہیں۔۔۔ جتنا مرضی ان سے پیار کیا جائے ان کو ہمیشہ شک ہی رہتا ہے۔۔۔ اس شکایت کے ساتھ کہ "کبھی سچا پیار نہیں ملا"۔۔۔ اعتماد کرنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں اور اگر کوئی خاتون اپنے شوہر پر اعتماد کرتی بھی ہو تو ان کی سہیلیاں ان کی اس اچھی عادت کو ان کےساتھ زیادہ دیر رہنے نہیں دیتی۔۔۔

افتخار اجمل بھوپال said...

بہت سے نمونے ہيں
1 ۔ خاوند اپنی بيوی کے سوا کسی اور کو نہ ديکھے ۔ کمپيوٹر کو بھی نہيں
2 ۔ خاوند اپنی بيوی کو ہميشہ ساتھ رکھے اور چاہے جتنی عورتوں کو ديکھے
3 ۔ خاوند جان بھی بيوی کے قدموں ميں رکھ دے پھر بھی محبت نہ ہونے کا شکوہ
4 ۔ خاوند پر اتنا بھروسہ کہ اس کی درست شکائت بھی کی جائے تو بيوی نہ مانے
5 ۔ خاوند بے پناہ محبت کرے اور بيوی لاپرواہ
6 ۔ خاوند لاپرواہ اور بيوی دل و جاں نچھاور کرے [ايسے خاوندوں کے ساتھ ميری جھڑپ بھی ہوئی]

اصل محبت وہ ہے جو شادی يا منگنی کے دن شروع ہو اور مرنے تک بڑھتی چلی جائے

عمران اقبال said...

انکل جی۔۔۔ محبت مر جاتی ہے۔۔۔

حجاب said...

آپ نے خود ہی لکھ دیا ۔۔ مرد ظالم ہوتے ہیں ۔۔۔ اور کہنے کو کیا رہا :razz: بہت شکریہ اس بیان کا ۔۔۔

تانیہ رحمان said...

شکر ہے مانا تو کہ مرد بڑے ظالم ہوتے ہیں ۔ میں جب بھی کہتی ہوں کہ مردوں کا معاشرہ تو غصہ ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر یہ لمبے لمبے تبصرے ۔۔ لیکن آج شکر سن کت اور دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے ۔ ویسے مردوں کو جلبی کی طرح سیدھا بھی کہا جاتا ہے ۔ کیا خیال ہے ظالم مردوں

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ said...

بڑی ہی خدمت کی ہے جی عورت نے مرد کی ۔ شکل اچھی تھی یا بری پھر بھی اچھے ماٹھے مردوں بشمول انکے والدین اور بہن بھائیوں کی بھی خدمت ہوئی ۔ امیروں کے ہاں سے آئیوں نے تو شائد اپنے ماں باپ کے پیسوں سے ہی کام چلایا ہوگا جی ۔ اب ہندو عورت کو دیکھیں کے شوہر کے ساتھ جل کر بھی مری ۔ یہ تو مسلمانوں اور گوروں کے آنے کے بعد ہی حالات بدلے بیچاری کے ۔ ناجانے اور کتنی قومیں بھی ہوں گی جنکے رنڈوے رنڈوے رہے ہونگے اوہ بیوہ بیوہ بھی رہی ہوگی ۔ شائد اب بھی کوئی قوم بچی ہو جاس میں بیوی کے ساتھ نہ ظلم ہوتا ہو اور نہ ہی طلاق ۔
یہ بھی ہو سکتا کے عورت کا کوئی آئیڈیل بنا دیا جاتا ہو جس کی جھلک اسے اپنے شوہر میں نہ مل پاتی ہو ۔ یہی کچھ اگر مرد کو بھی سکھا دیا جائے تو بہت سارے اچھی شکلوں اور عادتوں والے کپلز بھی ایک دوسرے کو مجبورا ہی برداشت کرتے ہی نظر آئینگے ۔ شکل، اطوار اور خدمت کے اپوزنگ پیٹرنز بھی چل جایا کرتے ہیں اور بات رہ جاتی ہے بس برداشت کی ۔

جاویداقبال said...

مجھےتواس بات پرعمرشریف کایہ ڈائیلاگ یادآگیاجوکہ اس نےکہاتھا۔کہ ایک عورت دوسری عورت کےپاس جاکرروناروتی ہےکہ بہن میرےدس بچےہوگئےہیں لیکن سچاپیارنہیں ملاتواب آپ بتائيں کہ سچاپیارکس چڑیاکانام ہواجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :lol:

اروسہ said...

mard hotae tu hain zalim .. isi lyae tu unhain seeda rakhna parta hai .. :P

احمد عرفان شفقت said...

@ اروسہ:
جی بالکل۔۔۔یہی تو عرض کیا گیا ہے اس پوسٹ میں :cool:

کوثر بیگ said...

مرد، تعریف کے معاملہ میں کنجوس ہوا کرتے ہیں اگر وہاپنی اس خامی کی طرف توجہ کرلے تو عورت مطمئن ہوجائے گی۔

Post a comment