27.4.10

ٹیلیفون پہ بات کرنے کی بابت دو باتیں:

پہلی تو یہ کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ فون پہ آپ سے بات کرنے والا شخص یہ جان لے کہ آپ کو اس سے بات کر کے خوشی ہو رہی ہے تو بس اتنا کریں کہ جب کسی کا فون آئے تو آپ مسکراتے ہوئے کال اٹینڈ کریں۔ دوسرا شخص گو کہ آپ کی مسکراہٹ دیکھ نہیں سکے گا لیکن ایک خوشگواری کا احساس لازمی محسوس کرے گا۔سو اسے آپ سے بات کر کے خوشی ہو گی۔آپ کی مراد بر آئے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ سے فون پہ بات کرنے والا شخص جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جائے اور آپ سے بات کر کے اس کو بدمزگی کا احساس ہو تو اس کے لیئے آپ کو بس اتنا کرنا ہو گا کہ فون پہ اس سے بات کرنے کے دوران آپ کچھ کھاتے رہیں۔ اگر ساتھ ساتھ کچھ پی بھی رہے ہوں تو نتائج اور بھی موثر ہوں گے۔

جب بھی وہ شخص اپنا فقرہ ختم کر کے آپکے جواب کی توقع کر رہا ہو گا اس وقت آپ کی طرف سے اس کو کھانا چبانے اور کچھ گھونٹ نگلنے کی آوازیں آ رہی ہونگی۔پھر کچھ تاخیر سے اس کو آپ کی بات سننے کو ملے گی تو ضرور مگر اس میں تسلسل نہ ہو گا۔ آپکا فقرہ بار بار کھانا چبانے اور نگلنے کے عمل کے باعث تعطل کا شکار رہے گا۔

جب تقریباً ہر فقرے پہ ایسے ہی ہو گا تو اس شخص کا تلملانا فطری بات ہے۔ پھراگر تنگ آ کر وہ شخص آپ سے استفسار کرے کہ آیا آپ کچھ کھا رہے ہیں تو لازم ہے کہ آپ اس کے اس سوال کو نظر انداز کر کے اپنی بات جیسے تیسے جاری رکھیں۔ اس سے اس کے صبر کا پیمانہ مزید لبریز ہو جائے گا۔آپ کی بات بن جائے گی۔

20 تبصرے:

پھپھے کٹنی said...

کيا طريقہ بتايا ہے دوئم والا اب آ جانے ديں ميری ساس کا فون ، مونگ پھلياں اور پيپسی فون کے ساتھ رکھ چھوڑی ہے

احمد عرفان شفقت said...

شاید آپکو معلوم نہیں۔۔۔آپکی ساس بقلم خود میرا یہ بلاگ پڑھتی ہیں۔آپکا یہ کمینٹ انہوں نے جو پڑھ لیا تو؟ِ

عاکف said...

اور ان حضرات کے بارے میں کیا خیال ے جو آپ سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پاس موجود کسی شخص سے بھی محو گفتگو ہوں؟ اب جب اچانک لائن کی دوسری طرف موجود صاحب گالیوں کی بوچھاڑ شروع کر دیں تو مجھے کیوںکر پتہ چلے کے وہ مجھ سے نہیں بلکہ اپنے سامنے کھڑے مالی یا ڈرائور سے مخاطب ہیں؟

محمد ریاض شاہد said...

جی ہاں 17 وغیرہ پر کام کرنے والے افراد کو تربیت تو اسی بات کی دی جاتی ہے کہ مسکراتے ہوئے فون وصول کریں اور دوران گفتگو شائستگی برقرار رکھیں ۔ ہماری جاننے والی خاتون بیان کرتی ہیں کہ جب ان کا پانچ سالہ بیٹا بھاں بھاں کر کے رونے لگتا ہے اور کسی طرح چپ نہیں ہوتا تو وہ 17 ڈائل کر کے فون بچے کو تھما خود گھریلو کام کاج میں مصروف ہو جاتی ہیں
یہ بات انہوں نے کچھ سال قبل سنائی تھی آجکل شاید 15 ڈائل کرتی ہوں گی

احمد عرفان شفقت said...

عاکف، یہ بھی بہت عجیب صورتحال ہوتی ہے جب فون پر بات کرتے ہوئے دوسرا بندہ اپنے پاس موجود کسی شخص سے بات کرنا شروع کر دے اور بات بھی ایسی جو اتنی خوش کن نہ ہو۔میں تو بعض اوقات کہہ دیتا ہوں ایسے موقعہ پہ کہ بھائی میرا خیال ہے آپ پہلے ان صاحب سے بات کر لیں ، میں آپ کو پھر فون کر لوں گا۔

ریاض صاحب، 17 کا یہ استعمال بھی خوب ہے جو آپ نے ذکر کیا ہے :)

یاسرخوامخواہ جاپانی said...

