Showing posts with label روز مرہ. Show all posts
Showing posts with label روز مرہ. Show all posts

23.6.11

ہوا مارنا

کسی کا حق مارنا، کسی کے پیسے مارنا وغیرہ جیسی غلط کاریاں تو آپ سنتے ہی رہتے ہیں ۔آج میں آپکی توجہ ایک اور اہم معاشرتی مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ وہ ہے ہوا مارنا۔ آپ اپنی گاڑی کسی سروس سٹیشن پر لے کر جاتے ہیں کہ اس کی دحلائی ستھرائی کروا لیں تو وہ لوگ کاروائی کا آغاز ہوا مارنے سے کرتے ہیں۔

گاڑی کے چاروں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک صاحب ایک پائپ پکڑ کر اس میں سے نکلتی تیز رفتار ہوا گاڑی کے فرش اور تمام کونوں کھدروں میں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔اب اپنے گمان کے مطابق تو وہ گاڑی کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں جو ہو رہا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گاڑی کے فلور میٹس پر پڑی تمام گرد و دیگر گند بلا اڑ اڑ کر ڈیش بورڈ اور اطراف میں جا بکھرتا ہے۔ اس عمل سے گاڑی کا اندر صاف ہونے کی بجائے اور گندا ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ وہ لوگ ہوا مارنے کی بجائے ویکیوم کلینر کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ ویکیوم کلینر گند بلا کو دور دور تک اڑانے کی بجائے اپنے اندر کھینچ لے گا جو کہ گاڑی کے اندر کی صفائی کا ایک زیادہ منطقی طریقہ ہے۔ اور یہ بھی نہیں کہ ویکیوم کلینر خریدنے کے لیے کوئی لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ نہ ہی یہ ہے کہ ویکیوم کلینر ایسے مقاصد کے لیے کسی بھی سروس سٹیشن پر استعمال نہیں ہو رہے۔ دبئی میں دیرہ کے علاقے میں ایک دفعہ میں نے دیکھا تھا کہ وہ لوگ گاڑی کے اندر ہوا نہیں مار رہے تھے۔ ویکیوم کلینر استعمال کر رہے تھے۔

اب سروس سٹیشنز کی بات ہو رہی ہے تو ان سے متعلق ایک اور رونا بھی رو ہی لیا جائے: گاڑی کے پچھلے شیشے کو سردیوں میں دھندلا جانے سے بچانے کے لیئے ڈی فراسٹر لگا ہوتا ہے جس کو ہم ڈیش بورڈ میں لگے ایک بٹن سے آن آف کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ کارآمد سسٹم بہت جلد کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اس کا سہرا بھی سروس سٹیشن والوں کے سر ہے۔ان کے بے خبر لڑکے بالے صفائی کے زعم میں پچھلے شیشے کے اندر کی طرف اس قدر زور سے دبا دبا کر کپڑا لگاتے ہیں کہ وہاں لگی ڈی فراسٹر کی سٹرائپس ان کے دباو کی تاب نہیں لا سکتیں اور کہیں نہ کہیں سے کٹ جاتی ہیں۔اب یا تو گاڑی بنانے والے ان سٹرائپس کو شیشے کے اندر یا باہر لگانے کی بجائے شیشے کے درمیان میں لگاتے جہاں کوئی چیز ان سے مس نہ ہوتی۔ لیکن ایسا کرنا گاڑی کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا۔ یا پھر یہ ہے کہ سروس سٹیشن والے ہی کچھ احساس اور درد مندی اس سلسلے میں پیدا کر لیتے۔

لیکن چونکہ یہ دوسرا امکان پہلے والے سے بھی زیادہ کم ہے اس لیے یہی کیا جا سکتا ہے کہ سروس سٹیشن والوں کو کہہ دیا جائے کہ بھائی پچھلا شیشہ اندر سے صاف نہ کرنا۔ لیکن آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ آپ ان کی جتنی بھی منت سماجت کر لیں اس سلسلے میں، آپ کو تو وہ لڑکے کہہ دیں گے کہ اچھا جی نہیں کرتے لیکن جیسے ہی آپ کا دھیان ادھر ادھر ہوا، وہ لوگ عادت سے مجبور ہو کر اندر سے شیشے کی رگڑائی کر ہی ڈالیں گے۔ اب اس کا کیا کیا جائے،جبکہ منقطع شدہ ڈی فراسٹر کی مرمت بھی عام حالات میں آسان نہیں۔

