Showing posts with label ادب آداب. Show all posts
Showing posts with label ادب آداب. Show all posts

2.6.10

منہ دیکھنے

کچھ عرصہ قبل اظہر عابدی کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اپنے ناول Twilight کے بارے میں بات کی۔ اظہر آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ ان کا یہ ناول کراچی میں رہنے والی ایک ایسی خاتون کے بارے میں ہے جس کے بیٹے نے ایک آسٹریلوی عورت سے شادی کر لی۔

عابدی کہتے ہیں کہ وہ ان ماؤں کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے بڑے ہوتے ہیں اور پھر گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ان کے اس ناول کی تحریک یہی خیال بنا کہ نوجوان لوگ اپنے والدین کو تنہائی کے حوالے کر کے خود دور دراز کے ممالک میں پکے جا بستے ہیں۔

خود عابدی نے ایک آسٹریلوی لڑکی سے شادی کی جبکہ ان کے والدین کو امید تھی کہ وہ شادی کے لیے اپنے لوگوں ہی میں سے کسی کا انتخاب کریں گے۔ شادی کے بعد وہ پاکستان میں نہ رہ سکے کیونکہ ان کی بیوی یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی۔ اس کی خواہش کے مطابق عابدی اس کے ہمراہ آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔ ان کے والدین پیچھے پاکستان میں رہ گئے۔ لیکن دور چلے جانے کے باوجود عابدی کے دل میں اپنے والدین کے لیے ایک احساس ذمہ داری ہمیشہ رہا۔

عابدی کہتے ہیں کہ بعد ازاں وہ جب بھی کچھ سال کے وقفے سے وطن واپس آتے تو اپنے والدین کو پہلے سے کچھ زیادہ بوڑھا اور کمزور پاتے۔ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے ہمیشہ ایک خدشہ ان کے دل کی گہرائی میں کہیں موجود رہتا کہ کسی دن ایک فون کال آئے گی جس میں ان کو یہ سننا ملے گا کہ ان کے والدین میں سے کوئی ایک فوت ہو گیا ہے۔اس قسم کے اندیشوں میں لپٹا ہوا ایک سوال اکثر ان کی سوچوں میں سر ابھارتا رہتا کہ کیا انہو ں نےاپنے وطن میں سکونت ترک کر کے اور ایک غیر ملکی سے شادی کرکے درست فیصلہ کیا تھا۔

عابدی کا یہ انٹرویو پڑھنا ایک اداس کر دینے والا تجربہ تھا۔ بہت سے لوگ جوانی میں اپنے گھر سے دور کسی اور ملک میں مستقل جا بسنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ اس احساس تنہائی کا قطعاً اندازہ نہیں کر سکتے جو اپنی اولاد سے یوں جدائی کے نتیجے میں انکے والدین کو ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کو اس دکھ کا اندازہ بھی نہیں ہوتا جو ان کے والدین کو تب ہوتا ہے جب یہ لوگ پردیس میں کسی غیر ملکی سے شادی کر لیتے ہیں۔

ساری زندگی تو یہ لوگ والدین سے دور گزار دیتے ہیں لیکن جب یہی والدین آخر میں فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی میت کی تدفین رکی رہتی ہے۔ پتا چلتا ہے کہ ان کا وہ بیٹا جو سالوں پہلے ان کو چھوڑ کر کسی اور دنیا میں جا بسا تھا اب 12000 کلومیٹرز کا سفر طے کر کے ان کا منہ دیکھنے آ رہا ہے۔ اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف ایسے لوگ بھی دیکھے گئے ہیں جو بہتر زندگی کے گمان میں والدین سے دور کہیں سمندر پار رہنے چلے تو گئے لیکن پھر انہوں نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی۔ سوچا اور جانچا کہ کیا ایک ایسی زندگی کا انتخاب درست ہے جس میں آسانیاں اور آسائشیں تو ہیں لیکن ساتھ میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والا احساس زیاں اور پچھتاوا بھی ہے۔ اور پھر وہ لوٹ آئے۔

27.5.10

یہ جتنی بھی یہ والی باتیں ہیں

یہ جتنی بھی یہ والی باتیں ہیں
جو تمہیں بتا ئی جاتی ہیں
اور جو تم مجھے بتاتی ہو
ان سب کا مقصد بس ہے یہ
کہ وقت گزرئے۔
زیادہ سے زیادہ وقت گزرئے
تاوقتیکہ
اتنا وقت گزر جائے
کہ یہ محبت مر جائے۔۔۔

19.5.10

ایک اچھی تحریر کی خوبی

اس اہم موضوع پہ نعمان رقمطراز ہیں:
”ایک اچھی تحریر کی خوبی لوگ اکثر اسطرح جانچتے ہیں کہ وہ کسقدر اثر انگیز ہے، مصنف اپنا پیغام قاری تک پہنچانے میں کامیاب رہا یا نہیں۔ باقی سب چیزیں ثانوی ہیں۔

