Showing posts with label بہتر زندگی. Show all posts
Showing posts with label بہتر زندگی. Show all posts

29.12.11

پیسہ۔۔۔کتنا آخر؟


ہماری زندگی کا وقت محدود ہے۔ اس محدود وقت کو لا محدود پیسہ کمانے کے لیے لگا چھوڑنا یہ کیسی بات ہے؟ اور اتنا زیادہ پیسہ کمانا جتنا ہم خرچ بھی نہ کر سکیں، اس کا فائد ہ؟  آپکا پیسہ تو وہی ہے نا جس کو آپ خرچ کر سکیں۔  خوش انسان تو وہ ہوتا ہے جس کی خواہشات اور ضرورتیں محدود  ہوئیں نہ کہ وہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پیسہ ہو۔ 

اور یہ بھی کیسی بات ہے کہ ان لوگوں کے لیے کمائے چلے جاو جن کے ساتھ گزارنے کے لیے آپ کے پاس وقت ہی نہیں کیونکہ سارا وقت تو آپ اور زیادہ کمانے کے چکر میں رہتے ہو۔ جوانی میں آپ اپنی صحت سے بے پرواہ ہو کر روپے کے تعاقب میں صحت گنوا دیتے ہو۔ بوڑھے ہو کر اس روپے سے صحت واپس خریدنے کی کوشش کرتے ہو۔ لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔   

23.5.11

بری لت

یہ بھی ایک عجیب مصیبت ہوتی ہے بعض لوگوں کے ساتھ۔کسی کے گھر جو جاتے ہیں مہمان بن کر تو وہاں جا کر میز بان کو کہہ کر ٹی وی پر اپنی پسند کا چینل ٹیون کروا لیتے ہیں اور پھر گھنٹوں بیٹھ کر اپنے من چاہے ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں۔ میز بان بیچارہ ساتھ میں مفت میں ٹنگا رہتا ہے۔ سوچتا رہتا ہے کہ بھئ آپ میرے گھر مجھ سے ملنے، مجھ سے باتیں کرنے کے لیے آئے تھے یا اپنے گھر کے ٹی وی بینی کے معمولات پورے کرنے؟ یہ میرا گھر ہے یا تھیٹر ہے؟وغیرہ۔

اور پھر کچھ مہمان تو آپ کو کہہ کر اپنے چینل ٹیون کروا لیتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایک قدم آگے ہوتے ہیں۔ وہ آپ سے پوچھے بغیر، آپ کو بتائے بغیر سیدھا ریموٹ پکڑتے ہیں اور آپ کے ٹی وی پر اپنی پسند کے چینل ٹیون کر کے دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کمال ہے نا۔

یہ کئی طرح سے ایک نامناسب حرکت ہے۔ ایک تو میزبان اوراسکے اہل خانہ شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہ کہ مہمان کا مطمع نظر ٹی وی تھا نہ کہ ان سے ملنا۔ دوسرا میزبان اس بات سے بھی خفت محسوس کرتا ہے کہ جو چینل ہم لوگ نہیں دیکھتے وہ ہمارے ہی گھر میں بیٹھ کر دھونس سے ہم پر ٹھونسے جا رہے ہیں۔بھئی اگر آپ ہمارے گھر آ ہی گئے ہو تو اپنی ٹی وی کی لت کو کچھ دیر کے لیے خیر باد کہہ دو اور ہم سے بات وات کر لو۔عجب بدتہذیبی ہے :(

5.1.11

ہاں یہ وہی دسمبر تھا۔۔۔

”دیکھو یہ جو دسمبر ابھی گزرا ہے نا یہ وہی دسمبر تھا جس کا تمہیں انتظار تھا۔اوریہ وہی سردیاں ہیں جن کا ذکر کر کے تم اتنا کچھ کہتے تھے۔