30.5.11

گاڑی تیز چلانا

مجھے وہ لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے جو گاڑی تیز چلاتے ہیں۔ اسی لیے میں ان کو اوورٹیک کر لیتا ہوں۔

29.10.10

ذہین عورتیں

مردوں سے برابری کا مطالبہ صرف وہ عورتیں کرتی ہیں جو اپنے آپ کو ذہین سمجھتی ہیں۔جو عورتیں حقیقت میں ذہین ہوتی ہیں وہ ایسا نہیں کرتیں۔

2.6.10

منہ دیکھنے

کچھ عرصہ قبل اظہر عابدی کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اپنے ناول Twilight کے بارے میں بات کی۔ اظہر آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ ان کا یہ ناول کراچی میں رہنے والی ایک ایسی خاتون کے بارے میں ہے جس کے بیٹے نے ایک آسٹریلوی عورت سے شادی کر لی۔

عابدی کہتے ہیں کہ وہ ان ماؤں کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے بڑے ہوتے ہیں اور پھر گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ان کے اس ناول کی تحریک یہی خیال بنا کہ نوجوان لوگ اپنے والدین کو تنہائی کے حوالے کر کے خود دور دراز کے ممالک میں پکے جا بستے ہیں۔

خود عابدی نے ایک آسٹریلوی لڑکی سے شادی کی جبکہ ان کے والدین کو امید تھی کہ وہ شادی کے لیے اپنے لوگوں ہی میں سے کسی کا انتخاب کریں گے۔ شادی کے بعد وہ پاکستان میں نہ رہ سکے کیونکہ ان کی بیوی یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی۔ اس کی خواہش کے مطابق عابدی اس کے ہمراہ آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔ ان کے والدین پیچھے پاکستان میں رہ گئے۔ لیکن دور چلے جانے کے باوجود عابدی کے دل میں اپنے والدین کے لیے ایک احساس ذمہ داری ہمیشہ رہا۔

عابدی کہتے ہیں کہ بعد ازاں وہ جب بھی کچھ سال کے وقفے سے وطن واپس آتے تو اپنے والدین کو پہلے سے کچھ زیادہ بوڑھا اور کمزور پاتے۔ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے ہمیشہ ایک خدشہ ان کے دل کی گہرائی میں کہیں موجود رہتا کہ کسی دن ایک فون کال آئے گی جس میں ان کو یہ سننا ملے گا کہ ان کے والدین میں سے کوئی ایک فوت ہو گیا ہے۔اس قسم کے اندیشوں میں لپٹا ہوا ایک سوال اکثر ان کی سوچوں میں سر ابھارتا رہتا کہ کیا انہو ں نےاپنے وطن میں سکونت ترک کر کے اور ایک غیر ملکی سے شادی کرکے درست فیصلہ کیا تھا۔

عابدی کا یہ انٹرویو پڑھنا ایک اداس کر دینے والا تجربہ تھا۔ بہت سے لوگ جوانی میں اپنے گھر سے دور کسی اور ملک میں مستقل جا بسنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ اس احساس تنہائی کا قطعاً اندازہ نہیں کر سکتے جو اپنی اولاد سے یوں جدائی کے نتیجے میں انکے والدین کو ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کو اس دکھ کا اندازہ بھی نہیں ہوتا جو ان کے والدین کو تب ہوتا ہے جب یہ لوگ پردیس میں کسی غیر ملکی سے شادی کر لیتے ہیں۔

