3.2.10

رُوبہ زوال ہاسٹنگ

میری ہاسٹنگ سروس والے رُوپے کے لالچ کا شکار ہو گئے ہیں۔جیسا کہ زمانہ قدیم سے انسانوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔ ان کے سرورز پہ لوڈ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہماری سائٹس کا ڈاون ٹائم بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ہاسٹنگ سروس والے اس ضمن میں کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ ظاہر ہے سرور سپیس میں اضافہ کرنے کے لیئے رقم خرچ کرنا پڑتی ہے،
اس صورتحال سے میرا یہ نوزائیدہ بلاگ بھی متاثر ہوا ہے۔ مانا کہ اس پہ  قارئین فی الحال خال خال ہی آتےہیں لیکن بہرحال پھر بھی دل تو چاہتا ہے نا کہ سائٹ درست طور پر چلتی رہے۔
دیکھیں اب کیا بنتا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ خراب کارگردگی سے نالاں ہو کر جب لوگوں کی  کافی بڑی تعداد اس ہاسٹنگ سروس کو چھوڑ جائے تو سرور پہ  لوڈ خود بخود کم ہو جائے۔۔۔

6 تبصرے:

محمد ریاض شاہد said...

کونسی ہوسٹنگ کمپنی استعمال کر رہے ہیں اور پاکستانی کمپنیوں کے متعلق آپ کا کیا تجربہ ہے ۔ میں شاید مسقبل میں کسی پاکستانی ہوسٹنگ کمپنی کا انتخاب کرنا چاہوں گا مجھے کن باتوں کا خیال رکھنا ہو گا یا Godady بہتر ہے؟

احمد عرفان شفقت said...

جناب میں UA Communication استعمال کر رہا ہوں۔پاکستانی ہاسٹنگ کمپنی کا فائدہ یہ ہے کہ اکاونٹ لینے کے لئے لمبی چوڑی کاغذی کاروائی اور کریڈٹ کارڈ درکار نہیں ہوتا۔
اس کمپنی کی ہاسٹنگ کوئی سوا سال سے استعمال کر رہا ہوں۔مجموعی طور پہ ٹھیک رہا سب۔ ابھی حال ہی میں سرور لوڈ بڑھنے سے کچھ مشکلات پیش آیئں۔ لیکن اب لگتا ہے صورتحال بہتری کی طرف گامزن ہے۔ سرور لوڈ چار سی پی یُو کے لئے 10 سے گھٹ کر اب 3.3 نظر آتا ہے۔

BILLU said...

Janab hamarey saath bhi kuch aisa hi huwa tha is liye hum aapk e dukh main barabar k shareek hain

محمداسد said...

میرے خیال میں پیسہ کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوسٹنگ چارجز میں اضافہ کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔

احمد عرفان شفقت said...

بلّو، مجھے خوشی ہے کہ آپکا مسلہ حل ہو گیا ہے :)

اسد، پاک رُوپے کی قدر میں کمی نے تو غریب امیر دونوں کو یکساں متاثر کیا ہے۔ چاکلیٹ سے لے کر کیمری تک ہر چیز نازیبا حد تک مہنگی ہو گئی ہے۔

Khizer Inayat said...

www.bluehost.com

Post a comment