Showing posts with label غور و فکر. Show all posts
Showing posts with label غور و فکر. Show all posts

23.7.12

اے اللہ۔۔۔

آج تو نے مجھے ساری دنیاوی نعمتیں عطا کی ہیں،ممکن ہے کل تو یہ سب واپس لے لے۔آج تو نے مجھے بھرپور قوت اور صحت عطا کی ہے،ممکن ہے کل میرا جسم بیماریوں سے لاغر ہو جائے۔آج تو نے مجھے بہترین تعلقات عطا کیے ہیں،ممکن ہے کل میرے رشتہ دار، دوست احباب، ملنے والے، چاہنے والے مجھے چھوڑ جاہیں۔ آج تو نے مجھے مال و دولت اور وسائل سے نوازا ہے،ممکن ہے کل میں بالکل محروم اور غیرمحفوظ ہوجاوں اورمصائب اور مشکلات میں ایسا ِگھر جاوں کہ لوگ میرا مذاق اڑائیں اور میری تذلیل کریں ۔۔۔ اس لیے تو مجھے توفیق دے کہ

اپنے سکھ اور خوشحالی کے نشے میں کسی کو نظر انداز نہ کروں اور اپنے عزیز و اقارب کی محبت کو اپنا حق نہ سمجھنے لگوں۔ موزوں حالات کے بل بوتے پر میں اپنی ذات کو ناقابل شکست نہ سمجھنے لگوں اور غلط فہمی کا شکار نہ ہو جاوں کہ مجھے کچھ بھی نہ ہو گا۔ جب سب کچھ موافقت میں ہو رہا ہو تو اسے میں اپنی اہلیت اورعقلمندی کا نتیجہ نہ سمجھوں اور نہ یہ سمجھنے لگوں اے اللہ کہ مجھے تیری ضرورت ہی نہیں۔ اور اگر حالات ناسازگار ہوں، سب تدبیریں الٹی ہو جائیں اور سب کچھ ِچھن جائے تو اسے تیری نا مہربانی سمجھنے کی غلطی ہر گز نہ کروں۔

    کیونکہ اے اللہ ! سب کچھ عطا کرنے میں اور واپس لینے میں بھی تیری حکمت پوشیدہ ہے، دونوں کے پس منظر میں تیرا کرم ہی کار فرما ہے۔ راستہ پھولوں سے سجا ہو یا کانٹوں سے بھرا ہو، میں اس پر چل کر تیری فرمانبرداری کا حق ادا کروں اور تیری رضا حاصل کر کے کامیابی کے ساتھ آخرت میں جا پہنچوں۔ آمین۔

5.1.11

ہاں یہ وہی دسمبر تھا۔۔۔

”دیکھو یہ جو دسمبر ابھی گزرا ہے نا یہ وہی دسمبر تھا جس کا تمہیں انتظار تھا۔اوریہ وہی سردیاں ہیں جن کا ذکر کر کے تم اتنا کچھ کہتے تھے۔

