13.5.10

کم از کم ہم دبئی تو نہیں ہیں

”جارج کا پاکستان“ والا جارج یاد ہے نا آپکو؟ اس برطانوی صحافی کا پورا نام جارج فلٹن ہے (جسے بعض اوقات میں فُل ٹُن بھی پڑھا جا سکتا ہے)۔

حال ہی میں جارج کا ایک مضمون دی ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہوا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ گو کہ ان دنوں ہم پاکستان میں اتنے خوش نہیں ہیں لیکن شکر ہے پاکستان دبئی نہیں ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ، دھماکوں اورمیڈیا کے ذریعے مسلسل پھیلائی جانے والی قنوطیت اور بے یقینی سے بیزار ہو کر میں نے سوچا کہ چند دن دبئی جا کر کچھ چین اور سکوں پاوں۔مگر یہ تو بڑی غلطی ہوئی۔دس دن بعد ہی میں کراچی کی آلودہ مگر کہیں زیادہ سہانی فضا ؤں کو ترستا واپس آن پہنچا۔دبئی میں دنیا کی سب سے بلند عمارت اور دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال ضرور ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ احساسات و جذبات سے عاری ہونے میں بھی یہ شہر اول نمبر پر ہے۔یہ محض شیشے اور لوہے سے بنا ایک بے روح پلاسٹک کا شہر ہے۔

دبئی نے مغربی معاشرے کے منفیات جیسے ماحولیاتی آلودگی، بکثرت اصراف وغیرہ تو اپنے ہاں درآمد کر لیے ہیں لیکن وہاں کی کوئی کار آمد چیز جیسے آرٹ یا جمہوریت وغیرہ کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔ دبئی بس نفس پرستوں کے لیے فوری لذت کی دستیابی کے سامان لیے ہوئے ایک شہر کے طور پر بنایا گیا ہے جہاں تیز رفتار زندگی نفسانی خواہشات کے پجاریوں کی منتظر ہے۔ یہ شہر یوں لگتا ہے جیسے لاس ویگاس نے بس دشداشہ پہن لیا ہے۔

دبئی میں قیمتی ترین شراب سے لے کر مہنگی ترین چھنال سب دستیاب ہے۔ وہاں کے شاپنگ مالز، کیپیٹل ازم اور مادیت کے گڑھ، زندہ مُردوں کے مزار دِکھتے ہیں۔بے کیف اور اداس روحیں ان مالز میں ہمہ وقت بھٹکتی دکھائی دیتی ہیں کہ اپنی زندگی کے خلاوں کو بھانت بھانت کی چیزوں، ملبوسات اور فاسٹ فوڈ سے شاید پُر کر سکیں۔مال آف ایمیریٹس میں اذان کی آواز گونجتی ہے مگر کوئی بھی نماز کو نہیں جاتا۔ سب سٹیلا میک کارٹنی، گُچی،پراڈا کو سجدہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ مختلف قومیتوں کے لوگ بڑے بڑے چشموں اور بڑے بڑے بیگوں سے لیس ،طرح طرح کے آدھے پورےلباس پہنے،سٹیٹس اور دولت کی دوڑ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور پیچھے چھوڑنے کی دھن میں وہ کپڑے جنہیں وہ کبھی نہیں پہنیں گے اور وہ کتابیں جنہیں وہ کبھی نہیں پڑھیں گے، اندھا دھند خریدتے دکھائی دیتے ہیں۔

اعلی اقدار کے فقدان کے ساتھ ساتھ دبئی معاشی دیوالیہ پن کا بھی شکار ہو چکا ہے۔حکمرانوں کی عجیب و غریب سوچ اور اول جلول منصوبہ بندی کے باعث دبئی اب 80 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔وہاں کی سٹاک مارکیٹ اور پراپرٹی مارکیٹ کے پڑخچے اڑ چکے ہیں۔ماضی قریب میں نظر آنے والی ترقی محض خواب اور سراب ثابت ہوئی ہے اور اب مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے۔

سو وہ سب لوگ جو پاکستان کو اس کے مسائل کی وجہ سے کوستے رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ تھوڑا قرار پکڑیں اور ہر وقت کے طعن و تشنیع اور رونے دھونے سے ذرا رک کر پاکستان کی ثقافتی ، مذہبی اور لسانی تنوع اور خوبصورتی پہ بھی ایک نظر ڈالیں۔ ٹھیک ہے بہت چیزوں کا فقدان ہے مگر ہم جمہوریت کی نعمت سے تو مالا مال ہیں۔ ہماری میڈیا غیر ذمہ دارسہی مگر ہے تو بہت مستحکم۔ بد عنوانیاں ہیں مگر ہم پولیس سٹیٹ تو نہیں ہیں۔ چار سو کوڑا کر کٹ ہے تو کاغذ اکٹھا کرنے والے بھی تو ہیں۔

آخر میں جارج کہتا ہے کہ پاکستان میں کیڑے نکالنے والے یاد رکھیں کہ یہ ملک روح و جان اور زندگی کی حدت سے بھرپور ہے۔ کم از کم یہ دبئی تو نہیں ہے۔

جارج کے اس مضمون پر بہت سے قارئین نے اپنے اپنے تبصرے کئے ہیں. انہیں پڑھے بنا اس مضمون کا تاثر ادھورا رہتا ہے. طرح طرح کی آراء ہیں۔مثلآ ایک صاحب عمر زبیر اعوان صاحب کہتے ہیں کہ کراچی میں بھی خوشحال طبقے کے یہی انداز ہیں اور بھینس کالونی، مچھر کالونی اور فقیر کالونی کے باسیوں کو کلفٹن کے پل کی دوسری جانب جا کر ویسا ہی لگتا ہے جیسا جارج نے دبئی جا کر محسوس کیا۔

پھر کانر پارسل نامی ایک صاحب نے جارج کے اس مضمون کے بعد جو ایک جوابیہ مضمون لکھا وہ بھی پڑھنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔

جارج کا یہ مضمون یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

15 تبصرے:

دبئی والو ۔ ۔ ۔ ۔ - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز said...