ساری زندگی تو یہ لوگ والدین سے دور گزار دیتے ہیں لیکن جب یہی والدین آخر میں فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی میت کی تدفین رکی رہتی ہے۔ پتا چلتا ہے کہ ان کا وہ بیٹا جو سالوں پہلے ان کو چھوڑ کر کسی اور دنیا میں جا بسا تھا اب 12000 کلومیٹرز کا سفر طے کر کے ان کا منہ دیکھنے آ رہا ہے۔ اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف ایسے لوگ بھی دیکھے گئے ہیں جو بہتر زندگی کے گمان میں والدین سے دور کہیں سمندر پار رہنے چلے تو گئے لیکن پھر انہوں نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی۔ سوچا اور جانچا کہ کیا ایک ایسی زندگی کا انتخاب درست ہے جس میں آسانیاں اور آسائشیں تو ہیں لیکن ساتھ میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والا احساس زیاں اور پچھتاوا بھی ہے۔ اور پھر وہ لوٹ آئے۔

31.5.10

منہ لگی بوتل

یہ تو اکثر ہی سنا ہے کہ اگر آپ ہوٹلوں کے باورچی خانوں کی حالت زار، وہاں گندگی و غلاظت کا عالم ایک دفعہ خود دیکھ لیں تو آپ ہوٹلوں میں کھانا کھانا ترک کر دیں۔

اچھا جی یہ تو ہو گیا گھر سے باہر کھانا کھانا یا نہ کھانا۔

کسی کے گھر میں جا کرپانی پینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

تقریباً ہر گھر میں گھر کے چھوٹے بڑے افراد یہی کرتے ہیں کہ پیاس لگی تو گزرتے گزرتے فریج کھولا، پانی کی بوتل نکالی، منہ کو لگائی، غٹا غٹ کچھ پانی پیا اور بوتل واپس فریج میں۔

مہمان آئے۔ ان میں سے کسی نے پانی مانگا یا کھا نے کے ہمراہ انہیں پانی دینے کا مرحلہ آیا تو وہی منہ لگی بوتل مہمان کے سامنے حاضر بمعہ ایک خوبصورت گلاس۔ اس پانی میں ہے کچھ خاص۔

26.5.10

ادھاریئے

سپر سٹور میں کوئی گھنٹہ بھر صرف کرنے کے بعد آپ اپنی سامان سے بھری ٹرالی لیے کیش کاونٹر پہ پہنچتے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ قدرے اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ آپکے آگےقطار میں صرف ایک آدمی ہے جو نیکر پہنے، ایک ٹوکری پکڑے کھڑا ہے،سو آپ جلدی فارغ ہو جائیں گے۔اس آدمی کی ٹوکری میں دو ایک جوڑے جراب، ایک ۵۰۰ ایم ایل کی پیپسی، تین بڑی موم بتیاں اور ایک رس کا پیکٹ پڑا نظر آ رہا ہے۔جلد ہی اس کے سامان کی بلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

لیکن کئی منٹ گزرنے کے باوجود آپ کی باری نہیں آتی تو آپ دھیان دیتے ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ آپ سوچتے ہیں اتنا سا سامان تو زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں کیش رجسٹر سے گزر جانا چاہیےتھا تو پھر آخر کاونٹر کے دوسری جانب کھڑا شخص کر کیا رہا ہے؟

سو آپ کیشیئر کی جانب توجہ کرتے ہیں تو اسے ایک کارڈ ایک مشین میں پھیرتا ہوا پاتے ہیں۔ اس کے چہرے سے لگ رہا ہے کہ اس کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔وہ کچھ توقف کرتا ہے اور پھر سے اس کارڈ کو مشین میں پھیرنے لگ جاتا ہے۔ساتھ میں کچھ بٹن بھی دباتا جاتا ہے۔ اس سب میں کئی منٹ اور گذر جاتے ہیں۔پھر آپ یہ دیکھ کر بے چینی کی ایک نئی لہر سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ اب وہ کیشیئر کاونٹر سے ہٹ گیا ہے اور پتا نہیں کدھر چلا گیا ہے۔ اس دوران اس کارڈ کا مالک، یعنی وہ شخص جو لائن میں آپ سے آگے کھڑا ہے اطمینان سے موبائل فون پر کسی سے باتیں کرنے میں مشغول رہتا ہے۔