تم کتنے سالوں سے ہر سال یہی کہتے ہو کہ بس ذرا موسم بدل لینے دو، یہ گرمیاں یہ حبس جا لینے دو، سردیاں آ لینے دو بس پھر دیکھنا۔۔۔جتنے رکے پڑے کام ہیں، میں سارے کے سارے ختم کر دوں گا۔
مگر دیکھ لو، آج تک ایسا کچھ ہو نہیں سکا۔ سردیاں ہر سال آتی ہیں اور آ کر گزر جاتی ہیں۔ تم ہر سال کہتے ہو بس دسمبر آ لینے دو ذرا، سردی ذرا صحیح سے شروع ہو لینے دو، میں اگلا سال چڑھنے نہیں دوں گا۔ یکم جنوری سے پہلے پہلے سب التوا میں پڑئےکام، ہاں ہاں سب کے سب تم دیکھنا، میں انشاءاللہ اب کے نمٹا دوں گا۔
لیکن ہوتا کیا ہے۔۔۔گرمیوں میں تمہیں گرمی تنگ کرتی ہے۔بس اے سی کی ہوا دل کو بھاتی ہے۔سردیوں میں تمہیں سردی ستاتی ہے، گرم لحاف سے نکلنے کا تمہارا دل ہی نہیں کرتا۔خزاں میں ناسٹیلجیا تمہارےدل میں گھر کر لیتا ہے اور بہار میں رومانس تمہارے جسم و جاں میں رواں دواں ہو جاتا ہے۔ اور یوں سارا سال تم یہی انتظار کرتے رہتے ہو کہ موسم ذرا معتدل ہو جا ئے تو بس پھر ایک ساتھ ہی سارے کر دیے جانے کے منتظر کام میں سرانجام دے ڈالوں گا۔
میں تمہیں سچ بتاوں یہ محض خود فریبی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔تمہیں یاد ہو گا چند سال پہلے جب تمہارے ایک کزن کی وفات ہوئی تھی تو تم تھوڑا ساچونکے تھے۔کیونکہ وہ عمر میں تم سے کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا۔تمہارے ایج گروپ کا ہی تھا۔ تب تم تھوڑا ڈرے تھے کہ ایک دن اچانک تم بھی اسی طرح اس دنیا کی زندگی کو خیر باد کہہ دو گے اور تمہیں آخرت اور اس دنیا سے متعلقہ پینڈنگ کام کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملے گا۔ تب تم نے اپنےآپ سے کہا تھا کہ یہ سب کام تم کو اب فوراً نمٹا دینے چاہییں۔لیکن تب بھی تم نے ڈیڈ لائن اپنے آپ کو جو دی تھی وہ اُس سال کے دسمبر ہی کی تھی۔
دیکھو میں تو تمہیں یہی کہوں گی کہ تم دائمی سستی اور بے عملی کی یہ روش اب ترک کر ڈالو۔ اب کچھ کر ڈالو۔ یہ جو تمہارے سالہا سال سے التوا میں پڑے کام ہیں یقین کرو یہ کوئی بہت زیادہ وقت طلب نہیں ہیں۔ کچھ تو بالکل ہی چند گھنٹوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جانے والے ہیں۔ اگر تم آج سے ان کاموں کو ایک ایک کر کے کرنا شروع کر ڈالو تو سچی بات ہے ایک آدھ ہفتے میں یہ سب اختتام پذیر ہو جائیں گے۔ تمہا رے اندر کا ایک بوجھ، ایک احساس جرم ختم ہو جا ے گا۔تم خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرو گے۔
میری مانو۔۔۔پروگرام اور شیڈول بنانے ترک کر دو۔ جو کرنا ہے وہ کرنا شروع کر دو۔آگے تمہاری مرضی۔“

13.8.10

قرآن ایکسپلورر اور ایک اور لنک

اس ویب سائٹ کو ملاحظہ فرمائیں اور وہاں ٖLAUNCH QURAN EXPLORER کے سرخ بٹن کو کلک کریں۔

اس سائٹ میں اور بھی بہت کچھ فائدہ مند پائیں گے آپ انشاء اللہ۔

اور یہ ایک اور لنک۔۔۔ان لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جو رمضان میں سنجیدگی سے اللہ کی رضا کے لیے کوشاں ہیں۔

20.5.10

شکر ہے چہرہ کتاب بند ہوئی

اللہ کا شکر ہے فیس بک سے جان چھوٹی ۔گو عارضی طور پہ ہی سہی پر کچھ دیر کو تو بند ہوئی یہ سائٹ۔ میں اس منحوس سائٹ سے پہلے ہی سخت نالاں تھا۔ بچے اور بڑے دونوں اس پہ روزانہ لا تعداد گھنٹے لا یعنی قسم کی سرگرمیوں میں ضائع کر دیتے تھے۔شکر ہے بہت سےلوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی قوت ارادی کی بدولت اس جنجال سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

باقی رہ گیا وہ معاملہ جس کی وجہ سے فیس بک جزوی اور عارضی طور پہ پاکستان میں بند ہوئی ہے تو اس کی بابت میرے ا حساسات وہی ہیں جو خورشید آزاد نے اپنے ایک تبصرے میں لکھے ہیں:

”میں سمجھتا ہوں محمدصلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی ہستی ہیں کہ یہ کارٹون وغیرہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہاں ہمارا اپنے آپ کو ان کا امّتی کہنا ان کے رتبے کے لیے ان کارٹونوں سے زیادہ خطرناک ہے۔“

