28.5.10

روٹین نعمت ہے

کچھ لوگوں کا مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

رہنے کو انہیں اپنا اچھا خاصا ایک گھر میسر ہوتا ہے۔کرائے کے گھر میں رہنے کے کیا جھنجھٹ ہوتے ہیں اس سے وہ لوگ قطعی نا آشنا ہوتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ بل کتنا آتا ہے، انہیں گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر ہمیشہ دستیاب ہوتا ہے۔فرِج ان کا ہر روز بھانت بھانت کی کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا رہتا ہے۔ ریٹ اور ڈیٹ سے وہ لوگ بے نیاز ہوتے ہیں۔پورا مہینہ جس دن بھی جو دل چاہے جا کر اپنی پسند کی دکان سے خرید لیتے ہیں۔ جب دل کرے اپنی مرضی کے ریستوراں میں جا کر کھانا کھا لیتے ہیں۔سارا سال ان کا پرس پنج ہندسی کیش سے روزبھرا رہتا ہے۔

سفر کرنے کو ان کے پاس اپنی گاڑی ہوتی ہے جس کا ٹینک وہ خالی ہونے سے پہلے ہی پیٹرول سے لبا لب بھروا لیتے ہیں۔دور کے سفر کے لیے جہاز استعمال کرتے ہیں۔ انہیں زندگی بھر پتا ہی نہیں چلتا کہ بسوں، ویگنوں، ریل گاڑیوں کے سفر میں کیا گزرتی ہے اور موٹر سائکل پر پورا خاندان ڈھونا کیا معنی رکھتا ہے۔سال میں ایک دو بارکسی پرسکون جگہ پر جا کر چھٹیاں بھی گزارتے ہیں۔ اللہ نے انہیں بیماری اور معذوری سے بھی بچایا ہوتا ہے۔ تھانوں، کورٹ کچہری سے بھی دور رکھا ہوتا ہے۔سرکاری محکموں میں اپنے کام کے لیے دھکے کھانے کی نوبت بھی ان کی زندگی میں کبھی نہیں آئی ہوتی۔ غرض کہ کمال بےفکری اور آسانی کی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں۔

اس سب کے باوجود ان کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ روٹین کی زندگی سے نالاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ زندگی کی یکسانیت سےبورہو چکے ہیں۔اب ان بے خبر لوگوں کو کون بتائے کہ بھائی یہ روٹین تو نعمت ہے۔ یہ جو ہم صبح اٹھتے میں اور رات سونے تک بغیر کسی خوف و رنج سے گزرے اپنے تمام کام ترتیب سے کر جاتے ہیں یہ بہت بڑی نعمت ہے۔لیکن چونکہ بیچ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی اس لیے ہم جان ہی نہیں پاتے اس بات کی قدر۔ہم شاکی اور ملول رہتے میں کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے جو ہم گذار رہے ہیں۔بس ایک ہی روٹین روز ایک جیسی۔ یک رنگی۔ بے کیف۔

اچھا لیکن آپ نےکبھی کسی کو ایسا کچھ بتاتےبھی تو سنا ہو گا :

”جناب وہ اچھا بھلا روٹین کے مطابق صبح اٹھا۔ دفتر کے لیے تیاری کر رہا تھا کہ بس اچانک فالج کا ایسا اٹیک ہوا۔۔۔“

”بھائی وہ ہم دوپہر کا کھانا معمول کے مطابق کھا کر ابھی بیٹھے ہی تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ چھوٹا بھائی سیڑھیوں سے گر گیا ہے۔بس تب سے سب بھاگے پھر رہے ہیں۔۔۔“

”یار میں روزانہ کی طرح روٹین کے رستے سے دکان سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ایسی بھگدڑ مچی کہ میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ کیا ہوا ہے۔ آناً فاناً پولیس کی ایک وین وہاں نمودار ہوئی اور اور لوگوں کے ساتھ مجھے بھی اس میں بٹھا کر یہاں حوالات لے آئے ۔ اس دن سے یہاں ایڑیاں رگڑ رہا ہوں،کوئی شنوائی نہیں۔۔۔“

یا پھر کسی ہسپتال کے وارڈ میں جا کر مختلف لوگوں سے جانیں روٹین کی قدر۔ اور پوچھیں یہ بور ہونا کیا ہوتا ہے۔

12 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال said...

