24.5.10

انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں ہم آہنگی

منظر نامہ نے نقطہ نظر بیان کرنے کے لئے بہت حسب حال موضوع دیا ہے۔ بات یہ ہے کہ جہاں بھی کچھ انسان اکٹھے ہوں گے وہاں پر خیالات اور آراء کی سو فیصد ہم آہنگی کا پایا جانا ممکن نہیں۔ اس کا اطلاق اردو انٹرنیٹ کی دنیا پر بھی ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے والے لوگ روزانہ فورمز اور بلاگز کے توسط سے ا یک دوسرے سے بات چیت کا سلسلہ چلاے رکھتے ہیں۔ زیادہ تر تو یہ سلسلہ موافق ماحول میں جاری رہتا ہے لیکن کبھی کبھار یہ ہم آہنگی کے فقدان کا شکار ہو جاتا ہے جو کہ ایک نارمل بات ہے۔

بلاگز پہ تبصرہ کرنے کی سہولت کی دستیابی تبادلہ خیالات کو ممکن بناتی ہے۔ بنیادی طور پر یہی چیز ایک بلاگ کو روا ئتی ویب سائٹ سے ممتاز کرتی ہے۔ لیکن یہی تبصرہ کرنے کی سہولت اس وقت گڑ بڑ کا باعث بن جاتی ہے جب تبصرہ کرنے والا تحمل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب آپ بلاگ پر لکھی ہوئی پوسٹ میں کہی گئی بات کو ٹھیک سے سمجھے بغیر ہی اشتعال میں آجاتے ہیں اور تحریر لکھنے والے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ جواباً وہ شخص بھی جذبات کی رو میں بہہ جاتا ہے اور اپنے رد عمل کے اظہار میں کہاں سے کہاں نکل جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ جب بھی لگے کہ دوسرے کی بات ، چا ہے وہ بلاگ پوسٹ میں ہو یا کسی تبصرے میں، ہمیں ناگوار گزری ہے تو ذرا سا ٹھیر جائیں۔ فوراً ہی اس کا جواب لکھ کر اسی وقت اسے شائع کرنے سے گریز کریں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ غصہ کی حالت میں کسی کو خط نہ لکھیں، وہی بات یہاں پر بھی ہے۔ آپ یہ کر کے دیکھیں۔ اپنے تبصرے کو ایک دن کے لیے موّخر کر دیں۔اگلے دن اپنا تبصرہ شائع کرنے سے پہلے وہ تحریر جس پر آپ اپنا ردعمل ظاہر کرنے والے ہیں اسے ایک بار پھر پڑھ لیں۔ ساتھ میں ان تبصرہ جات کو بھی پڑھ ڈالیں جو اس اثنا میں دوسرے لوگوں نے وہاں لکھے ہیں۔ اس سب کو پڑھ کر ہو سکتا ہے کہ بات آپ کو ایک نئے زاویے سے نظر آنی شروع ہو جائے۔ بہت امکان ہے کہ کل آپ جس نکتے پہ سیخ پا ہو گئے تھے آج آپ کو لگے کہ اس میں تو غصہ کرنے کی کوئی ایسی بات ہی نہیں۔نتیجتاً ممکن ہے آپ اپنے اشتعال انگیز تبصرے میں مناسب ترمیم کر لیں۔ حتی کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس تبصرے کو اب غیر ضروری سمجھ کر شائع کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھیں۔

عام زندگی کی طرح انٹرنیٹ پر بھی لازم ہے کہ ہم تحمل اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اس سے بے جا غلط فہمیوں کو سر اٹھانے کا موقعہ ہی نہ ملے گا۔ لیکن یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ تمام تر کوشش اور ارادے کے باوجود ہم ہمیشہ ہی اس قدر نظم و ضبط کے پابند نہیں رہ سکتے۔ اس لیے انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں بھی کچھ نہ کچھ نوک جھونک گاہے بگاہے ہوتی ہی رہے گی۔ بلکہ بہت سے قارئین تو سمجھتے ہیں کہ یہ ہوتی ہی رہنی چاہیے کیونکہ ان کے خیال میں اسی گرما گرمی سے ہی بلاگز اور فورمز پہ زندگی کے رنگ اور دلچسپی برقرار رہتے ہیں۔ اس لیے چاہے وہ اس کا اظہار نہ بھی کریں لیکن اندر اندر سے وہ ان بلاگرز کو ذرا پسند ہی کرتے ہیں جو ہر صورت میں، چاہے آپ کچھ بھی لکھ دیں، بات کا بتنگڑ بنا کر، اسکا کچھ کا کچھ مطلب نکال کر، اس کو اس مہارت سے طول دیتے ہیں کہ پھر تقریباً پورا بلاگستان ہی اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور ہر طرف کراس فائر شروع ہو جاتے ہیں۔رونقیں دوبالا ہو جاتی ہیں۔

15 تبصرے:

یاسر عمران مرزا said...