اور پھر سارہ پاکستان نے جوکچھ کہا ہے وہ ناگوار تو شاید بہتوں کو گزرے گا مگر اصل بات اورواقعتا صورتحال بالکل ایسی ہی ہے:

”ایک پیام بر کی اس سے زیادہ توہین بھلا کیا ہوگی کہ اس کے لائے ہوئے پیغام کو آپ ایک نظر بھر کے بھی پوری طرح نہ دیکھیں ،اور پھر اس پیغام کی خلاف ورزی میں مصروف ہوجائیں ۔۔۔۔“
میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو کچھ احتجاج ہو رہا ہے وہ اپنی جگہ درست ہے لیکن اگر آج مسلمان با عمل ہوتے تو ان ماڈرن، مہذب، ماڈریٹ، سیکیولر، روشن خیال، ترقی یافتہ گوروں کو اتنی جسارت کرنے کی سوچ بھی نہ آتی۔اور ان سے شدید متاثر اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے بیچارے آزاد خیال دیسی بھی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احکامات پر عملی طور پر چلنے کی بات کرنے والوں کو مولوی، ملا وغیرہ جیسے القابات سے نواز کر نظر انداز نہ کر رہے ہوتے۔

14.4.10

ڈاکٹر اسرار۔۔۔اللہ انہیں جنت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

آج صبح ایک ایس ایم ایس ملا جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر اسرار رحلت فرما گئے ہیں. خبر کی تصدیق کے لیے ٹی وی پہ دیکھا تو سی 42 پر یہ خبر مل گئی. میری دلی دعا ہے اللہ مرحوم کی بخشش فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے. آمین.

میں نے مرحوم کو زندگی میں ہمیشہ قرآن کی بات ہی بتاتے سنا جو کہ از خود ایک بڑی بات ہے.

