20.5.10

شکر ہے چہرہ کتاب بند ہوئی

اللہ کا شکر ہے فیس بک سے جان چھوٹی ۔گو عارضی طور پہ ہی سہی پر کچھ دیر کو تو بند ہوئی یہ سائٹ۔ میں اس منحوس سائٹ سے پہلے ہی سخت نالاں تھا۔ بچے اور بڑے دونوں اس پہ روزانہ لا تعداد گھنٹے لا یعنی قسم کی سرگرمیوں میں ضائع کر دیتے تھے۔شکر ہے بہت سےلوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی قوت ارادی کی بدولت اس جنجال سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

باقی رہ گیا وہ معاملہ جس کی وجہ سے فیس بک جزوی اور عارضی طور پہ پاکستان میں بند ہوئی ہے تو اس کی بابت میرے ا حساسات وہی ہیں جو خورشید آزاد نے اپنے ایک تبصرے میں لکھے ہیں:

”میں سمجھتا ہوں محمدصلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی ہستی ہیں کہ یہ کارٹون وغیرہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہاں ہمارا اپنے آپ کو ان کا امّتی کہنا ان کے رتبے کے لیے ان کارٹونوں سے زیادہ خطرناک ہے۔“

اور پھر سارہ پاکستان نے جوکچھ کہا ہے وہ ناگوار تو شاید بہتوں کو گزرے گا مگر اصل بات اورواقعتا صورتحال بالکل ایسی ہی ہے:

”ایک پیام بر کی اس سے زیادہ توہین بھلا کیا ہوگی کہ اس کے لائے ہوئے پیغام کو آپ ایک نظر بھر کے بھی پوری طرح نہ دیکھیں ،اور پھر اس پیغام کی خلاف ورزی میں مصروف ہوجائیں ۔۔۔۔“
میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو کچھ احتجاج ہو رہا ہے وہ اپنی جگہ درست ہے لیکن اگر آج مسلمان با عمل ہوتے تو ان ماڈرن، مہذب، ماڈریٹ، سیکیولر، روشن خیال، ترقی یافتہ گوروں کو اتنی جسارت کرنے کی سوچ بھی نہ آتی۔اور ان سے شدید متاثر اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے بیچارے آزاد خیال دیسی بھی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احکامات پر عملی طور پر چلنے کی بات کرنے والوں کو مولوی، ملا وغیرہ جیسے القابات سے نواز کر نظر انداز نہ کر رہے ہوتے۔

16 تبصرے:

عنیقہ ناز said...

گستاخی کی معذرت، سارا کا جملہ صحیح صورت حال کی عکاسی نہیں کرتا۔ اسے تھوڑا سا تبدیل ہونا چاہئیے۔
ایک پیامبر کی اس سے زیادہ کیا توہین ہوگی کہ اسکے لائے ہوئے پیغام کو آپ ایک نظر بھر کر پوری طرح نہ دیکھیں اور اس پہ عمل کرنے کا دعوی کرنے لگیں۔
کیونکہ جب کسی نے نظر ڈال کر پوری طرح دیکھا بھی نہیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اسے بجا لا رہا ہے، خلاف ورزی کر رہا ہے یا جو اسکا دل چاہ رہا ہے وہ کر رہا ہے۔ توہین اس صورت میں زیادہ ہوتی ہے جب آپ ایک چیز اچھی طرح دیکھتے بھی نہیں ہیں۔ پھر عمل کرتے ہیں اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم اس پہ بالکل صحیح عمل کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ غلط ہوتا ہے۔
امید ہے سارا پاکستان میری اس بات کا برا نہیں مانیں گی۔ اور توقع ہے کہ آپ بھی ایسا نہیں کریں گے۔ اور اگر آپ دونوں برا ماننے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس تبصرے کو ڈیلیٹ کر دیجئیے گا میں بالکل برا نہیں مانوں گی۔
میں تو فیس بک پہ وقت نہیں لگاتی اس لئے مجھے اس سے فرق نہیں پڑا۔ لیکن جیسا کہ اپنے ہوم پیج پہ آنےوالے اسٹیٹس سے اندازہ ہوتا رہتا تھا کہ کچھ لوگوں کو اب مشکل ہوگی کہ وہ وقت کیسے گذاریں۔
لیکن بہر حال کچھ پیشے ایسے ہیں کہ اس میں فیس بک کی وجہ سے آسانی رہتی ہے۔ اور پاکستان میں لوگوں کی ایک معقول تعداد اس سے متائثر ہو گی۔
میں تو یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہوں کہ باقی مسلم ممالک نے بھی کیا ایسا ہی قدم اٹھایا ہے یا نہیں اور وہ اس ضمن میں کیا کر رہے ہیں؟

افتخار اجمل بھوپال said...

ہم لوگوں نے صرف رولا رپا سيکھ ليا ہے عمل کرنا ہمارا کام نہيں ہے

فکر پاکستان said...

