29.5.10

بد گمانی بڑ ھائیں

بدگمانی بڑھائیں تو بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ آپس کی دوریاں اتنی بڑھ جائیں گی کہ معاملات کو سلجھانا بہت مشکل نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ سو بہتر تو یہی ہے کہ بدگمانی شروع ہی نہ ہونے دیں۔ چیزوں کو واضع انداز میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ بات جو ہو اور جتنی ہو اسے ویسا ہی اور اتنا ہی دیکھیں۔ اندازے لگانے سے گریز کریں۔ اس ضمن میں اپنےتخیل سے زیادہ کامن سینس کو کام میں لائیں۔

دلوں میں وسوسوں اور ابہام کو پلنے دیں تو وہ بہت بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا توڑ آپس کی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ دوسرے سے وہ بات کہہ ڈالیں جو اس کے بارے میں آپ کو پریشان کر رہی ہے یا غصہ دلا رہی ہے۔ ایسا کرنے سے غلط فہمی دور ہو جانے کا امکان ہے۔اور غلط فہمی دور ہو جائے تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ ایک خوامخواہ کے دباو سے آزادی مل جاتی ہے۔زندگی خوشگوار لگنے لگتی ہے۔

بسا اوقات ایک بات دوسرے کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی مگر ہم اپنے طور پر تصور کر لیتے ہیں کہ ایسا ایسا ہوا ہے۔ مھض کسی کے چہرے کے تاثرات سے اندازے لگاتے رہنا کہ دوسرا آپ کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ رہا یا کوئی فون پر بات کر رہا ہو تو پاس سے گزر تے ہوئے ایک آدھ فقرا یا فقرے کا کچھ حصہ سن کر اپنے دل کو یقین دلا لینا کہ یہ گفتگو میرے خلاف کی جا رہی ہے یا کسی کے ہلکے پھلکے مذاق کے رد عمل میں سیخ پا ہو جانا کہ یہ تو اس نے مجھے طعنہ دیا ہے، میری توہین کی ہے۔۔۔یہ اور اس سے ملتے جلتے دیگر ذہنی رحجانات بد گمانیوں کو جنم دینے اور پھر ان کو استحکام دینے کا باعث بنتے ہیں۔

سورۃ الحجرات کی آیت 12 میں اللہ نے ہمیں بدگمانی سے بچنے کا حکم دیاہے۔ لیکن شیطان جو ہمہ وقت منفی اور فاسد خیالات ہمارے دلوں میں ڈالنے کو بیتاب اور چوکس رہتا ہے وہ ہمیں ایسے اقدامات سے روکے ہی رکھتا ہے جن سے باہم بد گمانیاں دور ہونے کا کچھ سامان ہو سکے۔ اور شیطان صرف جِنّوں میں ہی نہیں ہوتے۔ بد طینت انسانوں کے روپ میں بھی ہماری زندگیوں میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ لگائی بجھائی کرنے والے لوگ خاندانوں میں، اداروں میں، مارکیٹوں میں حتیٰ کہ مساجد میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان سے چوکنا رہنا ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔

4 تبصرے:

محمودالحق said...

اسلام و علیکم
اقتباس !
(لیکن شیطان جو ہمہ وقت منفی اور فاسد خیالات ہمارے دلوں میں ڈالنے کو بیتاب اور چوکس رہتا ہے وہ ہمیں ایسے اقدامات سے روکے ہی رکھتا ہے جن سے باہم بد گمانیاں دور ہونے کا کچھ سامان ہو سکے۔ اور شیطان صرف جِنّوں میں ہی نہیں ہوتے۔ بد طینت انسانوں کے روپ میں بھی ہماری زندگیوں میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ لگائی بجھائی کرنے والے لوگ خاندانوں میں، اداروں میں، مارکیٹوں میں حتیٰ کہ مساجد میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان سے چوکنا رہنا ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔)
لیکن صرف چوکنا رہنے سے کیا آپ محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ فتنہ پھیلانے والے اور آپس میں پھوٹ ڈالنے والے ایسی گھناؤنی سازشیں کرتے ہیں کہ ان کے ایمان پر شک ہوتا ہے ۔ دوسروں کی نیکیاں بھی انہیں انسان بنانے میں ناکام رہتی ہیں ۔ صرف اپنے مفادات ، ہوس مادیت میں ہر رشتے کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ۔ صرف اپنی انا اور مفاد پرستی میں حدوں سے آگے نکل جاتے ہیں ۔ اور کمال تو یہ ہے ایسے لوگ پھر بھی آنکھوں کا تارا بنے رہتے ہیں ۔ سال ہا سال کی اچھائی اور نیکی کے سامنے ان کی چند لمحوں کی خباثت زیادہ معتبر مان لی جاتی ہے ۔ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں تو ٹھیک ہے ایک بار سمجھانے کی کوشش کریں تو اپنی خیر نہیں ۔
اگر ایسے رشتوں کو چھوڑنے کی بات کی جائے تو سمجھانے والے صرف آپ کو ہی سمجھائیں گے ۔ آخر ایسے لوگوں کا کوئی حل بھی تو ہو جنہوں نے زندگی میں اپنی ذات کے علاوہ کبھی سوچا نہ ہو حتی کہ ہر رشتے کو نبھانے میں صفر ہوں مگر باتوں میں پورے اترتے ہیں ۔ مگر ان کا ووٹ بنک پھر بھی زیادہ ہی ہوتا ہے ۔

افتخار اجمل بھوپال said...

ميں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اللہ پر يقين رکھنے والا وسوسوں کا شکار نہيں ہوتا اور اگر کسی وقت ابليس کے نرغے ميں آ بھی جائے تو پشيمان ہو کر توبہ کر ليتا ہے ۔ ايسے شخص کو قرآن شريف ميں مُسلم کہا گيا ہے مگر جو اپنے رويئے کی تکرار کرتا ہے وہ مُسلم نہيں ہے ۔ شيطان غلط راستہ بتاتا ہے اور اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے درست راستہ بتا کر شيطان سے خبردار بھی کر ديا ہوا ہے ۔ پھر اگر کوئی شيطان کے ورغلانے ميں آتا ہے تو يہ حُب اللہ کی بجائے اُس کی حُبِ دنيا کی وجہ سے ہے
اللہ ہميں درست راستہ پر چلنے کی توفيق عطا فرمائے

شازل said...

بدگمانی سے ہی خیالات ایک نیا رخ اختیار کرتے ہیں
ہمیشہ اچھی سوچ ہی رکھنی چاہئے لیکن یہ سوچ دوسری طرف بھی تو ہونی چاہئے

پھپھے کٹنی said...

ايک بندے کے اچھا سوچنے سے کچھ نہيں ہوتا تالی واسطے دونوں ہاتھ ضروری ہيں

Post a comment