کافی دیر بعد وہ کیشیئر واپس آ کر اپنی جگہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ کہیں سے ایک اور مشین لے کر آیا ہے اور اب اس والی مشین میں کارڈ کو پھیرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ کافی ٹائم گذر جاتا ہے۔ پھر کیشیئر پاس پڑے فون سے کسی سےاس مسلے کی بابت کچھ بات کرنے لگ جاتا ہے۔آپ کھڑے بیزار ہوتے رہتے ہیں۔فون رکھ کر کیشیئر اس گاہک سے کچھ کہتا ہے۔ جواب میں وہ گاہک کمال بے اعتنائی سے ایک اور کارڈ کیشیئر کے سامنے پھینک دیتا ہے۔ اب کیشیئر اس والے کارڈ کو لے کر مشین پر طبع آزمائی کرنے میں مگن ہو جاتا ہے۔ کئی منٹ گزر جاتے ہیں۔

آخر کار کچھ آوازیں مشین سے آتی ہیں جن سے لگتا ہے کہ اب کی بار کام یابی ہو گئی ہے۔کچھ دیر بعد کیشیئر اس صاحبِ کارڈ کے سامنے ایک کاغذ رکھتا ہے جس پر جناب نے اپنے دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ وہ صاحب لکھنا شروع کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ قلم جواب دے گیا ہے۔وہ اس کو پاس پڑی بل بک کے گتے پر رگڑتے ہیں۔ پھر قلم کی نب کو کا ؤنٹر پر یوں زور زور سے مارتے ہیں جیسے قلم کو دانا چگا رہے ہوں۔ پھر اس کو ہوا میں پوری طاقت سے چھڑکنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیشیئر اس اثنا میں کوئی دوسرا آلہ تحریر ڈھونڈنے کے لیے اپنی جگہ سے ہٹنے ہی لگتا ہے کہ آپ تلملاتے ہوئے اپنا قلم نکال کر پیش کر دیتے ہیں۔

ایک طویل وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے جس کے دوران آپ اندرہی اندر بلبلا تے رہے کہ خدارا ان ادھاریئوں کے لیئے الگ کاونٹر بنالو۔ان کی چند سو کی شاپنگ کے لیئے دس ہزار کیش کے گاہک کو ناحق تکلیف میں ڈالا جاتا ہے۔ مگر یہ بات دکان ولوں کی سمجھ میں شاید کبھی نہیں آ سکتی۔

ان ادھارکے دلدادہ لوگوں کے جنجال صرف شاپنگ مالز تک ہی محدود نہیں۔ اپنی زندگی تو یہ ادھاریئے ادھار لے لے کرآخر کار اجیرن کر ہی لیتے ہیں لیکن باقی معاشرہ بھی ان کے غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی سے بے طرح متاثر ہوتا ہے۔

۱۹۲۹ میں جو امریکی سٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی تھی وہ ان ادھاریئوں کے سبب ہی ہوئی تھی۔ اس وقت پھیلنے والی عالمی کساد بازاری کی جڑوں میں یہ قرض کے رسیا لوگ ہی تھے۔ ہمارے اپنے بازار حصص میں جب بھی کوئی بھونچال آیا انہی بدلے والوں کی وجہ سے آیا۔ ماضی قریب میں سڑکوں پہ دیکھتے ہی دیکھتے جو کاروں کا بے انتہا اضافہ ہوا، انہی ادھار کے شوقین لوگوں کی وجہ سے ہی ہوا۔ جس کی اصل استطاعت شاید موٹر سائیکل خریدنے کی بھی نہ تھی اس نے بھی ادھار کے پیسوں کی گاڑی لی، اس میں سی این جی لگوائی اور سڑکوں پہ اندھی مچا دی۔ جلد ہی ان میں سے آدھی سے زیادہ گاڑیاں بنک نے واپس ضبط کر لیں کیونکہ ادھاریئے حسب معمول ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ۲۰۰۸ میں امریکہ میں جو سب پرائم فیاسکو کا طوفان اٹھا، وہ تبھی اٹھا جب لاکھوں ادھاریئوں نے ادھار کی واپسی کے وقت ہنس کر دکھا دیا۔پچھلے سال دبئی کا مالیاتی پٹاخہ بھی اسی وجہ سے پھوٹا کیونکہ ساری ٹیپ ٹاپ، شو شا ادھار پہ ہی کھڑی تھی۔

