مجھے کچھ دن پہلے ایک میل ملی جس میں لکھا تھا کہ آپ ایک پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں۔ پھر تصور کریں کہ اللہ آپ سے فرما رہا ہے مانگو مجھ سے کیا مانگنا ہے، میں تمہیں دوں گا ۔ سو آپ ان تمام چیزوں کا سوچیں جو آپ اس دنیا اور آخرت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ان میں سے اپنی پسندیدہ ترین کچھ چیزوں کا انتخاب کر لیں۔ پھر آخری عشرے کی تمام راتوں میں آپ تسلسل، یکسوئی اور یقین کے ساتھ اللہ سے وہ چیزیں مانگیں۔ اس طرح لازم ہے کہ آپ کی دعا لیلتہ القدر میں آ جائے گی۔ انشاءاللہ۔
اور جو دعا اللہ کے حضور لیلتہ القدر میں پہنچے اس کی قبولیت کے امکانات تو پھر آپ سمجھ ہی سکتے ہیں۔
سو یہ کر دیکھیں۔
اعتکاف بیٹھنا ایک زبردست کام ہے جس کے بہت سے روحانی فوا ئد ہیں۔ ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں جو یکسوئی اعتکاف کی حالت میں میسر آسکتی ہے وہ ویسے عام حالات میں ملنا مشکل ہوتی ہے۔
اعتکاف کے اختتام پر خاموشی سے گھر لوٹ آنا ہی ٹھیک ہے۔ یہ جو لوگ ہار وغیرہ لے کر اعتکاف سے فارغ ہونے والے کو ایک جشن کی سی کیفیت میں لینے مسجد پہنچے ہوتے ہیں اس قسم کے سلسلے سے گریز ہی کرنا چاہیے۔
اس رمضان میں ٹی وی ون چینل سے ہر شام سات بجے جنید جمشید کے درس سننے کا موقعہ ملا۔ بہت کچھ کام کی باتیں بتاتا ہے یہ آدمی۔ اسے اللہ کی باتیں اتنے موثر انداز میں بتاتے دیکھ کر میں تو اکثر یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ اللہ کی شان ہے کہ ایک ایسا نوجوان جو ناچنے گانے میں مگن اپنی زندگی بِتا رہا تھا اسے اللہ نے کیسی ہدایت سے نوازا کہ آج وہی شخص لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف بلا رہا ہے۔ اکثر جنید خود بھی اپنے لہو و لعب اور گمراہی کے شب و روز کا ذکر کرتا ہے جب وہ بتاتا ہے کہ اتنا بڑا انقلاب کیسے اللہ نے اس کی زندگی میں برپا کیا۔
جنید انتہائی سادہ اور سلیس انداز میں اپنے سننے والوں کو اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہو سکے تو آپ بھی سنیں اسے۔
رمضان میں بہت سا قرآن سننے کو مل جاتا ہے ہر رات تراویح کی صورت میں۔ قرآن پڑھنے کا جو ایک بنیادی سلیقہ ہے وہ یہ ہے کہ اس عظیم کلام کو ٹھیر ٹھیر کر اطمینان سے پڑھا جائے۔ اگر تیز پڑھنا بھی ہو تو ایک خاص حد سے زیادہ تیز نہ پڑھا جائے اور اس پاک کلام کا ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رہے۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مساجد میں تراویح پڑھانے والے قاری صاحبان اس بات کا خیال بالکل نہیں رکھتے اور انتہائی تیز رفتاری سے قرآن پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس بات کو تراویح پڑھنے والے لوگ نوٹ کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اس خرابی کا ذکر بھی کرتے ہیں لیکن امام صاحب کو اس روش کو چھوڑنے کا نہیں کہتے۔
پھر وہ جوقرآن کو ایک، دو یا تین راتوں میں ختم کرنےکے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہوتے ہیں ان میں اللہ کے کلام کو تیز رفتاری سے پڑھنے کے اپنے ہی بنائے ہوئے ریکارڈ توڑے جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اوپر سے گمان کیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ سلسلے انتہا ئی روح پرورہیں۔
اگر کوئی پوچھنے کی کوشش کرے کہ یہ والی سیٹنگ اور سلسلے کدھر سے آپ نے لیے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو رمضان میں باجماعت قیام اللیل صرف تین رات کیا تھا اور اس کے بعد صحابہ اکرام اپنے طور پر گھروں میں یا مسجد میں یہ نماز پڑھتے رہے تو کہا جاتا ہے کہ جی مسلمان صدیوں سے یہ نماز یونہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں۔
آپ کہیں اچھا جی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے تو جو ثابت ۔۔۔۔تو جواب ملتا ہے
” بس چُپ۔ جس بات کا پتا نہ ہو وہ نہیں پوچھتے۔“