23.5.11

بری لت

یہ بھی ایک عجیب مصیبت ہوتی ہے بعض لوگوں کے ساتھ۔کسی کے گھر جو جاتے ہیں مہمان بن کر تو وہاں جا کر میز بان کو کہہ کر ٹی وی پر اپنی پسند کا چینل ٹیون کروا لیتے ہیں اور پھر گھنٹوں بیٹھ کر اپنے من چاہے ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں۔ میز بان بیچارہ ساتھ میں مفت میں ٹنگا رہتا ہے۔ سوچتا رہتا ہے کہ بھئ آپ میرے گھر مجھ سے ملنے، مجھ سے باتیں کرنے کے لیے آئے تھے یا اپنے گھر کے ٹی وی بینی کے معمولات پورے کرنے؟ یہ میرا گھر ہے یا تھیٹر ہے؟وغیرہ۔

اور پھر کچھ مہمان تو آپ کو کہہ کر اپنے چینل ٹیون کروا لیتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایک قدم آگے ہوتے ہیں۔ وہ آپ سے پوچھے بغیر، آپ کو بتائے بغیر سیدھا ریموٹ پکڑتے ہیں اور آپ کے ٹی وی پر اپنی پسند کے چینل ٹیون کر کے دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کمال ہے نا۔

یہ کئی طرح سے ایک نامناسب حرکت ہے۔ ایک تو میزبان اوراسکے اہل خانہ شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہ کہ مہمان کا مطمع نظر ٹی وی تھا نہ کہ ان سے ملنا۔ دوسرا میزبان اس بات سے بھی خفت محسوس کرتا ہے کہ جو چینل ہم لوگ نہیں دیکھتے وہ ہمارے ہی گھر میں بیٹھ کر دھونس سے ہم پر ٹھونسے جا رہے ہیں۔بھئی اگر آپ ہمارے گھر آ ہی گئے ہو تو اپنی ٹی وی کی لت کو کچھ دیر کے لیے خیر باد کہہ دو اور ہم سے بات وات کر لو۔عجب بدتہذیبی ہے :(

10 تبصرے:

م بلال said...

بس جی کیا کیا جا سکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ جب ہم خود کسی کے گھر مہمان ہوں تو تب ایسی حرکات نہ کریں۔ ویسے اگر مہمان مہمان بن کر رہے تو میزبانی کا مزہ بھی آتا ہے۔ شاید ایسی بد تہذیبیوں کی وجہ سے مہمان رحمت سے زحمت کی طرف سفر کر رہا ہے۔

احمد عرفان شفقت said...

بالکل، یہ بہت ضروری ہے کہ کم از کم ہم خود وہ سب نہ کریں جو دوسروں کو کرتا دیکھ کر ہم نالاں ہو تے رہتے ہیں۔ کم از کم ہم اس رحمت سے زحمت کے سفر کا حصہ نہ بنیں۔ اور اس بات کا اطلاق صرف مہمانی میز بانی کے معاملے میں نہ ہو۔۔۔بقیہ زندگی میں بھی ہم اگر خود بھی اس سب سے اجتناب کریں جو دوسروں کو کرتا دیکھ کر برہم ہوتے ہیں تو صورتحال کافی بہتر ہو سکتی ہے۔ مثلاً ڈرا ئیونگ میں، ٹیبل مینرز کے معاملات میں، گفتگو کے آداب میں وغیرہ۔

aroosa said...

main tu uth ker apane room main chali jati hun :)

حجاب said...

میں کہیں مہمان بن کے جاؤں ٹی وی بند کروا دیتی ہوں ، اور میرے ہاں کیبل نہیں ہے تو کوئی کہتا ہی نہیں ٹی وی آن کرنے کو :smile:

احمد عرفان شفقت said...

@ aroosa:
ہیں۔۔۔یہ تو ان کو صاف میدان دینے والی بات ہے۔یہی تو ان کا ھدف ہوتا ہے کہ گھر والے نظروں سے دور ہو جائیں اور یہ لوگ صبح تک ٹیوی کے سامنے بیٹھ کر گلچھرے اڑائیں۔

@ حجاب:یقین کریں تب تو آپ ان معدودے چند خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو کیبل نامی اس ذہنی غلامی سے آزاد ہیں۔ حیرت ہے ایسا ممکن کیونکر ہوا کیونکہ گھر میں ایک آدھا بندہ اگر اس بات پر راضی ہو بھی جائے کہ یہ کیبل کی مصیبت ہمیں نہیں پالنی تو گھر والوں کی اکثریت اس کے خلاف ووٹ دے دیتی ہے اور کیبل کا عفریت گھر میں اپنے منحوس پنجے گاڑ کر ہی رہتا ہے۔

حجاب said...

احمد ، گھر میں کیبل نہ ہونے کی وجہ میں ہوں ، بھائیوں کے پاس آفس اور پڑھائی کے بعد ٹائم نہیں ٹی وی دیکھنے کا ، اور مجھے شوق نہیں ۔۔ نیوز دیکھنے کے لیئے نیٹ موجود ہے وہ بھی رات کے وقت ایک بار دیکھتی ہوں ۔۔ ایک بھائی کا ووٹ حق میں ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ احتجاج کرے وہ :smile:

قدیر احمد جنجوعہ said...

میرے پاس ایک مہمان آئے۔ میں اس وقت ایک انگریزی فلم دیکھ رہا تھا۔ تجربے نے بتایا کہ ایک 'غیر شرعی' منظر آنے والا ہے تو چینل بدل دیا۔ اب وہ صاحب بضد کہ وہی فلم لگاو۔۔۔ بندہ کی کرے تے کی نہ کرے؟
:razz:

احمد عرفان شفقت said...

@ قدیر احمد جنجوعہ:
یعنی آپ تو وہ منظر ان صاحب کی موجودگی میں دیکھنا غیر موزوں خیال کر رہے تھے لیکن وہ صاحب اس قسم کے سین کو آپ کی موجودگی میں دیکھنا نا مناسب خیال نہیں کر رہے تھے۔۔۔عجیب ہی قسم کے مہمان تھے وہ۔

قدیر احمد جنجوعہ said...

جی نہیں۔ دراصل وہ مہمان گاؤں سے آئے تھے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ انگریزی فلموں میں کیا ہوتا ہے۔ بس وہ اپنا پسندیدہ چینل لگانے پر مُصر تھے۔ جبکہ میں مذکورہ وجہ کی بناء پر چینل بدل رہا تھا۔

احمد عرفان شفقت said...

@ قدیر احمد جنجوعہ:
:)

Post a comment