31.5.10

منہ لگی بوتل

یہ تو اکثر ہی سنا ہے کہ اگر آپ ہوٹلوں کے باورچی خانوں کی حالت زار، وہاں گندگی و غلاظت کا عالم ایک دفعہ خود دیکھ لیں تو آپ ہوٹلوں میں کھانا کھانا ترک کر دیں۔

اچھا جی یہ تو ہو گیا گھر سے باہر کھانا کھانا یا نہ کھانا۔

کسی کے گھر میں جا کرپانی پینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

تقریباً ہر گھر میں گھر کے چھوٹے بڑے افراد یہی کرتے ہیں کہ پیاس لگی تو گزرتے گزرتے فریج کھولا، پانی کی بوتل نکالی، منہ کو لگائی، غٹا غٹ کچھ پانی پیا اور بوتل واپس فریج میں۔

مہمان آئے۔ ان میں سے کسی نے پانی مانگا یا کھا نے کے ہمراہ انہیں پانی دینے کا مرحلہ آیا تو وہی منہ لگی بوتل مہمان کے سامنے حاضر بمعہ ایک خوبصورت گلاس۔ اس پانی میں ہے کچھ خاص۔

24 تبصرے:

عبداللہ said...

انتہائی گھناؤنی حرکت لگتی ہے اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے والدین نے کبھی ہمیں یہ حرکت نہیں کرنے دی،اور گلاس یا کٹورہ ہمیشہ استعمال میں رہا! :smile:

ڈفر - DuFFeR said...

میرے گھر میں (گھر والوں سمیت) کوئی ایسی حرکت کرتا نظر آجائے تو اس کو گھر بدر ہونا پڑے
نہیں نہیں میں گھر سے اسی وجہ سے تو دور نہیں ہوں :mrgreen:

پھپھے کٹنی said...

پارک ميں بچے اکثر ايسا کرتے ہيں اپنی بوتل دوسروں کو يا دوسروں کی بوتل سے خود پانی پيتے ہيں ادھر تو ميں کچھ ناگزير وجوہات کی بنياد پر خاموش رہتی ہوں گھر آ کر ميں نے سائينٹفک طريقہ يعنی پيار سے سمجھا ا اور روايتی طريقہ يعنی ہاتھ سے سمجھانا دونوں استعمال کر کے ديکھے پر بچے باز نہيں آتے ددھيالی طريقہ چھوڑتے ہی نہيں

قدیر احمد جنجوعہ said...

میں تو جی بوتل کو منہ نہیں لگتا۔ گلاس میں پانی پیتا ہوں اور بچا ہوا پانی بوتل میں ڈال کر مہمانوں کے لیے فریج میں رکھ دیتا ہوں
:mrgreen:

عنیقہ ناز said...

میرے گھر میں پانی فریج میں نہیں رکھا جاتا، واٹر کولر میں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ نوبت نہیں آتی۔ کہیں جاتے ہوئے پانی ساتھ میں رکھتی ہوں کہ فلٹر اور ابلا ہوا پانی استعمال کرتی ہوں۔ جو عام طور پہ لوگ نہیں کرتے۔ اب اپنے طور پہ لوگ جو گندگی چاہے کرتے رہیں۔
لیکن یہ کہ چونکہ زندگی میں بڑے مشکل سفر بھی کئے ہیں جیسے تھر میں شدید گرمی اور دوپہر بار بجے کیکر کے جنگل میں تقریبا ڈھائ میل چلنے کے بعد جو بھی پینے کو مل جائے نعمت ہے تو لوگ اگر ایسا کرتے ہیں تو بس کچھ نہیں سوچتی۔ یہی زندگی ہے۔

افتخار اجمل بھوپال said...

يہ بات حيرت کُن ہے ۔ ہمارے خاندان ميں تو جس گلاس ميں ايک پانی پی لے اُس ميں دوسرا نہيں پيتا ۔ بوتل کو منہ لگانا معيوب سمجھا جاتا ہے اسلئے گلاس ہی ميں پانی پيا جاتا ہے

عثمان said...

ہمارے ہاں بھی پانی کا کولر ہوتا تھا۔ جس میں برف ڈال کر پانی گلاس سے پیتے تھے۔

اگر مہمان آجائے۔ ۔ ۔تو پیپسی۔

باقی اگر آپ نے بوتل کا پتا لگا نا ہو کہ کسی نے منہ لگاکر پیا پے کہ نہیں تو غور فرمائیں کہ پانی میں کوئی چیز تیر رہی ہے کہ نہیں :x

Tawarish Moskovich said...

phaphay kutni gi aakhir yeh sab khawateen apny susraliz (bawazan israeliz ) par hi ilzamm kiyoun dayti hain ???? :roll:

شاہدہ اکرم said...

