23.4.10

ملٹی ٹاسکنگ

میں ملٹی ٹاسکنگ کے فن کا مداح ہوں اور ان لوگوں کو توصیفی نظروں سے ہی دیکھتا ہوں جو اس فن میں یکتا ہیں ۔لیکن اس کے باوجود ملٹی ٹاسکنگ کی ایک قسم ہے جو میری سمجھ سے باہر ہے اور اس کے لیے میں ستائشی احساسات بھی اپنے دل میں نہیں پاتا۔ میرا ذہن اس بات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ لوگوں سے باتیں بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ آپکی انگلیاں ہاتھ میں پکڑی تسبیح پہ بھی باقاعدہ چل رہی ہیں۔آپ دوسروں سے گفتگو بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ذکر بھی جاری ہے۔ کانکرنٹلی۔ آخر کیسے ہوتا ہے یہ؟

14 تبصرے:

محمد ریاض شاہد said...

سنا ہے کراچی کے میمن اس فن کے ماہرہیں کہ ایک ہی وقت میں دو دو سودے طے کر رہے ہوتے ہیں ۔ شاید ٹریننگ کی بات ہے ۔ پہلے پہل مشکل ہوتی ہے پھر عادت ہو جاتی ہے

احمد عرفان شفقت said...

جی بالکل۔ اس قسم کی ملٹی ٹاسکنگ سے تو میں شناسا ہوں۔ وہ تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن یہ تسبیح بھی چلاتے جانا اور ساتھ باتیں بھی کرتے جانا والی بات۔۔۔فی لحال ناقابل فہم ہے میرے لئے۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

سائنس کہتی ہے کہ دماغ میں لاتعداد پراسیسرز ہیں جو پیرلل میں کام کرتے ہیں اور ریئل ملٹی ٹاسکنگ (پیرلل پراسیسنگ ) کا بھی کوئی پرابلم نہیں ۔ ہاتھوں، پیروں، کانوں، آنکھوں اور ناک کی مدد سے ایک سوزوکی چلانے والا بھی اس حقیقت سے لا علم ضرور ہو سکتا ہے مگر انکار نہیں کرسکے گا ۔ تسبیح کا استعمال اس دنیا کے بہت سارے معاشروں اور خطوں بکثرت ہوتا ہے ۔ یہ بات الگ ہے کہ کوئی دوسرا جان کر چھوڑنا چاہے کہ تسبیح کے فلاں دانے کا خاص کوڈ کیا ہے ۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

سوری! میں زبان کا استعمال بھول گیا ۔

احمد عرفان شفقت said...

تسبیح کے دانے پر خاص کوڈ کن مقاصد کے لیئے استعمال ہوتا ہے؟ یہ ویسے پہلی بار سنا ہے تسبیح کے کوڈ کا۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

کہیں کسی کی تفریح کسی کی دل آزاری کا سبب بھی بن جاتی ہے اور کہیں پر انداز اینجوائمنٹ بھی اپنا اپنا اور اظہار جیلیسی بھی اپنا اپناپر بھی نارضگی نہیں ہوتی ۔مجھے تسبیح کی تفریح یا تعریف میں قطعا دلچسبی نہیں، چلیں ایک اور مثال دیتا ہوں جسمیں دماغ ذبان سے ٹائم شیئرڈ آپریشن کرالے ۔ آپ نے یقینا گاڑی تو چلائی ہوگی اور ساتھ بیٹھے لوگوں سے بات چیت کے دوران گاڑی سے باہر کسی سخص کو کچھ ایسا ویسا کہا ہوگا جو کسی دوسرے نے سنا نہیں ہو گا لیکن محسوس ضرور کیا ہوگا ۔ بات ہے اپنے اپنے محسوس کرنے کی ۔ اچھا محسوس کریں یا برا ۔اور مرضی ہو تو اچھا اچھا یا برا برا بھی ۔ مرضی ہو تو مزید، مہا یا کس بھی فارن لینگویج کا کوئی بھی ورڈ ۔

عبداللہ said...

تسبیح پر انگلیاں چلانا ماہر نفسیات ذہن کو ریلیکس رکھنے کے لیئے بھی تجویز کرتے ہیں!

احمد عرفان شفقت said...

ذہن کو ریلیکس رکھنے کے لیئے ؟یعنی صرف انگلیاں چلانا؟ چاھے کچھ پڑھ نہ رہے ہوں ساتھ؟

پھپھے کٹنی said...

ميرے ابو بھی ميری امی کی اس حرکت سے بہت تنگ ہوتے ہيں جہاں دو تسبيح والے کھڑے باتيں کر رہے ہوں ابو آواز دے کر سب سے آپکی طرح گھتی سلجھوانے کی کوشش کرتے ہيں کہ باتوں کے دوران دانے کيسے گر رہے ہيں مگر جواب کہيں سے نہيں ملتا کفر کا فتوی کسی نے تھوڑی لگوانا ہے اپنے اوپر

احمد عرفان شفقت said...

چلو کوئی اور بھی اس عجیب بات پہ متجسس ہوتا رہا ہے، یہ جان کر خوشی ہوئی :)

عمار ابنِ ضیا said...

میں بس اتفاق سے گھومتا پھرتا یہاں پہنچ گیا ہوں، اگرچہ تحریر خاصی پرانی ہے۔ میں اکثر کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے ٹانگیں ہلاتا رہتا ہوں یا کام کرتے ہوئے موسیقی سننے لگتا ہوں۔
آپ نے ملٹی ٹاسکنگ میں باتیں کرتے ہوئے تسبیح چلانے کا ذکر طنزیہ انداز میں کیا ہے۔ ضروری تو نہیں کہ اگر کوئی صاحب تسبیح چلارہے ہوں تو اس کو ذکر میں شمار کررہے ہوں۔

احمد عرفان شفقت said...

@ عمار ابنِ ضیا:
آپ کی بلاگ پر آمد باعث مسرت ہے میرے لیے۔

آپکا مطلب ہے تسبیح کوئی بس یوں ہی انگلیوں کو حرکت دینے کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔بغیر کچھ پڑھے؟ اگر ایسا ہے تو یہ ایک عجیب سی بات ہے۔

عمار ابنِ ضیا said...

@ احمد عرفان شفقت:
اصل میں کچھ لوگوں کو ہر وقت تسبیح کے دانے گھمانے کی عادت ہوجاتی ہے، ہوسکتا ہے انہیں تسکین ملتی ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ ان کے ذہنی دباؤ کو ظاہر کرتی ہو۔ جیسے مجھے بیٹھے ہوئے ٹانگوں کو حرکت دے کر ایک دفعہ میرے والد صاحب نے مجھ سے پوچھا تھا کہ تمہیں کوئی ٹینشن ہے کیا؟ میں نے کہا، نہیں نہیں، کیوں؟ تو انہوں نے بتایا کہ اس طرح ٹانگوں کو حرکت دینا بے چینی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

احمد عرفان شفقت said...

اگر تو معاملہ ذہنی تناو رفع کرنے کے لیے تسبیح کے دانے بنا کچھ پڑھے محض گھمانے کا ہے تو پھر تو یہ لائن ہی فرق ہو گئی۔
میں تو ان پر حیراں ہو رہا تھا جو باتیں وغیرہ بھی کرتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ تسبیح پر ذکر بھی۔

Post a comment