[...] جی بہت شکریہ۔ تلاش رزق میں انسان کو بڑےبڑےکٹھن حالات میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہم سب لوگ بھی اسی طرح کی مشکلات کو فیس کر رہے ہیں۔ دبئی کے متعلق ایک مضمون نظر سے گزرا، ۔ وقت ملے تو پڑھ لیجیے۔ احمد عرفان شفقت [...]

یاسر عمران مرزا said...

شکریہ احمد صاحب۔ ایک اچھی معلوماتی تحریر ہے آپکی

محمد ریاض شاہد said...

شکر ہے میں پاکستانی ہوں اور پاکستان میں ہوں ۔ جارج فلٹن جو مرضی کہے ہم میں سے زیادہ تر تو اسے نری دقیانوسیت گردانتے ہیں ۔ دل کی موت کی کسے پرواہ ہے جسم کو ہر آن کچھ نیا چاہیے

فکر پاکستان said...

اپنے پاکستانی یا کراچی کے لوگوں کو دبئی جانے کا موقعہ ملے تو وہ سب چھوڑ چھاڑ فٹا فٹ بھاگیں گے ۔۔ غیر پاکستانی کے ایسے نادر خیالات پڑھ کر خوشی ہوئی ۔۔

پھپھے کٹنی said...

جارج نے بھی لگتا ہے سياست سيکھ لی ہے خوش کرنے کو لکھا ہے يہ مضمون اس نے پاکستانيوں کو

احمد عرفان شفقت said...

یاسر صا حب، پسندیدگی کا شکریہ۔

ریاض صاحب، بہت خوب بات کی ہے آپ نے۔ میں بھی ایسا ہی سوچتا ہوں اس بارے میں۔

فکر پاکستان، ایسا اس لیے ہے کہ ان ممالک میں آمدن بہتر ہو جاتی ہے۔ کچھ سال میں خاطرخواہ بچت ہو جاتی ہے۔

پھپھےکٹنی صاحبہ، جارج نے اس مضمون میں ہم کا صیغہ استعمال کیا ہے بجائے آپ کے۔ یعنی اس نے خود کو پاکستانی ہی شمار کیا ہے۔

محب علوی said...

اچھی رجائیت پسند تحریر ہے اور میرا خیال ہے دور کے ڈھول سہانے والی بات زیادہ دل کو لگتی ہے۔

شازل said...

میں‌نے بہت کم لوگوں کو پاکستان کی تعریف کرتے دیکھا ہے اور تو اور خود ہمارے ہی لوگ اس ملک کو کوستے دکھائی دیتے ہیں
بٹن دبایا اور ریکارڈ شدہ آواز چل پڑی
پچھلے دنوں جاوید چوہدری کے ایک کالم میں ایک سفارت کار نے بھی پاکستانیوں اور پاکستان کی تعریف کی تھی گو وہ گفتگو آف دی ریکارڈ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جعفر said...

شکم لئے پھرتا ہے جی بندے کو جگہ جگہ
ورنہ جنم بھومی سے اچھی جگہ پوری دنیا میں‌کوئی نہیں‌ہوتی

محمد اختر said...

احمد بھائی
یہ باتیں اب صرف لکھنے اور پڑھنے کے لیے رہ گئی ہیں، اگر پاکستانیوں کو پاکستان سے محبت ہوتی تو وہیں بیٹھے ہوتے، سب کو پیسے سے محبت ہے بس۔

نعمان said...

بہت ہی اچھا ترجمہ کیا ہے آپ نے۔ اصل تحریر کا صحیح لطف من و عن منتقل کردیا ہے۔

سعد said...

بہت عمدہ جناب۔
کہیں آپ بھی محب وطن تو نہیں؟

احمد عرفان شفقت said...

وہ تو میں ہوں۔

ابوشامل said...

مضمون تو اچھا ہے ہی لیکن مجھے تو آپ کی ترجمہ کرنے کی صلاحیت نے متاثر کیا ہے۔ بہت ہی زبردست۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اچھے مقالوں، مضامین اور معلومات کا انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے کے لیے آپ جیسی صلاحیت کے حامل لوگ آگے آئیں۔
میری گزارش ہے کہ اچھے مضامین کے تراجم پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھیے گا۔

احمد عرفان شفقت said...

ابو شامل، آپ نے پسندیدگی کے اظہار میں جس فیاضی سے کام لیا ہے اس سے حقیقتآ میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔میں انشاءاللہ تراجم کا سلسلہ حسب توفیق جاری رکھوں گا۔

Post a comment