ہوتا ہوگا ایسا کُچھ گھروں میں یقینی لیکِن ہمارے گھر میں ایسا ہونا گویا اپنی شامت کو دعوت دینا ہوتا تھا اور وُہی عادت ہے اب میرے گھر میں بھی کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،،،
پاکِستان سے میرے ایک کزن آئے ہُوئے تھے اُنہوں نے واپس جا کر بہُت میری دِماغی حالت کا مزاق اُڑایا تھا کہ شاہدہ باجی تو بس سارے کاموں کے علاوہ سارا دِن گلاس ہی دھوتی رہتی ہیں،،،،
گھر سے باہر بھی جاتے ہیں تو فی بندہ چھوٹی بوتل ہوتی ہے :grin: :grin:

محمد طارق راحیل said...

بھی سمجھدار اور سلیقہ مند اور اچھے لوگ ایسا نہیں کرتے ان کے والدین اچھی تربیت دیا کرتے ہیں
اور کچھ لوگ جو بس لا پرواہ ہوا کرتے ہیں ان کے والدیں نے اچھی تربیت بھی دی ہے دیکھنے میں آیا ہے کو وہ بھی ایسا ہی کیا کرت ہیں خاص کر پکنک میں دفتر میں ٹریفک میں اور ایسے مقامات پر جہاں اٹھ کر پانی کے لئے دور جانا ہو پر ہمارے گھر ایسا نہیں ہوتا پانی گلاس میں پیا جاتا ہے اور بچا ہوا پانی یا تو ایک گلاس میں جمع کر کے گملوں میں ڈال دیا جاتا ہے یا پھر بہا دیا جاتا ہے پر جھوٹا پانی میں کراہیت محسوس ہو ایسی تربیت دی جانی چاہیئے تا کہ ہمارے بچے ہم سے سبق سیکھیں اور مہمانوں کے لئے ۔۔۔۔ ایسا پانی
استغفار۔۔۔۔ قدیر صاحب مذاق میں تو کہہ دی یہ بات
پر واقعی ایسا ہے تو آپ کے گھر کا بائیکاٹ کر دینا چاہئے آنے والے لوگوں کو

محمد احمد said...

بوتل کو تو ہم جب ہی منہ لگاتے ہیں جب واقعی گلاس وغیرہ دستیاب نہ ہوں۔ بچوں کو یہ سب باتیں بچپن سے سکھائیں تو ہوتے ہوتے اُن کے ذہن میں بیٹھ ہی جاتی ہیں۔

فکر پاکستان said...

یہاں سب نے یہ لکھا ہے کہ ان کے گھر میں ایسا نہیں ہوتا ۔۔ :razz: اور میرا خیال ہے پوسٹ لکھنے والے سے ان کے گھر کا حال پوچھا جائے تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ ہمارے ہان ایسا نہیں ہوتا ۔۔ :razz:

اب اپ یقیناً کہیں گے کہ میرے گھر میں کیا ہوتا ہے ۔۔ :smile: تو جناب ہمارے والد صاحب کا کہنا ہے کہ بوتلوں والا پانی استعمال کرنا صحت کے لئے اچھا نہیں ۔۔ منرل واٹر کی جو بوتلیں آتی ہیں وہ 8 دن سے زیادہ استعمال کرنے سے صحت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں ۔۔ اور کولڈ ڈرنکس کے ساتھ جو آتی ہیں وہ بھی دس بارہ دن سے زیادہ نہیں استعمال کرنی چاہییں تو بوتل رکھنے کا جھنجھٹ ہی نہیں ۔۔

سعد said...

:???: :???: :cry:

جعفر said...

آپ جو مرضی کہتے رہیں
کہ حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف اور بد تہذیبی اور وغیرہ وغیرہ
پر جو مزا بوتل سے منہ لگا کے پانی پینے میں آتا ہے
وہ گلاس میں‌کہاں
وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
:mrgreen:

احمد عرفان شفقت said...

آپ سب کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس مسئلے کے بارے میں اپنی رائے اور خیالات کا اظہار کیا۔ اس سے صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنا ممکن ہوا۔

حجاب said...