تم کتنے سالوں سے ہر سال یہی کہتے ہو کہ بس ذرا موسم بدل لینے دو، یہ گرمیاں یہ حبس جا لینے دو، سردیاں آ لینے دو بس پھر دیکھنا۔۔۔جتنے رکے پڑے کام ہیں، میں سارے کے سارے ختم کر دوں گا۔
مگر دیکھ لو، آج تک ایسا کچھ ہو نہیں سکا۔ سردیاں ہر سال آتی ہیں اور آ کر گزر جاتی ہیں۔ تم ہر سال کہتے ہو بس دسمبر آ لینے دو ذرا، سردی ذرا صحیح سے شروع ہو لینے دو، میں اگلا سال چڑھنے نہیں دوں گا۔ یکم جنوری سے پہلے پہلے سب التوا میں پڑئےکام، ہاں ہاں سب کے سب تم دیکھنا، میں انشاءاللہ اب کے نمٹا دوں گا۔
لیکن ہوتا کیا ہے۔۔۔گرمیوں میں تمہیں گرمی تنگ کرتی ہے۔بس اے سی کی ہوا دل کو بھاتی ہے۔سردیوں میں تمہیں سردی ستاتی ہے، گرم لحاف سے نکلنے کا تمہارا دل ہی نہیں کرتا۔خزاں میں ناسٹیلجیا تمہارےدل میں گھر کر لیتا ہے اور بہار میں رومانس تمہارے جسم و جاں میں رواں دواں ہو جاتا ہے۔ اور یوں سارا سال تم یہی انتظار کرتے رہتے ہو کہ موسم ذرا معتدل ہو جا ئے تو بس پھر ایک ساتھ ہی سارے کر دیے جانے کے منتظر کام میں سرانجام دے ڈالوں گا۔
میں تمہیں سچ بتاوں یہ محض خود فریبی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔تمہیں یاد ہو گا چند سال پہلے جب تمہارے ایک کزن کی وفات ہوئی تھی تو تم تھوڑا ساچونکے تھے۔کیونکہ وہ عمر میں تم سے کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا۔تمہارے ایج گروپ کا ہی تھا۔ تب تم تھوڑا ڈرے تھے کہ ایک دن اچانک تم بھی اسی طرح اس دنیا کی زندگی کو خیر باد کہہ دو گے اور تمہیں آخرت اور اس دنیا سے متعلقہ پینڈنگ کام کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملے گا۔ تب تم نے اپنےآپ سے کہا تھا کہ یہ سب کام تم کو اب فوراً نمٹا دینے چاہییں۔لیکن تب بھی تم نے ڈیڈ لائن اپنے آپ کو جو دی تھی وہ اُس سال کے دسمبر ہی کی تھی۔
دیکھو میں تو تمہیں یہی کہوں گی کہ تم دائمی سستی اور بے عملی کی یہ روش اب ترک کر ڈالو۔ اب کچھ کر ڈالو۔ یہ جو تمہارے سالہا سال سے التوا میں پڑے کام ہیں یقین کرو یہ کوئی بہت زیادہ وقت طلب نہیں ہیں۔ کچھ تو بالکل ہی چند گھنٹوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جانے والے ہیں۔ اگر تم آج سے ان کاموں کو ایک ایک کر کے کرنا شروع کر ڈالو تو سچی بات ہے ایک آدھ ہفتے میں یہ سب اختتام پذیر ہو جائیں گے۔ تمہا رے اندر کا ایک بوجھ، ایک احساس جرم ختم ہو جا ے گا۔تم خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرو گے۔
میری مانو۔۔۔پروگرام اور شیڈول بنانے ترک کر دو۔ جو کرنا ہے وہ کرنا شروع کر دو۔آگے تمہاری مرضی۔“

6.9.10

جاتےرمضان میں کچھ باتیں


مجھے کچھ دن پہلے ایک میل ملی جس میں لکھا تھا کہ آپ ایک پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں۔ پھر تصور کریں کہ اللہ آپ سے فرما رہا ہے مانگو مجھ سے کیا مانگنا ہے، میں تمہیں دوں گا ۔ سو آپ ان تمام چیزوں کا سوچیں جو آپ اس دنیا اور آخرت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ان میں سے اپنی پسندیدہ ترین کچھ چیزوں کا انتخاب کر لیں۔ پھر آخری عشرے کی تمام راتوں میں آپ تسلسل، یکسوئی اور یقین کے ساتھ اللہ سے وہ چیزیں مانگیں۔ اس طرح لازم ہے کہ آپ کی دعا لیلتہ القدر میں آ جائے گی۔ انشاءاللہ۔
اور جو دعا اللہ کے حضور لیلتہ القدر میں پہنچے اس کی قبولیت کے امکانات تو پھر آپ سمجھ ہی سکتے ہیں۔
سو یہ کر دیکھیں۔


اعتکاف بیٹھنا ایک زبردست کام ہے جس کے بہت سے روحانی فوا ئد ہیں۔ ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں جو یکسوئی اعتکاف کی حالت میں میسر آسکتی ہے وہ ویسے عام حالات میں ملنا مشکل ہوتی ہے۔
اعتکاف کے اختتام پر خاموشی سے گھر لوٹ آنا ہی ٹھیک ہے۔ یہ جو لوگ ہار وغیرہ لے کر اعتکاف سے فارغ ہونے والے کو ایک جشن کی سی کیفیت میں لینے مسجد پہنچے ہوتے ہیں اس قسم کے سلسلے سے گریز ہی کرنا چاہیے۔