کیا صرف فیس بک پر پابندی عائد کر کے ہم نے حق ادا کر دیا ہے ؟ یہ وقت تو تھا امت مسلمہ کو متحد ہو کر ان کی مزموم حرکت کا جواب دینے کا ۔۔ لیکن مسلمان اتنے ہی غیرت والے ہوتے تو آج یہ دن دیکھنا ہی نہ پڑتا ان کو ۔۔

معاشرہ said...

ہم لوگ ٹیکنالوجی کا درست استعمال کب سیکھیں گے؟ یہ انسان ہے جو ہر شے میں برائی یا بھلائی پیدا کرتا ہے۔

محمد طارق راحیل said...

ہمیں چاہیئے کہ مسلمان ہونے کے ناطے اپنے آپ کو فیس بک سے الگ کر لیں اپنا اکاؤنٹ بند کر لیں

اپنی دوستی اپنے ان مسلمان بھائیوں کے لئے چھوڑ دیں جو پیغمبر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں
یا ان لوگوں کے لئے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بھی بے حرمتی نہیں کر سکتے

ایک حدیث کا مفہوم ہے
قیامت میں ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس کا ساتھ وہ دنیا میں رکھتا تھا
کیا ہم ان خبیث لوگوں کے ساتھ اب بھی ہیں
بس ایونٹ چلا جائے ہم پھر فیس بک پر
کیا یہی محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے

ہم اس کے بدلے دوسرے ذرائع کیوں استعمال نہیں کر لیتے
تا کہ بار بار ایسا عمل کرنے کی نا سوچ سکیں یہ غیر مسلم

ورنہ ہر سال ایسا ہی ہو گا
اور ہم 5 سے 10 دن کے لئے فیس بک بند کر کے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دم بھرتے رہیں گے

کیا ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کے ساتھ؟

احمد عرفان شفقت said...

عنیقہ ناز

بلاگ پہ خوش آمدید :smile:
آپ کا تبصرہ یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔برا ماننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
آپ درست کہہ رہی ہیں، بہت سے لوگ فیس بک کے اس طور عادی ہو چکے ہیں کہ انہیں اس بندش سے خاصی مشکل ہو گی۔دوسری طرف اس سائٹ سے مثبت فائدہ اٹھانے والے بھی بہت سے لوگ اور ادارے ہیں۔
دوسرے ممالک نے فیس بک بند تو نہیں کی شاید لیکن ترکی کے ہیکرز نے اس سائٹ کو جس پہ وہ قابل مذمت کاروائی ہونی تھی ہیک ضرور کر لیا ہے۔

یاسر عمران مرزا said...

میں سارہ پاکستان کے کئی نقاط سے اختلاف رکھتا ہوں۔ آپ ایک بات بھول رہے ہیں
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔ ایسے میں جو بھی صاحبان حرمت رسول کے لیے فیس بک کے خلاف ہیں ان کا یہ عمل مثبت ہے۔ نیکی کی شروعات ہمیشہ کسی ایک عمل سے ہی ہونی ہوتی ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ مشترکہ طور پر فیس بک کے خلاف کیا گیا کوئی ردعمل مسلمانوں کو اتحاد کی طرف اور اپنے دین کی طرف راغب کر دے۔آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ اغیار کی گستاخیاں ہماری اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہی ممکن ہوئیں لیکن ایک اچھا عمل دیگر کئی اچھے عمل کو شروع کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
شکریہ

شازل said...

میں بھی اس کے سحر میں‌مبتلا تھا اگر یہ مستقل طور پر بندہو جائے تو بہت ہی اچھا ہو
ویسے ہماری مہم جو بہت سے بلاگرز اور فیس بکیوں نے چلائی بہت کامیاب ہوئی ہے
ورنہ ایسے لوگ بھی ہیں جو خاموشی کا مشورہ دیتے ہیں اور جذباتی ہونے کا طعنہ بھی دیتے ہیں
آج انہی جذباتی لوگوں کے طفیل عدالت نے پابندی لگائی ہے

پھپھے کٹنی said...

برنارڈ شاہ والي بات خوب لکھي ہے پر يہ ان ريزنايبل ميں نہيں ہوں

عنیقہ ناز said...

یہ برنارڈ شا والی بات یاد رکھئیے گا۔ واپس ملنے کی صورت میں ناراض نہیں ہونا ہے۔

راشد کامران said...

حکومتوں کے لیے تو سب سے آئیڈیل صورت حال یہ ہوتی ہے کہ صرف ایک ریاستی ٹی وی چینل موجود ہو اور اگر عوام کی وقتی "جذباتیت"‌ اسے اس سمت قدم اٹھانے کے مواقع فراہم کرتی ہے تو حکومت کے لیے تو یہ سو بسم اللہ والی صورت حال ہے کیونکہ حب رسول اللہ کا مظاہرہ کرنے کے ماضی میں‌کئی مواقع آئے، ابھی بھی موجود ہیں اور مستقبل میں بھی کئی مواقع آئیں گے لیکن اس وقت "عوامی امنگیں" بکری کی مینگنیوں سے زیادہ اہم نا ہوں گی ۔ آج فیس بک۔ پھر یو ٹیوب، پھر وکی پیڈیا اور آگے پورا انٹرنیٹ آپ کے بلاگ سمیت۔ ایک کرپٹ حکومت کے لیے بہترین صورت حال۔