بات تو آپکی صحیح ہے ، کسی بھی معاملے پر فوری ردعمل کے مقابلے میں تھوڑی تاخیر سے کیا گیا ردعمل قدرے مختلف، قدرے غیر جذباتی، اور قدرے ذہانت سے بھرپور ہوتا ہے۔ عام زندگی میں ڈاک کا خط اس کی ایک اچھی مثال ہے، پندرہ بیس سال پہلے ہمارے بھائی یا چچا جو سعودی عرب میں مقیم تھے خط کی ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے تھے تو ایسے میں کسی صاحب کی بیگم کوئی مسلہ مسائل کی خبر اپنے خاوند کو خط کے ذریعے کرتی، خط پہنچنے تک اور اس کے بعد اسکا جواب آنے تک مسئلہ بخیر و عافیت حل ہو چکا ہوتا۔
آجکل موبائل سب کے ہاتھ میں ہے۔ کسی وقتی ناراضگی کا اظہار آپ بذریعہ موبائل فورا اپنے عزیز یا دوست سے کر دیتے ہیں ، نہ صرف خود بھڑکتے ہیں بلکہ دوسروں‌کو بھی بھڑکاتے ہیں۔

احمد عرفان شفقت said...

یہ واقعی ایک مثبت پہلو تھا اس سنیل میل کے سسٹم کا۔ ٹھیک ہے کہ ایمرجینسی یا خوشی کی بات بھی پہنچتے پہنچتے ہی پہنچتی تھی لیکن یہی تاخیر خیر کا باعث بن جاتی تھی لڑائی جھگڑے، مار کٹائی والی سچو ایشنز میں :grin:

افتخار اجمل بھوپال said...

ہم نے مڈل سکول ميں پڑھا تھا کہ جب غصہ ميں ہو تو خاموشی اختيار کرو مگر يہ پرانے وقتوں کی باتيں ہيں ۔ عصرِ حاضر ميں رفتار بہت تيز ہو چکی ہے اسی لئے جھگڑے اور قتل بہت بڑھ گئے ہيں

احمد عرفان شفقت said...

سر یہ باتیں کب پرانی ہوتی ہیں بھلا؟ انسانی زندگی احسن طور پر گذارنے کے یہ اصول و ضوابط شروع سے وہی ہیں اور آخر تک اسی طرح قابل عمل رہیں گے انشاء اللہ جیسے روز اول تھے۔
باقی قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک چیز قتل کا بڑھ جانا بھی تو ہے نا۔

فکر پاکستان said...

مکمل ذہنی ہم آہنگی تو ایک گھر کے افراد میں بھی نہیں پائی جاتی ۔۔ اختلاف رائے کا حق سب کو ہے ۔۔ لیکن اگر تحمل مزاجی سے کام لیا جائے ۔۔ تنقید اچھی بات ہے لیکن وہ تنقید جس سے تحقیر ہو اچھی بات نہیں ۔۔ اپنی بات آرام و سکون سے اچھے انداز سے دوسرے تک پہنچائی جائے ۔۔ جوش و غصے میں کی گئی بات چاہے آپ کی سو دفعہ درست ہوگی پر غلط ہی لگے گی ۔۔۔

شاہدہ اکرم said...

احمد آپ کی اِس پوسٹ پر تبصرہ کل کرُوں کیا؟؟؟؟؟

ڈفر - DuFFeR said...

میں نے جو کہنا تھا وہ تو اس پوسٹ میں پہلے سے ہی موجود ہے :smile:

منیر عباسی said...

