29.12.11

پیسہ۔۔۔کتنا آخر؟


ہماری زندگی کا وقت محدود ہے۔ اس محدود وقت کو لا محدود پیسہ کمانے کے لیے لگا چھوڑنا یہ کیسی بات ہے؟ اور اتنا زیادہ پیسہ کمانا جتنا ہم خرچ بھی نہ کر سکیں، اس کا فائد ہ؟  آپکا پیسہ تو وہی ہے نا جس کو آپ خرچ کر سکیں۔  خوش انسان تو وہ ہوتا ہے جس کی خواہشات اور ضرورتیں محدود  ہوئیں نہ کہ وہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پیسہ ہو۔ 

اور یہ بھی کیسی بات ہے کہ ان لوگوں کے لیے کمائے چلے جاو جن کے ساتھ گزارنے کے لیے آپ کے پاس وقت ہی نہیں کیونکہ سارا وقت تو آپ اور زیادہ کمانے کے چکر میں رہتے ہو۔ جوانی میں آپ اپنی صحت سے بے پرواہ ہو کر روپے کے تعاقب میں صحت گنوا دیتے ہو۔ بوڑھے ہو کر اس روپے سے صحت واپس خریدنے کی کوشش کرتے ہو۔ لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔   

6 تبصرے:

Ammar IbneZia said...

لیکن بھائی یہ چھوٹی سی بات بڑے بڑے لوگوں کی سمجھ میں ذرا مشکل ہی سے آتی ہے۔

احمد عرفان شفقت said...

یہی تو۔ بے شمار چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہیں جو اگر سمجھ میں آ جائیں تو زندگی بدل جائے ہماری۔ لیکن کیسے؟ حالانکہ بڑی بڑی اور بہت بڑی بڑی باتیں انسان سمجھ لیتا ہے۔

Saqib Ahmed Shah said...

السلام علیکم،
بہت اچھا لگا کہ آپ نے میرے بلاگ پر کمنٹ کیا۔ جہاں تک پیسہ کمانے کی بات ہے تو میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ ہماری خواہشات ہی وہ شے ہے جس کی وجہ سے پیسے کمانے کی لت بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ اگر میں 2ہزار کے موبائل سے گزارہ کرسکتا ہوں لیکن دوسروں کی دیکھا دیکھی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ 10ہزار والا ٹچ اسکرین موبائل ہو۔ اب اگر آپ غور کریں کہ جس کی استطاعت 2ہزار والے موبائل کی ہو وہ خواہش کرے کہ اس کے پاس 10ہزار والا موبائل آجائے جوکہ صرف اور صرف یہ شخص اسلیے کررہا ہے کہ دوسروں کو اپنی اہمیت کا احساس دلانے اس کے برخلاف کہ اس شخص کو واقعی اس شے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔
میں نے اس امر پر بہت غور کیا کہ آج کے دور میں اور آج سے40سے50سال پہلے کیا فرق رہا ہے گو کہ میں اتنا پرانا نہیں ہوں ۔۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری خواہشات بڑھتی جارہی ہیں جس کے سبب جتنی بھی تنخواہ یا کاروباری منافع ہو ہمیں کم محسوس ہوتاہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی کئی دن فاقوں میں گزارتے تھے ۔۔۔۔۔جی ہاں ہم بھی ان ہی کے امتی ہے جو ایک وقت کا کھانا ۔۔۔۔ جی صر ف ایک وقت کے کھانے میں چند ساعتوں کی دیر کے باعث گھر میں کہرام مچا دیتے ہیں ۔

اللہ پاک ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں۔
ثاقب شاہ

احمد عرفان شفقت said...

اب سے 40 سال پہلے بلکہ 30 سال پہلے کی بھی زندگی میں ایک فرق یہ تھا کہ چیزیں اتنی زیادہ تھیں ہی نہیں۔ اب تو لاتعداد چیزیں اور ان کے ڈیزا ئن اور ماڈلز ہیں۔ ایک دوسرے کو متاثر کرنے اور اپنی برتری ثابت کرنے کے لیئے چیزوں کا ایک نہ ختم ہونے والا تعاقب شروع ہو چکا ہے۔

ثاقب شاہ said...

جی میرا یہی مقصد تھا۔
جزاک اللہ

ثاقب شاہ

کوثر بیگ said...

بہت اچھی بات کہی ہوس وہ بلا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی اللہ ہمیں توکل عطا کرے۔جب دنیا کے فانی ہونے کا یقین ہے پھر اس میں مشغول رہنا نادانی نہیں تو کیا ہے ۔اللہ پاک آپ کے قسمت میں دولت رکھی ہے تو ہمیں چاہیے کے ہم اس کودنیا نہیں بلکہ اپنی آخرت کی بہتری یعنی مجبور ،بے بس انسانوں کی مدد کرنا چاہیے اللہ ہم کو توفیق دے

Post a Comment