24.4.10

دوست،دوستی،دوستیاں،دوستانے

یہ سو کالڈ سوشل نیٹ ورکنگ کی جو سائٹس ہیں ان کی ضرورت سے زیادہ تعداد معرض وجود میں آ چکی ہے۔ شروع شروع میں جب مثلاً آرکٹ آیا تھا تو ایسی سائٹس کا آئیڈیا کچھ کشش رکھتا تھا اپنے اندر۔ اب جس پیمانے پہ نیٹ ورکنگ کے یہ سلسلے دستیاب ہیں انٹرنیٹ پر اتنی نیٹ ورکنگ کی کسی معقول انسان کو ہرگز ضرو رت نہیں۔ اپنے خاندان اور ہمسائیوں سے چاہے مہینوں،سالوں نہ ملو، سات سمندر پار اجنبیوں سے روابط کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دو۔ گھر کے افراد جن کے ساتھ سالوں سے ایک چھت تلے زندگی گزار رہے ہوتے ہو ان کے احساسات اور دلی کیفیات سے تو کوئی آگاہی نہ ہو لیکن جن کے ساتھ سالوں پہلے کسی ادارے میں الٹا سیدھا کچھ وقت گزارا تھا ان سے رابطہ دوبارہ قائم کرنے کے لیے لامتناہی وقت کمپیوٹر پہ گزار دو۔ کمال ہے۔

باقی سکول، کالج، یونیورسٹی کی دوستیوں کی جہاں تک بات ہے تو دیکھیئے وقت کے ساتھ ہمارا ذہنی معیار تبدیل ہوتا ہے۔ زندگی کے تجربات ہماری سوچوں اور خیالات کو بدلتے رہتے ہیں۔ ہماری پسند اور ترجیحات میں گزرتے سالوں کے ساتھ بہت تبدیلی آ جا تی ہے۔ ہمارے آیڈیئلز اور گولز بھی بدل جاتے ہیں۔ بہت سی چیزوں اور سرگرمیوں کو ہم آوٹ گرو کر جاتے ہیں۔ یہ شخصیت کی میچوریٹی اور بالیدگی کا عمل ایک خوش آئند بات ہوتی ہے۔ اسی کے پیش نظر انہی لوگوں کے ساتھ اسی انداز میں دوستی نبھانے کا عمل آج بھی ویسے ہی جاری رکھنا جیسے کئی سال پہلے شروع کیا تھا ایک مقام پہ پہنچ کر ناممکن ہو جاتا ہے۔ جو کتابیں رسالے آپ کچھ سال پیچھے خرید کر پڑھتے تھے اب ان کو مفت بھی ہاتھ تک لگانا نہیں پسند کرتے۔ وہ لطیفے جن پہ آپ دل کھول کر تب ہنستے تھے اب ان پہ ٹھیک سے رونا بھی نہیں آتا۔ وہ سرگرمیاں جن کو کچھ سال پہلے آپ زندگی کا حاصل سمجھتے تھے آج وہ آپ کو لایعنی لگتی ہیں۔اس سب کے نتیجے میں آپ ان لوگوں کے بیچ اور وہ آپ کی موجودگی میں ان ایزی محسوس کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔آخر کار کنارہ کرتے ہی بنتی ہے۔