بعض اوقات لکھنے والے الفاظ کے چناؤ میں بے احتیاطی کے سبب اپنی تحریر کی اثر پذیری اور قاری تک اپنا نکتہ نظر پہنچانے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ اگر آپ اس معیار میں ناکام ہوجائیں تو تحریر اچھی کہلانے کی مستحق ہوگی؟

اس کی بہت ساری مثالیں کلاسیکی ادب میں موجود ہیں۔ جب ماہرین فن نے ٹکسالی فحش زبان کو ذریعہ اظہار بنایا ہے۔ مگر تب جب الفاظ کا یہ چناؤ اور اظہار کا یہ طریقہ ان کی تحریر کی اثر پذیری اور مقصدیت کے لئے ضروری تھا۔ جملے بازی اور فحش تمثیل کا بے جا استعمال تفریح کا ذریعہ تو ہوسکتا ہے، مگر یہ کسی تحریر کو اچھا نہیں بناتا۔

تحریر اچھی ہونے سے مراد یہ نہیں کہ اسے شاہکار ہی ہونا چاہئے۔ لیکن ایسا ہونا چاہئے کہ قاری اس سے لطف اندوز ہو۔ وہ اسے ٹھیک سے سمجھ سکے اور اس میں موجود پیغام، خیال یا سوال کی تائید و تردید کر سکے۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بطور قاری آپ کو مصنف کا الفاظ کا چناؤ ناگوار گزرتا ہے۔ یہ قطعا قاری کا نہیں بلکہ سراسر مصنف کا قصور ہے کہ اس نے قاری کو اس ناگواری کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں کیا۔ اور الفاظ کے بے جا چناؤ کے سبب قاری کو تحریر مقصد سے عاری اور پھکڑ بازی پر مبنی نظر آئی۔

قاری کو یہ احساس ہوا کہ مصنف پھکڑ بازی پسند کرنے والے ٹولے کی داد پانے کے لئے اپنے معیار پر سمجھوتہ کررہا ہے۔ وہ اپنی بذلہ سنجی، شگفتگی اور ذہین حس مزاح کو ٹھیلے پر بکنے والے فحش لطیفوں کی سطح پر لے کر آرہا ہے۔ قاری اسے اپنی تذلیل سمجھتا ہے۔ کیونکہ ایک مصنف جسے مسلسل پڑھنے والے قاری مل جائیں تو قارئیں اور اس کے درمیان اعتماد کا ایک رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف اپنے انداز سے پھر رہا ہے اور وہ اس بے وفائی پر مصنف کو برا بھلا کہتا ہے۔

آپ کو ایسی کئی مثالیں ملیں گی جن میں لکھنے والوں نے اپنے انداز تبدیل کرنے کی بارہا کوشش کی اور پھر وہیں لوٹ آئے جو ان کا انداز تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ قاری کے قصیدوں کے بھوکے تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے اصل انداز میں زیادہ پراثر تھے۔

اگر آپ اچھا لکھنا نہیں چاہتے، یعنی نہ اثرانداز ہونا چاہتے ہیں نہ خیالات کی ترسیل چاہتے ہیں۔ تو پھر آپ اچھا لکھیں چاہے برا، کیا فرق پڑتا ہے؟“