22.3.10

چوہا اور انسان

(ریحان احمد یوسفی)
جنیاتی طور پر چوہا ایک ایسا جانور ہے جو انسانوں سے بہت قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان جب انسانی بیماریوں پر تحقیق کرتے ہیں تو بالعموم چوہوں کو تختۂ مشق بناتے ہیں۔ ان میں بیماریوں کے جراثیم داخل کئے جاتے ہیں اور پھر مختلف تجرباتی دوائیں اور ویکسین دے کر ان کے نتائج دیکھے جاتے ہیں ۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو پھر انسانوں کو یہ دوائیں دی جاتی ہیں، تاکہ حتمی نتائج کی جانچ کی جاسکے ۔
شاید یہ اسی جنیاتی مماثلت کا نتیجہ ہے کہ چوہے گھروں میں گھس کر انسانی غذائیں مثلاً روٹی وغیرہ شوق سے کھاتے ہیں اور دیگر کارآمد اشیا بھی کتر جاتے ہیں۔ اس لیے انسان انہیں سخت ناپسند کرتے ہیں اور ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔
آج کل چوہوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک نئی قسم کا ٹریپ استعمال ہورہا ہے۔ اس میں سے انسانی غذا مثلاً روٹی، چاول وغیرہ کی انتہائی تیز خوشبو اٹھ رہی ہوتی ہے۔ اس کی ایک سائیڈ خالی ہوتی ہے اور دوسری سائیڈ پر ایک انتہائی طاقت ور گلو (ایک اچھی قسم کا گوند) لگا ہوتا ہے۔ رات کے وقت اسے چوہوں کی آمدورفت کے راستے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اندھیرا ہوتے ہی چوہے خوشبو کے پیچھے دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور اس پر چڑھ جاتے ہیں، مگر پھر انہیں اس سے کبھی اترنا نصیب نہیں ہوتا، کیونکہ انتہائی طاقت ور گلو ان کے پاؤں جکڑ لیتا ہے۔
عام چوہے دان ایک چوہے کو پکڑ کر غیر مؤثر ہوجاتا ہے، مگر یہ ٹریپ انسانی خوراک کی خوشبو کے پیچھے آنے والے مزید چوہوں کا شکار کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ٹریپ کی جگہ ختم ہوجائے یا چوہے ختم ہوجائیں یارات ختم ہوجائے ۔ پھر صبح اس قید خانے کو چیختے چلاتے قیدیوں کے ساتھ اٹھاکر کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ جہاں وہ جان سے چلے جاتے ہیں، مگر اپنی جگہ سے ہل نہیں پاتے ۔
یہ عجیب سانحہ ہے یا شاید یہ بھی جنیاتی مماثلت کا اثر ہے کہ اتنی ہوشیاری سے چوہوں کا شکار کرنے والا انسان خود بھی اکثر ایک "چوہا " ثابت ہوتا ہے۔جنس اور پیٹ کے تقاضے، اولاد کی محبت، مال کی حرص، شہرت کا نشہ، اقتدار کی ہوس، معاشرے میں بلند اسٹیٹس کی تمنا، وسیع بینک بیلنس ، بڑی بڑی جائدادیں، ترقی کرتے ہوئے کاروبار، چلتے ہوئے کارخانے، نئے ماڈل کی چمکتی دمکتی گاڑیاں، عالیشان گھر ، فارن ٹرپس اور نہ جانے کیا کچھ، یہ سب آدمی کے لیے اکثر اوقات چوہے دان ثابت ہوتے ہیں، جنھیں اس کا شکاری ، ابلیس، اس کی راہ میں رکھ دیتا ہے۔ ان کی کشش میں انسان پیغمبروں سے انگلی چھڑاکر دیوانہ وار ان کی طرف بھاگتا ہے ۔ قرآن پیچھے سے آوازیں دیتا رہ جاتا ہے کہ "یہ تو دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ٹھکانہ ہے" مگر کون پلٹ کر دیکھتا ہے۔
انسان خواہشات کی ایک فہرست بناتا ہے اور ان کے پیچھے دوڑ لگادیتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو پالیتا ہے، مگر عین اسی لمحے حالات کا "گلو" اسے جکڑلیتا ہے۔ خواہشات کی محدود فہرست ایک لامحدود چکر میں بدل جاتی ہے ۔ وہ لاکھ سر پٹخ لے، اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے کہ وہ اس چکر سے نکل جائے۔ اس کے بعد صرف موت اس کا مقدر ہوتی ہے، پھر جو بچتا ہے، وہ درحقیقت صرف ایک چلتی پھرتی زندہ لاش ہوتی ہے، جس سے اٹھنے والے تعفن کو ہم جیسے لوگ شاید محسوس نہ کرسکیں ، مگر خدا کے فرشتے وہاں سے ناک بند کرکے گزرتے ہیں، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ نیکی کے فرشتے تو وہاں سے گزرتے ہی نہیں، ہاں صرف وہ فرشتے گزرتے ہیں جن کا کام ایسے "چوہوں" کو وقت آنے پر اٹھا کر جہنم کے کوڑے دان میں پھینکنا ہوتا ہے۔
انسانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک کے بعد ایک اس ’’ٹریپ‘‘ میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پہلا ’’چوہا‘‘ بھی وہاں مزے کررہا ہے۔ اس کے دیکھا دیکھی وہ بھی اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اس دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ بالآخر سب کا ایک ہی انجام ہوتا ہے۔ البتہ جو لوگ خواہشات کے اس جال سے بچ کر نکل جائیں، ان کا استقبال عالم کا پروردگار خود یوں کرے گا:
’’اے نفس مطمئنہ، لوٹ چل اپنے رب کی طرف اس طرح کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پھر داخل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں ‘‘۔
چوہوں کو پکڑنے والو! اپنے چوہے دان کو پہچانو۔ تمہارے شکاری ابلیس نے اس دور میں نت نئے چوہے دان بنالیے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہوکسی روز تم بھی کسی جال میں جکڑے جاؤ اور تمہیں خبر تک نہ ہو۔
اپنے حصے کی روٹی کی تلاش میں پیغمبر سے انگلی مت چھڑاؤ ۔ کبھی خدا کی اس کتاب کو بھی پلٹ کر دیکھ لو جس کے لیے دنیا کی کامیابی اتنی ہی غیر اہم ہے جتنی تمہارے لیے آخرت ، زندگی کی شام ڈھلنے کو ہے۔ کیوں فانی دنیا کے لیے ابدی آخرت کو کھوتے ہو، کیوں عارضی لذتوں کے لیے بے مثل جنت کو کھوتے ہو:
دو چار روز اور ہے خوابوں کا سلسلہ
پھر ابد تک رہے گا عذابوں کا سلسلہ