ہمارے ہاں میرے چھوٹے بھائی کو یہ عادت ہے ، اس لیئے میں نے اُس کے لیئے ایک بوتل فکس کر دی ہے کہ اس میں سے پیا کرو ، فریج سے پانی ہم دونوں کی پیتے ہیں تو بوتل کبھی ادھر اُدھر نہیں ہوتی ، باقی گھر کے لوگوں کے لیئے کولر میں پانی رکھا جاتا ہے ، اور مہمانوں کو میں کچھ بھی کھلاؤں یا پلاؤں ہمیشہ حفظانِ صحت کے عین مطابق ہی دیتی ہوں ، آپ کی یہ پوسٹ پڑھ کر تو ایک نئی سوچ مل گئی سوچنے کے لیئے :???: باہر جاتے ہوئے تو بوتل ساتھ لے جاتی ہوں کسی کے گھر جاؤں گی تو یہ بات یاد ضرور آئے گی :roll:

احمد عرفان شفقت said...

گھر میں اپنے یوں بوتل مخصوص کر دینا ایک مناسب اقدام ہے۔باقی جب کسی کے گھر جا رہے ہوں تو۔۔۔بس صبر ہی کیا جا سکتا ہے۔ وہاں تو اپنے ساتھ اپنی بوتل لے جانا ذرا معیوب لگے گا۔۔۔ہمیں نہیں، انہیں :smile:

یاسر عمران مرزا said...

واقعی یہ ایک گندی عادت ہے ۔ بچپن اور لڑکپن میں جب کبھی امی ہمیں ایسے کرتے دیکھتیں ، ہمیں ضرور ٹوکتیں۔ لیکن اب تو عرصہ ہو گیا امی سے دور ہوے۔ پہلے پڑھائی کے سلسلے میں چار سال شہر سے باہر پھر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب۔

شاہدہ اکرم said...

ہمارے بیڈ رُوم کے دونوں کونوں پر ہم دونوں اپنی اپنی بوتل الگ الگ رکھتے ہیں یہی حال میرے بچوں کا بھی ہے اپنے بیڈ پر الگ الگ بوتل ہوتی ہے بچوں کو اور بچیوں کو بھی اچھی عادتیں ڈالیں لیکِن بچیوں کی عادات اگلی پُوری نسل کی اچھائ بُرائ کی ضامِن ہوتی ہیں کوشِش کریں کہ اچھی عادتوں کو بچوں میں پروان چڑھائیں،،،،

احمد عرفان شفقت said...

@ شاہدہ اکرم:
الگ الگ بوتل والا آئیڈیا زبردست ہے۔ لیکن ہر گھر میں لوگ ایسا اہتمام کرنے سے جی چراتے ہیں۔اور اچھی عادتوں کو بچوں میں پروان چڑھانا واقعتاً بہت ضروری ہے گو عملی طور پر ان کی اچھی تربیت ایک مشکل اور محنت طلب عمل ہے۔

Faisal Haroon Uppal said...

چاچا جی انور مسعود صاحب نے اپنی نظم ، "انارکلی دیاں شاناں" میں ایک آسان سی ٹپ لکھی ہے۔
"بوتل دے نال منہ ناں لاویں، منہ وچ پا لئیں کانا"
یہاں "کانا" سے مراد پلاسٹک کی زرا لمبی سی نلی ہے جسے "سٹرا" کہتے ہیں۔
ویسے اگر کوئی بگڑا ہوا بچہ یا بگڑا ہوا بڑا، منہ میں "کانا" ڈال کر پانی پینے کے بجائے پھونک مار دے اس صورت میں وہ بوتل بھی "منہ لگی "بوتل بن جاتی ہے۔
اسی لئے والدہ محترمہ نےپلاسٹک کی ایسی بوتلیں خریدیں جن کے منہ ایسے تھے کہ "منہ لگانا"ناممکن تھا۔
اگر کوئی "منہ لگانے"کی کوشش کرتا تواس کا پورا چہرہ دھل جاتا،اور کچھ پانی ناک کے راستے سےداخل ہو کر سانسیں بھی مہکادیتا۔
اس کے علاوہ ہمارے گھر میں کولر پانی سے بھر کے فریزر سے برف نکال کر ڈالی جاتی تھی۔ مہمانوں کو کولر سے جگ بھر کر ساتھ شیشے کا خالی گلاس دیا جاتا رہا ہے۔

احمد عرفان شفقت said...

فیصل یہ زبردست بات ہے کہ بوتلوں کے اپنے منہ ہی ایسے ہوں کہ ان کو منہ لگانا ممکن ہی نہ ہو ۔ بہت خوب۔

Anonymous said...

koi masla nahin aik doosray ka jootha pi laonay say piyar berhta hay.

احمد عرفان شفقت said...

سن تو ہم نے بھی یہی رکھا ہے لیکن آج کل تو شاید دوریاں ہی بڑھ رہی ہیں۔

Post a comment