کوئی مسئلہ نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے
کچھ لوگ ٹينک لبا لب اسلئے بھرواتے ہيں کہ پٹرول پمپ جانے کيلئے بھی پٹرول خرچ ہوتا ہے
ميرا تو خيال ہے کہ صرف رئيس لوگ يکسانيت کی زندگی گذارتے ہيں ۔ ہم جيسوں کيلئے قوم قدم پر راستہ تبديل ہوتا ہے

زندگی کا جو لمحہ گذر گيا اُس کيلئے اللہ کا شکر گذار ہونا چاہيئے کہ جيسا گذرا اس سے بُرا بھی ہو سکتا تھا۔ يہ بھی ہو سکتا تھا کہ نہ کسی کو کچھ کہہ سکيں نہ لکھ سکيں ۔ يہ بھی ہو سکتا تھا کہ کچھ ديکھ نہ سکيں ۔ يہ بھی ہو سکتا تھا کہ باقی ساری زندگی بستر پر گذرے جو اپنے لئے عذاب اور دوسروں کيلئے بھی عذاب بن جائے
اللہ ميرے گناہ معاف فرمائے

محمد احمد said...

اچھی تحریر ہے۔

میرے چچا کہتے ہیں‌کہ ہمیں ہر بات میں شکر کا پہلو تلاش کرنا چاہے اور اگر ہم آنکھیں کھلی رکھیں تو ہمیں شکر کا پہلو تلاش کرنے کا موقع ہی نہ ملے کہ ہماری زندگی میں قدم قدم پر مقامِ شکر ہمیں مل جاتا ہے پر ہم پھر بھی شکر نہیں کرتے ۔

پھپھے کٹنی said...

ميں خود روٹين کی زندگی سے بے حد تنگ آ جاتی ہوں ہر روز ايک جيسے کام وہی روٹين ، پہلے ميں گھر کی سيٹنگ بدل ديتی تھی تو وقتی طور پر يکسانيت کا احساس ختم ہو جاتا تھا مگر اب اس سے بھی ختم نہيں ہوتا ادھر تو روٹين کی زندگی ميں صبح سے ليکر شام تک کے سلام ہی نہيں ختم ہوتے وہ بھی باچھيں کھلا کر ، اب تو گھر آ کر بھی مجھے ياد نہيں رہتا کہ گھر آ گيا ہے مسکراتے ہوئے منہ کو نارمل ميں بدلنا ہے وہ تو جب شام کو وہ گھر آتے ہيں تو مسکراہٹ والی حالت فورا بدل جاتی ہے

پھپھے کٹنی said...

ميری روٹين تو ايسے ہے کہ جو چہرہ جدھر آج آٹھ بج کر بيس منٹ پر ديکھا ہے وہ ہر روز ادھر آٹھ بجکر بيس منٹ پر ہی ہو گا جس روڈ سے ايک بجے گزری ہوں دائيں بائيں جو لوگ گزر رہے تھے کل ايک بجے اسی روڈ ھر اکا دکا کے علاوہ سب وہی ہوں گے تبصرہ سمجھ آ گيا ہے ناں

احمد عرفان شفقت said...

بالکل سمجھ میں آ گیا ہے جی :smile:

بیبلی said...

دیکھیے آپ نے جو جیزیں گنوائی ہیں وہ سب تو معاسی آسودگی کے مادی اسباب ہیں،لیکن جسم کے علاوہ روح اور ذینی آسودگی کے مواقع میسر نہ ہوں تو طبیعت مضمحل ہو جاتی ہے۔ اس لیے روٹین اپنی جکہ صحیح لیکن ذہنی آسودگی کے اسباب بھی ہونے چاہیں۔

احمد عرفان شفقت said...

@ بیبلی:
ذہنی تفریح کی اہمیت سے تو کسی طور انکار ممکن نہیں۔

بیبلی said...

