21.11.10

دیار غیر کو ہجرت

ڈیلی ایکسپریس میں محترمہ شیریں حیدر کا یہ مضمون پڑھا۔۔۔

کیا واقعی حقیقت ایسی ہی ہے؟

7 تبصرے:

توارش said...

گو کے تلخ ہے مگر حقیقت یہی ہے جو کالم نگارہ نے لکھی ہے۔

خاور کھوکھر said...

هاں واقعی حقیقت ایسی هی هے
جس نے باہر ناں جانے کا فیصلہ کیا اور ڈٹ گیا
اس کی جیت هوئی
اور
جو باہر چلا گیا اس کو دکھ زیادھ ملے
جهاں فیصلہ میرے هاتھ میں تھا
میں نے اپنے بھائی کو کہا که ڈٹ جاؤ باهر نهیں جانا
اس وقت وھ اپنے بچوں میں پاکستان میں سکھی زندگی گزار رها هے اس کے پاس اپنی کمائی سے خریدی گڑی ہے مکان هے ،اور علاقے میں لوگ اس کو جانتے هیں اور وھ بھی لوگوں کو جانتا هے
یعنی اپنے معاشرے میں اپنوں کے ساتھ رہتا هے
اور میں
خجل هو کے رھ گیا هوں
میں نے کئی سال پہلے بھی لکھا تھا که اگر پاکستانیوں کو یورپ کا وزٹ ویزھ اسانی سے مل جایا کرے که جس کی شرائط وهی هوں جو اب هیں
تو
ننانوے فیصد لوگ واپس آجایا کریں
لیکن ویزے پر قرض لے کر کیا گیا خرچ اور کوششوں کی تفصیل سے شرم اتی هے که لوگ کیا کہیں کے اگر واپس چلا گيا تو

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

جی بالکل ایسی ہی ہوتی ھے۔
باہر کا رستہ ون وے ھے۔
واپس آنا چاہو بھی نہیں آسکتے یا دوسرے آنے نہیں دیتے۔
دوست کا مہینے پہلے دل کا آپریشن ہوا۔
مہینے بعد پاکستان سے خیر خیریت کا فون آیا۔
جب الحمد اللہ الحمداللہ کچھ زیادہ کردی تو ساتھ میں ھی حالات کا رونا شروع اور ایک لاکھ کی پھکی وصول ہو گئی۔
حیرت سے منہ کھولے وہ صاحب میرا منہ دیکھ رہے تھے۔ :lol:

احمد عرفان شفقت said...

@ یاسر خوامخواہ جاپانی:
اوہ۔۔۔اچھا!

عثمان said...

