24.11.11

بابی یار Babi Yar

؀
وہی مکان، وہی گلیاں مگر وہ لوگ نہیں،
یہی مراد تو ہے بستیاں اجڑنے سے۔     
انسان کا بھی عجیب معاملہ ہے۔ پیدا ہوتا ہے تو وہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بعد کی زندگی میں اپنے گمان کے مطابق کامیابی حاصل کرنے کے لیے سالہا سال چیزوں کے حصول اور کاموں کی تکمیل کی خاطر اندھا دھند بھا گتا رہتا ہے، اس بات سے بے خبر کہ اس دوران زندگی گزرتی جا رہی ہے۔
پھر ایک دن غیر متوقع طور پر موت کا فرشتہ مقرر کیے ہوئے وقت سے نہ ایک سیکنڈ پہلے نہ ایک لمحہ بعد جان نکال لینے کے لیے آ پہنچتا ہے۔موت سے اس اپنے شب و روز میں مگن انسان کی یہ دنیا والی زندگی اختتام پذیر ہو جاتی ہے اور پھر وہ ایک اور ہی جہاں میں جا پہنچتا ہے جو اس دنیا ہیں رہتے ہوئے اس کی آنکھ سے اوجھل تھا اور جہاں اب اسے دائمی طور پر رہنا ہے۔
بعض اوقات موت اجتماعی طور پر آن دبوچتی ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ ستمبر ۱۹۴۱ میں یوکرین کے مقام پر ہوا۔ دوسری جنگ عظیم جاری تھی۔ ہٹلر کی نازی افواج ۱۹ ستمبر ۱۹۴۱ کو یوکرین کے دارلحکومت کیف (Kiev) پر قابض ہو چکی تھیں۔ ۲۶ ستمبر کو جرمن فوج کی طرف سے کیف کے یہو دیوں کے لیے شہر بھر میں ایک اعلانیہ چسپاں کیا گیا جس میں تمام یہودیوں کو کہا گیا کہ ۲۹ ستمبر کو وہ سب اپنا سامان، قیمتی اشیاء، نقدی، دستاویزات ہمراہ لیے،گرم کپڑے پہنے صبح آٹھ بجے شہر میں واقع یہودیوں کے قبرستان کے قریب جمع ہو جائیں۔ نہ پہنچنے والوں کو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔
نازیوں کو امید تھی کہ کوئی پانچ چھ ہزار یہودی اس دن وہاں اکٹھے ہو جائیں گے لیکن وہاں تو تیس ہزار سے زیادہ یہودی۔۔۔آدمی، عورتیں، جوان، بوڑھے،بچے۔۔۔ اپنے مال و متاع سمیت آن پہنچے۔ دراصل نازیوں نے اس قدر مہارت اور چالاکی سے سارا منصوبہ ترتیب دیا تھا کہ یہودی آخر وقت تک یہی سمجھتے رہے کہ ان کو وہاں اس لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے تا کہ ان سب کی کسی اور علاقے میں نقل مکانی کی جائے جہاں وہ اکٹھے مل کر آباد ہو سکیں۔سب یہودی اسی گمان میں رہے کہ جلد ہی ان کو ریل گاڑیوں میں سوار کر دیا جائے گا۔
جب تک حقیقت ان پر کھلی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔جب ان کو مشین گنز چلنے کی ترتراہٹ سنائی دینی شروع ہوئی تو تب کسی کے لیے بھی جان بچا کر فرار ہونا ممکن نہیں رہا تھا۔انتہائی منظم طریقے سے تمام یہودیوں سے ان کا سامان لے لیا گیا اور ان کا تمام لباس اتروا لیا گیا۔پھر دس دس یہودیوں کو فوجی بابی یار کی طرف ہانک کر لے جاتے جہاں ان کو گولیوں سے اڑا دیا جاتا۔بابی یار کیف میں واقع ایک گھاٹی کا نام ہے جو تقریباً ۱۵۰ میٹر لمبی، ۳۰ میٹر چوڑی اور ۱۵ میٹر گہری ہے۔دو دن میں ۳۳۷۷۱ یہودی گولیاں مار کر ختم کر دیے گئے اور بابی یار میں ان کی لاشوں کے انبار لگا دیے گئے۔

اور رہا انفرادی موت کا سلسلہ تو وہ تو ہمارے ارد گرد چلتا ہی رہتا ہے۔ انسان اپنے خاندان والوں کو اور دوست احباب کو  فوت ہوتے دیکھتا تو ہے لیکن کسی نہ کسی طرح اپنے لیے اس کے دل میں یہی گمان رہتا ہے کہ یہ تو دوسرے لوگ ہیں  جوفوت ہوتے ہیں، میں نے تو ابھی زندہ ہی رہنا ہے۔میں تو ابھی صحتمند ہوں،میرے تو بہت سے منصوبے ابھی ایسے ہیں جن کو میں نے پورا کرنا ہے، میں تو ایک اہم انسان ہوں۔۔۔یہ گھر یا یہ ادارہ میں ہی تو چلا رہا ہوں۔میں ابھی فوت نہیں ہوسکتا۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موت بہت ہی چپکے سے آ جاتی ہے۔ضروری نہیں کہ کوئی بیمار ہی ہو یا بدحال ہو تو ہی مرتا ہے۔ 

موت کے ساتھ ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور اعمال کا سلسلہ موقوف ہو جاتا ہے۔یہ جو وقت ہمیں ملا ہوا ہوتا ہے یہ بس ایک مہلت ہی ہے۔سٹیو جابز کا یہ کہا Your time is limited بہت قابل غور ہے۔ لیکن جیتے جی ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ نہ ہی یہ بات یقین میں آ تی ہے کہ زندگی میں جو کچھ ہم کر رہے ہیں، موت کے بعد اس سب کے لیے ہمیں اپنے خالق کے ہاں جواب دہ ہونا ہے اور پھر سزا اور جزا کا سلسلہ ہے۔ہمارا دل یہ مان کے ہی نہیں دیتا کہ دنیا کا یہ سلسلہ عارضی ہے۔۔۔


؀
وہ وقت،وہ محفلیں،وہ شگوفتہ مزاج لوگ
موج زمانہ لے گئی جانے کہاں کہاں     

5 تبصرے:

ارشد کمبوہ said...

بہت بہت شکریہ بھائی جان

نورمحمد said...

شکریہ محترم ۔
کافی نصیحت آموز تحریر ہے - واقعی میں ہم وقت کی قدر نہیں کر رہے ہیں ۔۔۔۔

درویش خُراسانی said...

یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس سے دنیا کا کوئی بھی مذہب منکر نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس راہ کیلئے تیاری کی توفیق دے۔

محمد ریاض شاہد said...

محترم اسلام علیکم
بہت عرصے کے بعد تشریف آوری ہوءی ہے آپ کی ۔ عمدہ خیال ہے ۔

احمد عرفان شفقت said...

آپ حضرات کا بہت شکریہ :smile:

Post a comment