ویسے ایک بات جو میرے مشاہدے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ جتنے زیادہ ہم مالی لحاظ سے آسودہ ہوتے ہیں، اندر کی بے چینی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ اور جب ڈھیر ساری نغمتیں ہمیں دستیاب ہوتی ہیں تب ہمیں ان کی اتنی قدر نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ہمارے بچپن کے دنوں میں نئے کپڑے عید یا شادیوں پر ہی بنائے جاتے تھے، لہذا ان کی ایک انوکھی سی خوشی ہوتی تھی۔ اب توڈھیروں کے حساب سے کپڑے، جوتے ہوتے ہیں، اور عمدہ سے عمدہ ترین ہوتے ہیں لیکن وہ لطف نہیں آتا۔ اور جیسی خوشی معمولی چیزوں سے ملتی تھی وہ اب نہیں ملتی۔

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ثرینوں، بسوں اور ویگنوں میں سفر کرنے کا جو مزہ ہے، اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ کیونکہ اپنی گاڑی میں آپ کی ملاقات ان رنگا رنگ، دل چسپ لوگوں سے نہیں ہوتی جو پبلک ٹرانسپورٹ میں نظر آتے ہیں۔ ہر بار کچھ انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ روٹین سے بور ہونے کی سکایت کرنے والوں کو چاہییے کہ وہ کبھی معمول سے ہٹ کر کجھ کرنے کی کوشش کر کے دیکھیں۔ ا

احمد عرفان شفقت said...

اس کی وجہ تو نہیں پتا لیکن ہوتا بالکل یہی ہے۔۔۔معاشی آسودگی اندر کی بے چینی میں اضافہ کرتی ہے۔ حالانکہ ہونا تو اس کے الٹ چاہیئے۔ اور واقعی آج کے بچے چیزوں کی فراوانی کے باعث تجسس اور anticipation کے احساست سے محروم ہیں۔ کچھ بھی تحفہ میں ملے، اس طرح حیران نہیں ہوتے جیسے پہلے بچے عمومی چیزیں ملنے پہ ہوتے تھے۔

ثرینوں، بسوں ، ویگنوں اور ٹانگے میں سفر کرنے کا بلاشبہ اپنا مزہ، اپنی تھرل ہے۔ لیکن جب فیملی ساتھ ہو، بچے چھوٹے بڑے، تو اپنی سواری ذرا زیادہ آسانی دے دیتی ہے۔

بیبلی said...

یہ تو آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ اپنی سواری میں ذرا سہولت رہتی ہے۔ لیکن مزہ بھی تو کم آتا ہے۔ ویسے اپنی اپنی ترجیحات کی بات ہے، مجھے دو آپسشن دیئے جائیں تو میں ہمشہ تھوڑی سی بے آرامی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا زیادہ پسند کروں گی۔ کیونکہ میرے نزدیک سفر کا مقصد ہی ایڈونچر اور تھرل ہے۔ اپنی سواری میں تو بندہ باقی لوگوں سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔

پنلک ٹرانسپورٹ میں سفر سے آپ کچھ مثبت باتیں بھی سیکھ سکتے ہیں، جیسے کہ space shareکرنا۔ لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو سیٹ نہ ملنے پر یا کسی اور وجہ سے مرنے مارنے پر اتر آتے ہین۔ میرے خیال میں ایسے لوگ حد درجہ خود غرض اور inconsiderate ہوتے ہیں، پر اس قبیل کے لوگوں کی وجہ سے میں ثرینوں یا ثانگے وغیرہ کے سفر کو ترک کرنا پسند نہیں کروں گی۔ کیونکہ ایسے لوگ ہر جگہ ہی ہوتے ہیں اور انہیں نظرانداز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

احمد عرفان شفقت said...

پبلک ٹرانسپورٹ میں تھرل تو ضرور ہے لیکن کچھ مسائل بھی ہوتے ہیں۔دوسروں کے سگریٹ کے دھویں زبردستی نگلنے پڑتے ہیں۔ ڈرایئور صاحب جو گانے یا فلمیں اپنے من چاہے والیوم کے ساتھ لگا دیں وہ برداشت کرنا ہوتا ہے۔ لاری اڈوں اور ریلوے سٹیشنز پر نوسر بازوں وغیرہ سے بھی دامن بچا کر رکھنا ہوتا ہے۔ دوران سفر اپنی من چاہی جگہ پر کچھ دیر کے لیے رک نہیں سکتے۔ سامان کی حفاظت بھی خاصا درد سر بن جاتی ہے۔وغیرہ وغیرہ۔

یہ اور دیگر اس قسم کے عوامل مل کر ہی اس پبلک ٹرانسپورٹ کے سفر میں تھرل کا عنصر پیدا کرتے ہیں۔

بیبلی said...

سو تو ہے ۔

لیکن جس طرح نہ ہو جینا تو مرنے کا مزہ کیا ، اسی طرح یہ بھی زندگی کے رنگ ہیں۔ ان کے بغیرزندگی پھیکی ہے ;-)

Post a comment