اللہ رحم کرے اگر انسان مجبوری میں کسی اشد ضرورت کی وجہ سے ادھار کے چنگل میں پھنس جائے تو اور بات ہے۔ مگر محض دیکھا دیکھی، صرف لائف سٹائل کو ٹی وی پہ دکھائے جانے والی زندگیوں کے مطابق بنانے کے لئے بغیر سوچے سمجھے ادھار لیتے چلے جانا کسی طرح بھی کبھی بھی خیر والی بات نہیں ہو سکتی۔

کریڈٹ کارڈ، لیزنگ، مورگیج، پرسنل لون، انسٹالمنٹس وغیرہ ۔۔۔نام چاہے کچھ بھی ہو ادھار ہوتا ایک لعنت ہی ہے۔

27.4.10

ٹیلیفون پہ بات کرنے کی بابت دو باتیں:

پہلی تو یہ کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ فون پہ آپ سے بات کرنے والا شخص یہ جان لے کہ آپ کو اس سے بات کر کے خوشی ہو رہی ہے تو بس اتنا کریں کہ جب کسی کا فون آئے تو آپ مسکراتے ہوئے کال اٹینڈ کریں۔ دوسرا شخص گو کہ آپ کی مسکراہٹ دیکھ نہیں سکے گا لیکن ایک خوشگواری کا احساس لازمی محسوس کرے گا۔سو اسے آپ سے بات کر کے خوشی ہو گی۔آپ کی مراد بر آئے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ سے فون پہ بات کرنے والا شخص جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جائے اور آپ سے بات کر کے اس کو بدمزگی کا احساس ہو تو اس کے لیئے آپ کو بس اتنا کرنا ہو گا کہ فون پہ اس سے بات کرنے کے دوران آپ کچھ کھاتے رہیں۔ اگر ساتھ ساتھ کچھ پی بھی رہے ہوں تو نتائج اور بھی موثر ہوں گے۔

جب بھی وہ شخص اپنا فقرہ ختم کر کے آپکے جواب کی توقع کر رہا ہو گا اس وقت آپ کی طرف سے اس کو کھانا چبانے اور کچھ گھونٹ نگلنے کی آوازیں آ رہی ہونگی۔پھر کچھ تاخیر سے اس کو آپ کی بات سننے کو ملے گی تو ضرور مگر اس میں تسلسل نہ ہو گا۔ آپکا فقرہ بار بار کھانا چبانے اور نگلنے کے عمل کے باعث تعطل کا شکار رہے گا۔

جب تقریباً ہر فقرے پہ ایسے ہی ہو گا تو اس شخص کا تلملانا فطری بات ہے۔ پھراگر تنگ آ کر وہ شخص آپ سے استفسار کرے کہ آیا آپ کچھ کھا رہے ہیں تو لازم ہے کہ آپ اس کے اس سوال کو نظر انداز کر کے اپنی بات جیسے تیسے جاری رکھیں۔ اس سے اس کے صبر کا پیمانہ مزید لبریز ہو جائے گا۔آپ کی بات بن جائے گی۔

24.4.10

دوست،دوستی،دوستیاں،دوستانے

یہ سو کالڈ سوشل نیٹ ورکنگ کی جو سائٹس ہیں ان کی ضرورت سے زیادہ تعداد معرض وجود میں آ چکی ہے۔ شروع شروع میں جب مثلاً آرکٹ آیا تھا تو ایسی سائٹس کا آئیڈیا کچھ کشش رکھتا تھا اپنے اندر۔ اب جس پیمانے پہ نیٹ ورکنگ کے یہ سلسلے دستیاب ہیں انٹرنیٹ پر اتنی نیٹ ورکنگ کی کسی معقول انسان کو ہرگز ضرو رت نہیں۔ اپنے خاندان اور ہمسائیوں سے چاہے مہینوں،سالوں نہ ملو، سات سمندر پار اجنبیوں سے روابط کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دو۔ گھر کے افراد جن کے ساتھ سالوں سے ایک چھت تلے زندگی گزار رہے ہوتے ہو ان کے احساسات اور دلی کیفیات سے تو کوئی آگاہی نہ ہو لیکن جن کے ساتھ سالوں پہلے کسی ادارے میں الٹا سیدھا کچھ وقت گزارا تھا ان سے رابطہ دوبارہ قائم کرنے کے لیے لامتناہی وقت کمپیوٹر پہ گزار دو۔ کمال ہے۔