میدان میں رہ کر مقابلہ نا کرنے سے آپ میدان کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے ہمارے نام پر ایسے عناصر داخل ہوجاتے ہیں جن کا دین اور ہم سے کچھ میل نہیں‌ کھاتا؛ فیس بک پر ہی انتہائی اہم تھریڈز میں بہت جگہ اچھی متوازن گفتگو بھی ہورہی ہے جہاں بہت سے سارے غیر مسلم بھی گفتگو میں حصہ لے رہے ہیں اور کچھ بہت اچھے لوگوں کی کوششوں کی بدولت کئی لوگ اس بات کو مان رہے ہیں کہ "اظہار رائے کی آزادی" اور "نفرت کے پرچار -- Hate Speech "‌ میں واضح خط موجود ہے اور مستقل حل کے لیے آپ کو رائے عامہ ہموار کرنی ہوگی محض "احتجاج" جس کا براہ راست نقصان ہی ہمیں پہنچ رہا ہے کوئی مستقل حل نہیں نکلے گا۔

احمد عرفان شفقت said...

راشد کامران
آپ سے میں متفق ہوں۔آپ کی اس بات سے بھی اور اس نکتہ نظر سے بھی جو آپ نے اپنی تحریر ”ردعمل“ میں بیان کیا ہے۔
باقی فیس بک پاکستان میں بین کرنے سے اس پر ہونے والی نامناسب کاروائی تو رکنی نہیں تھی کیونکہ وہ لوگ پاکستان میں بیٹھ کر تو اپنا مذموم کام سرانجام نہیں دے رہے تھے۔ لیکن شاید بین کرنے والوں کا مطمع نظر یہ تھا کہ پاکستان کے لوگ اس ناروا چیز کو دیکھنے سے بچے رہیں۔

محمد طارق راحیل said...

ہمیں چاہیئے کہ مسلمان ہونے کے ناطے اپنے آپ کو فیس بک سے الگ کر لیں اپنا اکاؤنٹ بند کر لیں

اپنی دوستی اپنے ان مسلمان بھائیوں کے لئے چھوڑ دیں جو پیغمبر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں
یا ان لوگوں کے لئے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بھی بے حرمتی نہیں کر سکتے

ایک حدیث کا مفہوم ہے
قیامت میں ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس کا ساتھ وہ دنیا میں رکھتا تھا
کیا ہم ان خبیث لوگوں کے ساتھ اب بھی ہیں
بس ایونٹ چلا جائے ہم پھر فیس بک پر
کیا یہی محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے

ہم اس کے بدلے دوسرے ذرائع کیوں استعمال نہیں کر لیتے
تا کہ بار بار ایسا عمل کرنے کی نا سوچ سکیں یہ غیر مسلم

ورنہ ہر سال ایسا ہی ہو گا
اور ہم 5 سے 10 دن کے لئے فیس بک بند کر کے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دم بھرتے رہیں گے

کیا ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کے ساتھ؟
گر ہم فیس بک ہی چاہتے ہیں تو پاکستانی فیس بک استعمال کر سکتے ہیں

www.pakfacebook.com

احمد عرفان شفقت said...

یہ پاک فیس بک ابھی تو قابل استعمال کیفیت میں نہیں لگ رہی طارق۔

سارہ پاکستان said...

عنیقہ جی آپ کی بات کا برا منانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں‌ہوتا،جملے کو ایسےکر لیں‌یا ویسے اسکی روح‌تو وہی ہے جو آپ نے بیان کی ہے ۔
ایک افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ بہت سے تو عمل کا دعوی کرنے کی زحمت بھی نیہں‌کرتے ان کا خیال ہے کے وہ ایک خاص‌امت ہونے کے ناطے ویسے ہی بخشش دئیے جائین گے ۔

سارہ پاکستان said...

یاسر عمران مرزا
اگر آپ ان نکات کا بھی ذکر کردیتے جن سے آپ کو اختلاف ہے تو مجھے اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے میں‌آسانی ہوتی ۔میں‌نے کب کہا کہ ایک اچھا عمل دیگر اچھے اعمال کی بنیاد نہیں بن سکتا ،مگر اس کے لئے انسان کو جذباتی ہو کر اچھا عمل کرنے کے کی بجائے شعوری طور پر بھی علم ہونا چاہیے کہ وہ یہ اچھا عمل کیوں‌کر رہا ہے ۔محض‌جذباتیت ،تعصب اور بھیڑ چال کی بجائے اس اچھے عمل کی روح‌کو سمجھنا چاہیے ۔اور اگر ہم اس قابل ہوجائیں تو پھر ہمارے ارد گرد ایسے لا تعداد اقدامات ہیں جو دین اسلام کی تعلمات کی کھلی توہین ہیں‌اور ان پر بھی احتجاج اور بائیکاٹ‌کی ضرورت ہے ۔مگر ہم ان پر احتجاج تو کیا کریں‌گے ہمارے اندر تو یہ حس بھی مر گئی ہے کہ یہ سب بھی توہین کے زمرے میں‌ہی آرہا ہے ۔

Post a comment