اب رہ گیا یہ سوال کہ پھر یہ جو ان گنت لوگ پرانی دوستیاں اور یاریاں بخوبی نباہ رہے دکھائی دیتے ہیں یہ کیونکر ممکن ہوتا ہے ان کے لئے۔ تو اس کے لئے آپ اگر ان کی صورتحال کو قریب سے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ بات وہ نہیں ہے جو نظر آتی ہے۔ ایک دوسرے کو جگر جگر کہنے والے حقیقت میں ایک دوسرے سے کس قدر ناک دم آئے ہوتے ہیں اس کے لئے آپ ان میں بیٹھ کر ان کی گفتگو ان میں سے اس کے بارے میں سنیں جو اس وقت وہاں موجود نہیں ہے۔ تب آپ جان پا ئیں گے کہ یہ ”دوست“ایک دوسرے کے بارے میں کسطرح سوچتے ہیں۔ کوئی اس بات سے تنگ ہے کہ فلاں دوست نے پہلے بھی کچھ رقم ادھار کا کہہ کر لی تھی ۔وہ تو ابھی تک لوٹائی نہیں اوپر سے آج پھر ایک اور دوست کے ذریعے کچھ مزیدرقم منگوا لی۔ اسی طرح کوئی رونا رو رہا ہے کہ فلاں دوست گاڑی مانگ کر لے گیا تھا۔حادثہ کر کے واپس لے آیا ہے۔ اب میں پریشان ہوں کیا کروں؟ کوئی اس بات سے نالاں ہے کہ مجھے محض دوستیاں نباہنے کے لئے، دوستوں کے شکوے اور ناراضگی سے بچنے کے لیے ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑتا ہے جن کو میں دل سے اچھا نہیں سمجھتا ۔کوئی اس بات سے کبیدہ خاطر ہے کہ میرا دوست میرے اہل خانہ کے ساتھ نامناسب حد تک گھل مل چکا ہے اور میرے گھریلو معاملات میں نا گوار قسم کی مداخلت کا مرتکب ہوتا رہتا ہے لیکن کیا کروں کہہ نہیں سکتا کھل کر کہ کہیں دوستی متاثر نہ ہو۔ کوئی اس بات پر بیٹھا دل جلا رہا ہے کہ جب سے اللہ نے مجھ پر فضل کیا ہے اور میری مالی حالت پہلے سے کہیں بہتر ہو گئی ہے تب سے میرے دوستوں نے باقاعدہ حسد و بغض کا رویہ اپنا لیا ہے۔کوئی اس بات پہ زچ ہے کہ دوست کام، کاروبا ر والی جگہ پر بلا مقصد گھنٹوں آ کر بیٹھے رہتے ہیں لیکن کچھ کیا نہیں جا سکتا اس مصیبت کا، کوئی اس بات سے عاجز آیا ہوا ہے کہ دوست آرام کے وقت اور پرایویسی کا کچھ خیال نہیں رکھتے۔یعنی عجب ريا کاری ،مکر ، فريب ، منافقت اور تصنع سے سلسلے چل رہے ہوتے ہیں اصل میں لیکن لگ کچھ اور رہا ہوتا ہے سب کو۔

آٹھ رشتے مقدم ہیں: ماں، باپ، بہن، بھائی، میاں، بیوی اور بیٹا، بیٹی۔ ان میں دوستیاں تلاش کرنی چاہییں۔
نہیں؟
تو پھر ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے یہ بات تو بہرحال ہے ہی کہ جتنا وقت، توانائی اور وسائل مخلوق کے آگے پیچھے بھاگنے میں صرف کیے جاتے ہیں اتنے اہتمام سے اگر خالق کو مرکز توجہ بنا لیا جاے تو تنہائی کا احساس ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے۔تمام کام بھی نکلتے جاتے ہیں۔

15 تبصرے:

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

بات اچھی کہی آپنے ۔ اچھائی اور اچھی برائی تو یوں بھی لازم و ملزوم ہیں ۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

اور ساتھ ہی میں اگر برائی اور بری اچھائی سے بھی جان چھڑانا بھی مشکل ہو تو ؟

احمد عرفان شفقت said...

وہ تو ہے لیکن اچھی اچھائی اور بری برائی بھی تو ہیں نہ ساتھ ساتھ۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

اچھی اچھائی اور بری برائی کے بارے میں کسی سے سنا یا کہیں سے پڑھا تو نہیں ہے اور اگر آپ اس بارے میں جانتے ہیں تو پلیز وضاحت کردیں ۔

احمد عرفان شفقت said...