باقی سکول، کالج، یونیورسٹی کی دوستیوں کی جہاں تک بات ہے تو دیکھیئے وقت کے ساتھ ہمارا ذہنی معیار تبدیل ہوتا ہے۔ زندگی کے تجربات ہماری سوچوں اور خیالات کو بدلتے رہتے ہیں۔ ہماری پسند اور ترجیحات میں گزرتے سالوں کے ساتھ بہت تبدیلی آ جا تی ہے۔ ہمارے آیڈیئلز اور گولز بھی بدل جاتے ہیں۔ بہت سی چیزوں اور سرگرمیوں کو ہم آوٹ گرو کر جاتے ہیں۔ یہ شخصیت کی میچوریٹی اور بالیدگی کا عمل ایک خوش آئند بات ہوتی ہے۔ اسی کے پیش نظر انہی لوگوں کے ساتھ اسی انداز میں دوستی نبھانے کا عمل آج بھی ویسے ہی جاری رکھنا جیسے کئی سال پہلے شروع کیا تھا ایک مقام پہ پہنچ کر ناممکن ہو جاتا ہے۔ جو کتابیں رسالے آپ کچھ سال پیچھے خرید کر پڑھتے تھے اب ان کو مفت بھی ہاتھ تک لگانا نہیں پسند کرتے۔ وہ لطیفے جن پہ آپ دل کھول کر تب ہنستے تھے اب ان پہ ٹھیک سے رونا بھی نہیں آتا۔ وہ سرگرمیاں جن کو کچھ سال پہلے آپ زندگی کا حاصل سمجھتے تھے آج وہ آپ کو لایعنی لگتی ہیں۔اس سب کے نتیجے میں آپ ان لوگوں کے بیچ اور وہ آپ کی موجودگی میں ان ایزی محسوس کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔آخر کار کنارہ کرتے ہی بنتی ہے۔