میں تو جی اس سلسلے کے آغاز کے حق میں ہی نہیں‌ہوں۔ منظر نامہ والوں کو بھی پتہ نہیں کیا سوُجھی ہے۔ ان خیالات کا اظہار میں نے کل یاسر عمران کے بلاگ پر کرنے کی کوشش کی، کیونکہ سب سے پہلے اس موضوع پر انھوں نے شرکت کی تھی، مگر پتہ نہیں کیوں ان کا بلاگ اول تو کھلنے میں وقت لگا رہا تھا، پھرتبصرہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ اج بھی یہی سسٹم ہے، مجھے لگتا ہے پی ٹی سی ایل والوں کی گھٹیا سروس کا ہاتھ ہے اس میں۔

کیا کبھی کسی اور زبان میں‌لکھنے والے بلاگرز نے اپنے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا ہے؟؟ خدا کے لئے، ہر جگہ یہ فضولیات شامل کرنے سے گریز کریں۔ آج ہم آہنگی پہ بات ہو رہی ہے، کل کو کچھ بلاگرز اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر دائرہ کھینچ کر "باہر " اور "اندر" والوں میں فرق کرنا شروع کر دیں‌گے۔

میرے حساب سے منظر نامہ نے بچگانہ حرکت کی ہے۔ اس قسم کی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ ہر بلاگر کی اپنی مرضی ہے وہ جیسے چاہے لکھے۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ اس طرف جائے ہی نہ۔

راشد کامران said...

میں ڈاکٹر صاحب سے متفق ہوں۔ اس سے پہلے بھی ضابطہ اخلاق کے سلسلے میں طویل مباحثے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہی تھا کہ آپ مختلف سوچ اور ذہنی سطح کے بلاگرز کو اظہار خیال کے لیے چند نکات پر متفق نہیں‌کرسکتے۔ یہاں بھی کچھ اسی قسم کا مسئلہ ہے کہ ہم آہنگی سے مراد کیا لی جارہی ہے؟‌ اگر عمومی معنوں میں ہی ہم آہنگی کا لفظ استعمال کیا جارہا تو پھر ایسے یک رنگی بلاگستان میں تخلیق کا عمل تو ختم ہوجائے گا۔ اس بات پر البتہ دو رائے نہیں کہ بدتہذیبی سے جتنا پرہیز کیا جائے اتنا بہتر ہے لیکن تلخ موضوعات تلخ مباحثوں‌کا باعث بنیں گے اور شدید اختلافات پر اسطرح بلاگ پر بحث کرلینا ایک بہت مثبت عمل ہے۔ اگر موضوع بلاگ "اپنی یا کسی کی ذات"‌ ہو تو کسی بھی قسم کا تبصرہ کہیں نا کہیں‌ ذاتیات سے متعلق ہی ہوگا ہاں غیر ضروری طور ذاتیات کو ایسے مباحثوں میں‌ لے آنا جہاں ان کی جگہ ہی نا بنتی ہو یہ روش کچھ درست نہیں اور یتیم تبصروں کے حوالے سے سب کی اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے کچھ انہیں برداشت کرتے ہیں‌اور کچھ انہیں برداشت نہیں‌کرتے۔

خرم ابن شبیر said...

مجھے تو اس تحریر سے ایسا لگا کہ بس کسی ایک کو سمجھانے کے لیے یہ تحریر لکھی گئی ہے

جعفر said...

میرا ووٹ بھی ڈاکٹر صاحب اور راشد صاحب کے ساتھ ہے
ویسے آپ کے مشورے پر عمل کرتا تو یہ تبصرہ یہاں موجود نہ ہوتا
:grin:

عثمان said...

معلوم ہوتا ہے کے اردو بلاگز کا ماحول کافی جزباتی اور گرماگرم ہے- بحرحال آپ کا تبصرہ فوراً نہ کرنے والی تجویز قابل تحسین ہے-
اپنے نئے قاری کا سلام قبول فرمائیے-

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

میں منیر عباسی صاحب سے متفق ھوں۔جیسا ھے ایسا ھی ٹھیک ھے۔ہم عموما اپنے پسندیدہ اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں ہر اخبار نہیں پڑھتے ۔اگر کسی سے ہم یا کوئی دوسرا متفق نہیں ھے تو ادھر جائے ھی نہیں۔اگر جاتا ھے تو احسن طریقے سے اپنا نقطہ نظر کہہ دے اور گذر جائے۔

پھپھے کٹنی said...

مجھے تو اعتراض نہيںو يہ لڑائی جھگڑے نہيں ہوتے اپنا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے اور ميرا نہيں خيال کہ کوئی اپنے بلاگ کی رونقيں دو بالا کرنے کے ليے جان بوجھ کر ايسا کرے گا ويسے ميرا خيال ضروری نہيں درست ہو ،حاليہ جو لڑائي نما بحث چلی تھی خاصی دلچسپ تھی اگر گالی گلوچ تک نامعلوم نے اسے نہ پہنچايا ہوتا

احمد عرفان شفقت said...

یہی تو سمجھنے کی بات ہے نا۔۔۔ کہ ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔

Post a comment