آپ نے جو اچھی برائی اور بری اچھائی کا ذکر کیا وہ پوری طرح سمجھ نہیں آیا سو میں نے بتانے کی کوشش کی کہ برا ئی تو بری اور اچھائی تو اچھی ہی ہوتی ہے۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

اچھا ٹائم پاس ہو رہا تھا اب تفریح کوسیریس تو نہ کریں پلیز اور اب ویک اینڈ بھی ختم ہو گیا ہے ۔

محمد ریاض شاہد said...

ہاں اس سلسلے میں توازن کی ضرورت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ فیس بک مجحے اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے رابطہ استوار کرنے میں‌مدد کرتی ہے مگر مجحے اپنی فیملی کو بھی اسی قدر وقت دینا چاہیے ۔ وہ کیا حدیث بھی ہے کہ جس کا مطلب ہے کہ 'ہر کام کا درمیانہ درجہ بہتر ہوتا ہے ' ۔ اب اگر موبائل فون مجھے اپنے چاہنے والوں سے دور کر رہا ہے تو زحمت ہے اور اگر مدد کر رہا ہے تو رحمت ہے ۔

احمد عرفان شفقت said...

بالکل جناب، توازن کی بہت اہمیت ہے زندگی میں مگر اسے برقرار رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی ضرورت جاننے کے باوجود بھی ہم مختلف وجوہات کی بنا پر توازن رکھ نہیں پاتے۔ یا اگر کبھی رکھ بھی لیں تو استقامت اور تواتر سے نہیں رکھ پاتے۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

آئکان کی سیلیکشن میں لگتا ہے کافی جدوجہد کی ہے ۔ تصویر و آواز کا بھی انتظار نہ کیا ؟
فلاں فلاں بھی اپنا اپنا ۔ معاف کر دی جئے گا ۔

پھپھے کٹنی said...

يہ فيس بک پر تو ٹائم ضائع کرنے کے حق ميں نہيں ہوں ميں البتہ آپکی تحرير سے بھی متفق نہيں ساری دوستياں مطلبی نہيں ہوتيں لانگ لائف ميں وہی دوستياں ساتھ چلتی ہيں جن ميں دم ہوتا ہے باقی ادھار وار کے ليے دوستياں تو شارٹ ليوڈ ہوتی ہيں اور جو آٹھ رشتے بتائے ہيں يہ تو نرے درد سر ہوتے ہيں جتنا ان سے دور رہا جائے اسی ميں بھلائی ہے

پھپھے کٹنی said...

آپ خاصے بڈھے ہو گئے ہيں عمر کے ساتھ کافی تبديلياں آئی ہيں مگر ہميں کيوں ڈرا رہے ہيں ہمارے تو کھانے پينے کے دن ہيں ابھی

احمد عرفان شفقت said...

آپ نڈر ہو کے کھائیں پیئیں :) ساری کی ساری دوستیاں مطلبی نہیں ہوتیں۔ مستثنیات تو ہوتے ہی ہیں نا۔لیکن اگر ان آٹھ رشتوں سے بھی دوری ہو جائے تو خاصا خلا نہیں پیدا ہو جائے گا؟

خرم ابن شبیر said...

ایسی باتیں دوستوں میں ہی نہیں رشتہ داروں میں بھی پائی جاتی ہیں ہر کوئی اپنا اپنا رونا رو رہا ہوتا ہے آپ کی بات درست ہے کہ دوستاں گھر میں ہی تلاش کریں تو مسئلے ختم ہو سکتے ہیں

احمد عرفان شفقت said...

رشتہ داروں، برادری والوں میں تو خیر ایسی باتوں کی اپنی ہی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ کثیر مقدار میں۔

خرم ابن شبیر said...

جی ہاں اور بہت سی مثالیں بھی مل جاتی ہیں ہر برادری میں

Post a comment