اب رہ گیا یہ سوال کہ پھر یہ جو ان گنت لوگ پرانی دوستیاں اور یاریاں بخوبی نباہ رہے دکھائی دیتے ہیں یہ کیونکر ممکن ہوتا ہے ان کے لئے۔ تو اس کے لئے آپ اگر ان کی صورتحال کو قریب سے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ بات وہ نہیں ہے جو نظر آتی ہے۔ ایک دوسرے کو جگر جگر کہنے والے حقیقت میں ایک دوسرے سے کس قدر ناک دم آئے ہوتے ہیں اس کے لئے آپ ان میں بیٹھ کر ان کی گفتگو ان میں سے اس کے بارے میں سنیں جو اس وقت وہاں موجود نہیں ہے۔ تب آپ جان پا ئیں گے کہ یہ ”دوست“ایک دوسرے کے بارے میں کسطرح سوچتے ہیں۔ کوئی اس بات سے تنگ ہے کہ فلاں دوست نے پہلے بھی کچھ رقم ادھار کا کہہ کر لی تھی ۔وہ تو ابھی تک لوٹائی نہیں اوپر سے آج پھر ایک اور دوست کے ذریعے کچھ مزیدرقم منگوا لی۔ اسی طرح کوئی رونا رو رہا ہے کہ فلاں دوست گاڑی مانگ کر لے گیا تھا۔حادثہ کر کے واپس لے آیا ہے۔ اب میں پریشان ہوں کیا کروں؟ کوئی اس بات سے نالاں ہے کہ مجھے محض دوستیاں نباہنے کے لئے، دوستوں کے شکوے اور ناراضگی سے بچنے کے لیے ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا پڑتا ہے جن کو میں دل سے اچھا نہیں سمجھتا ۔کوئی اس بات سے کبیدہ خاطر ہے کہ میرا دوست میرے اہل خانہ کے ساتھ نامناسب حد تک گھل مل چکا ہے اور میرے گھریلو معاملات میں نا گوار قسم کی مداخلت کا مرتکب ہوتا رہتا ہے لیکن کیا کروں کہہ نہیں سکتا کھل کر کہ کہیں دوستی متاثر نہ ہو۔ کوئی اس بات پر بیٹھا دل جلا رہا ہے کہ جب سے اللہ نے مجھ پر فضل کیا ہے اور میری مالی حالت پہلے سے کہیں بہتر ہو گئی ہے تب سے میرے دوستوں نے باقاعدہ حسد و بغض کا رویہ اپنا لیا ہے۔کوئی اس بات پہ زچ ہے کہ دوست کام، کاروبا ر والی جگہ پر بلا مقصد گھنٹوں آ کر بیٹھے رہتے ہیں لیکن کچھ کیا نہیں جا سکتا اس مصیبت کا، کوئی اس بات سے عاجز آیا ہوا ہے کہ دوست آرام کے وقت اور پرایویسی کا کچھ خیال نہیں رکھتے۔یعنی عجب ريا کاری ،مکر ، فريب ، منافقت اور تصنع سے سلسلے چل رہے ہوتے ہیں اصل میں لیکن لگ کچھ اور رہا ہوتا ہے سب کو۔

آٹھ رشتے مقدم ہیں: ماں، باپ، بہن، بھائی، میاں، بیوی اور بیٹا، بیٹی۔ ان میں دوستیاں تلاش کرنی چاہییں۔
نہیں؟
تو پھر ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے یہ بات تو بہرحال ہے ہی کہ جتنا وقت، توانائی اور وسائل مخلوق کے آگے پیچھے بھاگنے میں صرف کیے جاتے ہیں اتنے اہتمام سے اگر خالق کو مرکز توجہ بنا لیا جاے تو تنہائی کا احساس ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے۔تمام کام بھی نکلتے جاتے ہیں۔

23.4.10

ملٹی ٹاسکنگ

میں ملٹی ٹاسکنگ کے فن کا مداح ہوں اور ان لوگوں کو توصیفی نظروں سے ہی دیکھتا ہوں جو اس فن میں یکتا ہیں ۔لیکن اس کے باوجود ملٹی ٹاسکنگ کی ایک قسم ہے جو میری سمجھ سے باہر ہے اور اس کے لیے میں ستائشی احساسات بھی اپنے دل میں نہیں پاتا۔ میرا ذہن اس بات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ لوگوں سے باتیں بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ آپکی انگلیاں ہاتھ میں پکڑی تسبیح پہ بھی باقاعدہ چل رہی ہیں۔آپ دوسروں سے گفتگو بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ذکر بھی جاری ہے۔ کانکرنٹلی۔ آخر کیسے ہوتا ہے یہ؟

22.4.10

پہلا ٹشو

سوال یہ ہے کہ ٹشو پیپر کے نئے ڈبے میں سے پہلا ٹشو کیونکر نکالا جا سکتا ہے؟ ایسا کرنے کا کچھ تو درست طریقہ کار ہو گا نا آخر۔ اگر محض چٹکی بھرو اوپر والے ٹشو کو کہ صرف ایک ٹشو ہی باہر آئے تو اکثر یہ کوشش بے ثمر ہی رہتی ہے۔ صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ کے پے در پے چیونٹیاں بھرنے سے اوپر والے کئی ٹشو ستیاناس ہو جاتے ہیں۔پھر اگر سٹپٹا کر زور زور سے ہاتھ چلاو کہ ایک ٹشو نکل آئے تو جواب میں سارے کے سارے یعنی تمام ٹشو جو ڈبے میں ہوتے ہیں وہ باہر آ جاتے ہیں۔ اب آپ زندگی بھر بھی لگے رہیں تو ان کو اس طور واپس ڈبے میں نہیں لگا سکتے جیسے وہ اس خرابے سے پہلے لگے ہوے تھے۔