19.4.10

شفیق الرحمان: ایک مزاح نگار کے غم

شفیق الرحمان کا نام آتے ہی مسکراہٹ اور مزاح کا تصور ہی آتا ہےذہن میں۔ حال ہی میں ان کے بارے میں ایک مضمون پڑھ کر میں حیران رہ گیا کہ شفیق الرحمان کی زندگی میں کتنے گہرے رنج و الم تھے۔
شفیق الرحمان کا تعلق ایک خوش حال، خوش باش اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ادب سے لگاو انہیں والدین سے ورثے میں ملا تھا۔انہیں اپنے دو بھائیوں اور ہمشیرہ سے بہت محبت تھی۔ کنگ ایڈورڈ لاہور میں تعلیم کے دوران انہیں سٹیج ایکٹر کے طور پہ اپنے جوہر دکھانے کا خوب موقعہ ملا۔انہی دنوں میں شفیق الرحمان نے اپنی پہلی کہانی ”چاکلیٹ“ لکھی۔
1940 کا لاہور ادب کا گہوارہ تھا. ایک اور افسانہ ”فاسٹ باولر“ منطر عام پہ آنے سے شفیق الرحمان کو ادبی حلقوں میں خاطر خواہ پذیرائی ملی۔فیض،منٹو، کرشن چندر،ساحر، راجندر سنگھ بیدی جیسی مایہ ناز ادبی شخصیات کی صحبت نے شفیق الرحمان کے فن تحریر کو خوب جلا بخشی۔
1942شفیق الرحمان کی زندگی کا ایک اہم سال ہے۔ اس سال انہوں نے ایک تو MBBS کا امتحان پاس کر لیا اور ساتھ ہی ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ”کرنیں“ شائع ہو گیا۔22 سال کی عمر میں ان کی یہ کامیابیاں قابل رشک تھیں۔1950 میں شفیق الرحمان مزید تعلیم کے لیئے برطانیہ گئے۔ تب انہیں یورپ کے طول و عرض میں سفر کرنے کا موقعہ ملا۔ ان سب تجربات کو انہوں نے اپنے سفر نامے “برساتی” کی زینت بنایا۔
غرض کہ ان کی زندگی ترقیوں، کامیابیوں اور خوشیوں کا ایک خوبصورت مرقع تھی۔پھر اچانک اس زندگی میں ایک اندوہناک موڑ آیا۔ شفیق الرحمان کے دو بیٹوں نے خودکشی کر لی۔ ان بیٹوں سے شفیق کو بے حد لگاو تھا۔انکے ساتھ شفیق ہمیشہ دوستوں کی طرح رہے اور ان کی تعلیم و تربیت میں ان کی خوب معاونت کی۔یہ معلوم نہ ہو سکا آخر کس بات نے ان دونوں کو خودکشی جیسے انتہائی اقدام پہ مائل کیا۔
اس شدید غم ناک سانحے نے شفیق الرحمان کی طبیعت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔اپریل 1981 اور اپریل 1991کے درمیان جو خطوط انہوں نے ڈاکٹر صفیہ بانو کے نام لکھے ان میں شفیق کے کرب و الم کا بیان نظر آتا ہے۔یہ خطوط ادبی جریدے ”مکالمہ“ میں شائع ہوئے۔ہر بعد والا خط پہلے والے سے زیادہ شدت کے ساتھ شفیق کے رنج و ملال کا مظہر ہے۔
پھر ان کے بھائی خلیل الرحمان کی موت واقع ہوئی۔اور 1987 میں ان کی نو عمر بھتیجی نصرت بھی فوت ہو گئی۔ ان اموا ت نے بھی شفیق ا لرحمان کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے ۔ انہی دنوں میں ان کی اہلیہ دل اور سانس کے عارضوں میں مبتلا ہو گئیں۔شفیق دونوں کی زندگی میں آنے والے گہرے غم و رنج کو اپنی شریک حیات کی بیماری کی وجہ سمجھتے تھے۔ پھر ان خاتون کو ایک ایسے مرض نے آن لیا جس میں مریض کا خون جسم سے کچھ مدت بعد نکالنا ہوتا ہے۔اسی اثنا میں شفیق الرحمان کے چھوٹے بھائی عتیق الرحمان بھی داغ مفارقت دے گئے۔
یوں تو موت کوئی انہونی چیز نہیں ہے۔ لیکن بسا اوقات اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا غم سوہان روح بن جاتا ہے۔ انسان بوکھلا سا جاتا ہے ، سمجھ نہیں پاتا کہ ایسا کیونکر ممکن ہے کہ وہ لوگ جو اسکے ساتھ ایک طویل مدت تک رہے اب وہ ایسے گئے ہیں کہ اب وہ ان کی شکل تک نہیں دیکھ پائے گا، کبھی بھی ان کی آواز تک سن نہیں پائے گا۔ جبکہ ان چلے جانے والے لوگوں سے متعلق چیزیں پہلے کی طرح آس پاس موجود نظر آتی رہیں گی۔
شفیق الرحمان بھی اپنے عزیزوں کی موت سے از حد پریشان اور رنجیدہ ہو گئے تھے.مر جانے والوں کے پیچھے رہ جانے والوں کو اللہ آہستہ آہستہ صبر ضرور دیتا ہے مگر بعض اوقات بعض لوگ غم کی گہرائیوں سے باہر نکل نہیں پاتے۔ غم بنیادی طور پہ انسان کی سوچ اور خیال پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی سوچ کو ہم طویل عرصے کے لیے اپنے ذہن میں جگہ دیئے رکھیں اور ہماری ذہنی توجہ اس ایک خیال پہ ہی ہر وقت رہے تو پھر ہم مستقل ایک ہی قسم کی ذہنی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ یہ کیفیت امید اور خوشی بھی ہو سکتی ہے اور مایوسی اور بے کیفی کی بھی۔جیسا خیال ویسی دل کی کیفیت۔
شفیق الرحمان آخر خود بھی 2000 میں وفات پا گئے۔ ان کے پسماندگان میں ان کا سب سے بڑا بیٹا عتیق ہے۔ انسان جب اپنی خوش باش زندگی کے پر لطف شب و روز گذ؎ار رہا ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ حالات ہمیشہ یوں ہی رہیں گے۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ ایک وقت آئے گا کہ دھیرے دھیرے سب کچھ یوں بدل جائے گا جیسے پہلے کبھی تھا ہی نہیں۔ حالات بگڑ جائیں تو پھر تو انسان اللہ کو پکارتا ہی ہے۔یہ بہت ضروری ہے کہ خوشی اور آسانی کی فراوانی والے وقت میں بھی اللہ سے اسکے فضل،رحمت، خیر و برکت اور عافیت کی دعایں مانگی جاتی رہیں۔

13.1.10

خوبصورت زندگی کو ہم نے کیسے گزارا!

خاص طرح کی سوچ تھی جس میں سید ھی بات گنوا دی
چھوٹے  چھوٹے  وہموں  ہی  میں  ساری  عمر  بتا   دی