مختلف لوگوں سے مختلف جواب ملیں‌ گے۔
مجھ سے پوچھیں تو یہ تحریر احمقانہ اور جذباتی ہے۔ یقناَ زمین کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں‌ جو جنت بے نظیر ہو۔ انسان کو ہرجگہ مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔ خوشی اور غمی آپ کو ہرجگہ مل جائے گی۔ تاہم مسئلہ تقابل اور چوائس کا ہے۔
میں‌ واپس ایک ایسی جگہ جانے سے کانوں کو ہاتھ لگاؤں‌گا جہاں میں راہ چلتے کسی اندھی گولی کا شکار ہوجاؤں۔ کسی مجاہد بمبار کے بم کا شکار ہوجاؤں۔ جہاں مجھے سالہا سال اپنی محنت اور ایمانداری کا بھرپور صلہ نہ ملے۔ جہاں قدم قدم پر میری عزت نفس مجروح ہوتی رہے۔ جہاں میں‌ ہرچیز لٹا کر بھی کچھ نہ حاصل کرپاؤں۔
میرے خاندان اور میرے لئے میری موجودہ زندگی اور موجودہ وطن ہرلحاظ سے بہتر ہے۔ مادی سہولیات کی بابت پوچھیں ، تو تقابل میں‌ یونیورسٹی سے لے کر جاب تک ، پینے کے پانی سے لے اداروں کی سروسز تک ، مجھے ہرچیز بہتر نظر آتی ہے۔ ذاتی طور پر مجھے ایسی کسی پریشانی کا سامنا نہیں‌ جس کا ذکر اوپر کالم میں‌کیا گیا ہے۔ ہاں بوجہ ناسٹالجیا لاہور والے گھر ، بازاروں‌ ، گلیوں ، ہائی سکول ، کالج ، ٹھیلے والوں ، لاہور کے رکشے ویگنوں کی یاد کبھی کبھی ستاتی ہے۔ لیکن یاد تو مجھے ٹورنٹو میں‌ اپنے پرانے اپارٹمنٹ کی بھی ستاتی ہے۔ لیکن یہ نوسٹالجک جذبات زندگی کی عملی حقیقتوں‌ کے آگے کوئی اتنی اہمیت نہیں‌ رکھتے۔ زندگی آگے کی طرف سفر کررہی ہے۔
اگر آپ کا پیمانہ کامیابی فرمانبردار اولاد سے لے کر "اپنا کلچر" تک ہے۔ تو یہاں ایسے افراد بھی موجود ہیں‌ جن کے بچے سر نہیوڑائے ماں باپ کے اشارے پر پاکستان کے کسی دیہات میں‌ شادی کروا آئے ہیں۔ البتہ ایسے فضول جذباتی فیصلوں سے ان کی زندگی کیسے جہنم بن جاتی ہے وہ ایک الگ موضوع ہے۔ بچوں کی اچھی تربیت کرنی ہے تو یہاں بھی ہوسکتی ہے۔ میرے خاندان میں‌ مثالیں‌ میرے سامنے ہیں۔
میرے والد کی سوچ مجھ سے بھی آگے ہیں۔ باوجود اس کے کہ انھیں‌ پاکستان اور بھارت میں‌ اپنا آبائی دیہات بہت شدت سے یاد آتا ہے لیکن انھوں‌ نے پاکستان میں اسقدر تلخ اور کٹھن زندگی گزاری ہے کہ اب وہ چاند پر رہ لیں‌ گے لیکن پاکستان نہیں‌ جائیں‌گے۔


دوسری طرف دنیا کا کوئی خطہ ایسی جہنم بھی نہیں۔ پاکستان میں‌ بھی ایسے لوگ بستے ہیں‌جن کی زندگی وہیں‌ کامیابی اور خوشی سے مزین ہے۔ کہ انھیں‌کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔

تو اب اگر آپ جذبات اور صرف اور صرف جذبات کو سامنے رکھ کر ہی رائے دینا چاہتے ہیں‌ تو پھر تو جناب ۔۔۔ "جیوے جیوے پاکستان" ورنہ ، نو تھینکس۔
اوپر تبصرہ نگاروں نے بھی صرف اپنے جذبات گنوائے ہیں۔ چوائس ان کے پاس ہردم موجود ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے وہ مستقبل اپنے دیہاتوں‌کا رخ کبھی نہ کریں‌ گے۔
باقی ہر ایک اپنا اپنا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ کوئی عمومی اور حتمی رائے دینا مشکل ہے۔ صرف ایک بات حتمی کہی جاستکی ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو کبھی قناعت نہیں‌کرتا۔ اگر ایک چیز حاصل کرلے تو دوسری کی یاد ستاتی ہے۔ دوسری مل جائے تو پہلی کی خواہش جان نہیں‌ چھوڑتی۔

جاویداقبال said...

واقعی کالم تولاجواب لکھاگیاہے۔لیکن کیاکریں کہ انسان توواقعی کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوسکتاکیونکہ ارشادربانی جوہےکہ انسان ناشکراہےتوہم لوگ توناشکرےہیں۔ باقی اپناملک اپنےلوگ اپنی گلیاں اپنےمحلےسب کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کےبغیرزندگی ایسےہی ہوتی ہےجیسےکہ خوشبوکےبغیرگلاب

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ said...

یعنی اچھی دعا کیلئے بیوقوف سے رجوع کیا جائیا کرے اور عقلمند کے ہاتھوں مدد کی بجائے دعاؤں کے زریعے بیوقوف بنا جائیا کرے ۔

Post a comment