29.1.10

بہارآئی

کل یوں لگا جیسے موسم بدلنے کو ہے۔ دھوپ میں کھڑی گاڑی میں کچھ دیر بعد آ کر بیٹھنے سے جسم و جاں کو جو ایک زندگی آمیز حدت ملتی تھی آج اس کی جگہ کچھ گرمی کا احساس ھوا-فوراً ہی شیشے اتارنے کو دل چاھا۔ پھر چلتی گاڑی میں جہاں شیشہ نیچے کرنے سے ٹھنڈ سی لگتی تھی آج دونوں شیشے اتار کر بھی ایسا نہ لگا بلکہ جو تیز ہوا کے جھونکے آئے وہ نہایت خوشگوار لگے۔ وہ ہوا اپنے اندر بہار کی ایک خبر سی لئے ہوے تھے۔

11.1.10

ایسا کیوں ہوتا ھے؟

کافی عرصہ سے یہ سوال دل میں تھا سوچا آج پوچھ لیتا ہوں: یہ جو کھانا بچے اپنے لنچ باکس میں سکول سے بچا کر لاتے ہیں وہ کھانا بڑوں کو کھانے کا آخر اتنا مزہ کیوں آتا ھے باوجود اس کے کہ وہ کھانا سرد ہو چکا ہوتا ھے- اگر ویسا عجیب ذائقے والا کھانا ہمیں کسی ھوٹل یا گھر میں دیا جائے تو ہم اسے کھانے سے انکار کر دیں-
تو پھر بچوں کے سکول کے بچائے ہوئے لنچ میں کیا بات ھوتی ھے کہ بڑے اس کے لیے دل میں ایک خاص حرص وطمع محسوس کرتے رہتے ہیں جب تک وہ لنچ کسی نہ کسی طور ٹھکانے نہ لگا دیا جائے؟

2.1.10

عا لمی یوم مردانگی

(یہ مجھے شاید میل میں ملا تھا)
مرد اگر عورت پر ہاتھ اٹھاے تو ظالم اور اگر عورت سے پٹ جائے تو زنانہ۔عورت سے آگے چلے تو فرعون اور پیچھے چلے تو زن مرید۔اگر عورت کو چھوڑ دے تو سنگدل لیکن عورت اسے چھوڑ دے تو نامرد۔عورت کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر مشتعل ہو جائے تو جیلس(جل کڑا)اگر مشتعل نہ ہو تو بےغیرت۔عورت کو کام کرنے سے روکے تو دقیانوس نہ روکے تو عورت کی کمائی کھانے والا۔عورت پے شک کرے تو نفسیاتی مریض اور نہ کرے تو بے حس اور اگر عورت اس پے شک کرے تو بے وفا۔
مرد اگر گھر سے باہر رہے تو آوارہ اگر گھر میں رہے تو ناکارہ. بچوں کو ڈانٹے تو جابر نہ ڈانٹے تو لاپرواہ۔ عورت سے چھیڑ چھاڑ کرے تو فرسٹریٹڈ لیکن عورت کی چھیڑ چھاڑ پر برا مانے تو بیوقوف۔ عورت کی تعریف کرے تو فلرٹ نہ کرے تو بد مزاج۔ بحث کرے جھکی نہ کرے تو میسنا کہلائے۔ گرل فرینڈ یا بیوی کی فرمائش پوری نہ کرے تو کنجوس اور اپنے لیے کچھ نہ خریدے تو زندگی سے بے زار۔
عورت نے تو چیخ چلا کر رو دھو کر عالمی یوم خواتین منانے کا حق منوا لیا لیکن اپنی ہی مردانگی کے بھاری پتھر تلے کراہنے والے آدمی کا عالمی یوم کب منایا جائے گا ؟۔کیا مرد کی قسمت میں صرف عورت کو منانا ہی لکھا ہے؟
کب تک یہ ظلم ہو گا ہم پے بھائی لوگ آخر کب تک ؟