واقعی ایسی حرکات کر نے والے حضرات کافی مقدار میں ھوتے ھیں۔لیکن یہ حضرات فون پر بات کر والے کو اپنی اھمیت جتانا چاھتے ھیں۔ایسوں کو میں عموما حضرت بےچارہ کے نیک نیم سے یاد کرتا ھوں۔بعض اوقات بے سینگ والے حضرت۔

احمد عرفان شفقت said...

حضرات کے شانہ بشانہ خواتین بھی فعال ہیں اس شعبے میں جناب۔

خرم ابن شبیر said...

میرا تو خیال ہے اس بات کی نوبت ہی نہیں آنی چاہے صاف کہہ دینا چاہے کیہ میں مصروف ہوں پھر بات کروں گا ایسا کرنے سے کیا فائدہ :(

احمد عرفان شفقت said...

ہمارے ہاں صاف بات کہہ دینے سے دوسرے ناراض ہو جاتے ہیں فوراٌ۔ ہمیشہ کے لیئے۔

جاہل اور سنکی، جہالستان said...

دوسروں سے کسی حد تک سچ اگلوالینا اور خود دوسروں سے آبجیکٹیو جھوٹ بول دینا تو سیولائزڈ ہونے کی پہلی شرط ہے ۔

خرم ابن شبیر said...

اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے شکر اللہ کا میرے جتنے بھی دوست ہیں وہ سب سمجھتے ہیں اور ہم ایسے ہی کرتے ہیں صاف صاف بات کرتے ہیں ابھی فارغ نہیں ہیں بعد میں بات کریں گے خیر اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے

سعد said...

دوسرا طریقہ پسند آیا۔
مگر کال کرنے والا اگر گھنٹوں کے حساب بات کرنے والا پیکج آن کر کے بیٹھا ہو تو وہ آپ کے کھانے پینے کو ہرگز مائنڈ نہیں کرے گا :-D

احمد عرفان شفقت said...

یہ تو ہے سعد۔ پیکیج والے تو دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہوتے ہیں بات کرتے ہوئے۔

جعفر said...

یہ طریقے تو صرف پاکستان میں‌ہی کام آسکتےہیں
ملک سے باہر تو جی ہر بندہ صرف کام ہو تو فون کرتا ہے
کدھر ہو؟
لولو میں
آرہا ہوں۔۔
فون بند۔۔۔
ویسے 'بندے تپانے کے سو طریقے' نامی کتاب لکھنے کے لئے یہ اچھا آغاز ہے

احمد عرفان شفقت said...

یہ کتاب والا آئیڈیا خوب دیا ہے آپ نے (:

شازل said...

پہلے تو کسی لڑکے کی آواز آتی تھی کہ آپ کا انعام نکل آیا ہے لیکن اب کچھ عرصہ سے کسی نہ کسی لڑکی بھی فون آنے لگا ہے کہ آپ کا انعام نکل آیا ہے
میں نے کہا بہت شکریہ لیکن یہ میری طرف سے آپ رکھ لیں
تو کہنے لگی ، آپ اسے وصول تو کر لیں‌پھر جس کی دینا ہو دے دینا
مطلب کچھ کھا رہے ہوں‌یا پی رہے ہوں کبھی کبھار جان اتنی جلد خلاص نہیں‌ہوتی

احمد عرفان شفقت said...

ارے ہاں شازل، یہ والی تو خیر مخلوق ہی الگ ہے۔۔۔سفید جھوٹ بول کر لوگوں کو بہتر معیشت کے خواب دکھانے والی۔ یہ لوگ تو نہیں پیچھا چھوڑتے چاہے آپ کھا رہے ہوں چاہے نہا رہے ہوں۔ ان کے سر پہ تو بس دھن سوار ہوتی ہے کہ غلط بیانی کر کے اپنے لیئے حرام کے دو پیسے کما لیں۔

افتخار اجمل بھوپال said...

کہنے اور کرنے ميں بہت فرق ہوتا ہے ۔ ويسے آپ کی يہ تحرير پڑھ کر وہ افسر ياد آيا جو اپنے سے بڑے افسر کو ٹيلفون کھڑے ہو کر کرتا اور جب بڑا افسر بولتا تو وہ سلام سر کے ساتھ باقاعدہ سليوٹ مارتا
:smile:

احمد عرفان شفقت said...

یہ مضحکہ خیز منظر میں نے بھی دیکھا ہےجو ان لوگوں کے انفرادی سوچ سے عاری پری پروگرامڈ ذہنوں کا پتا دیتا ہے۔

دعا said...

تجربات ہیں ذندگی کے

Post a comment