اس رمضان میں ٹی وی ون چینل سے ہر شام سات بجے جنید جمشید کے درس سننے کا موقعہ ملا۔ بہت کچھ کام کی باتیں بتاتا ہے یہ آدمی۔ اسے اللہ کی باتیں اتنے موثر انداز میں بتاتے دیکھ کر میں تو اکثر یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ اللہ کی شان ہے کہ ایک ایسا نوجوان جو ناچنے گانے میں مگن اپنی زندگی بِتا رہا تھا اسے اللہ نے کیسی ہدایت سے نوازا کہ آج وہی شخص لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف بلا رہا ہے۔ اکثر جنید خود بھی اپنے لہو و لعب اور گمراہی کے شب و روز کا ذکر کرتا ہے جب وہ بتاتا ہے کہ اتنا بڑا انقلاب کیسے اللہ نے اس کی زندگی میں برپا کیا۔

جنید انتہائی سادہ اور سلیس انداز میں اپنے سننے والوں کو اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہو سکے تو آپ بھی سنیں اسے۔


رمضان میں بہت سا قرآن سننے کو مل جاتا ہے ہر رات تراویح کی صورت میں۔ قرآن پڑھنے کا جو ایک بنیادی سلیقہ ہے وہ یہ ہے کہ اس عظیم کلام کو ٹھیر ٹھیر کر اطمینان سے پڑھا جائے۔ اگر تیز پڑھنا بھی ہو تو ایک خاص حد سے زیادہ تیز نہ پڑھا جائے اور اس پاک کلام کا ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رہے۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مساجد میں تراویح پڑھانے والے قاری صاحبان اس بات کا خیال بالکل نہیں رکھتے اور انتہائی تیز رفتاری سے قرآن پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس بات کو تراویح پڑھنے والے لوگ نوٹ کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اس خرابی کا ذکر بھی کرتے ہیں لیکن امام صاحب کو اس روش کو چھوڑنے کا نہیں کہتے۔

پھر وہ جوقرآن کو ایک، دو یا تین راتوں میں ختم کرنےکے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہوتے ہیں ان میں اللہ کے کلام کو تیز رفتاری سے پڑھنے کے اپنے ہی بنائے ہوئے ریکارڈ توڑے جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اوپر سے گمان کیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ سلسلے انتہا ئی روح پرورہیں۔

اگر کوئی پوچھنے کی کوشش کرے کہ یہ والی سیٹنگ اور سلسلے کدھر سے آپ نے لیے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو رمضان میں باجماعت قیام اللیل صرف تین رات کیا تھا اور اس کے بعد صحابہ اکرام اپنے طور پر گھروں میں یا مسجد میں یہ نماز پڑھتے رہے تو کہا جاتا ہے کہ جی مسلمان صدیوں سے یہ نماز یونہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں۔

آپ کہیں اچھا جی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے تو جو ثابت ۔۔۔۔تو جواب ملتا ہے
” بس چُپ۔ جس بات کا پتا نہ ہو وہ نہیں پوچھتے۔“

29.5.10

بد گمانی بڑ ھائیں

بدگمانی بڑھائیں تو بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ آپس کی دوریاں اتنی بڑھ جائیں گی کہ معاملات کو سلجھانا بہت مشکل نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ سو بہتر تو یہی ہے کہ بدگمانی شروع ہی نہ ہونے دیں۔ چیزوں کو واضع انداز میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ بات جو ہو اور جتنی ہو اسے ویسا ہی اور اتنا ہی دیکھیں۔ اندازے لگانے سے گریز کریں۔ اس ضمن میں اپنےتخیل سے زیادہ کامن سینس کو کام میں لائیں۔

دلوں میں وسوسوں اور ابہام کو پلنے دیں تو وہ بہت بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا توڑ آپس کی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ دوسرے سے وہ بات کہہ ڈالیں جو اس کے بارے میں آپ کو پریشان کر رہی ہے یا غصہ دلا رہی ہے۔ ایسا کرنے سے غلط فہمی دور ہو جانے کا امکان ہے۔اور غلط فہمی دور ہو جائے تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ ایک خوامخواہ کے دباو سے آزادی مل جاتی ہے۔زندگی خوشگوار لگنے لگتی ہے۔

بسا اوقات ایک بات دوسرے کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی مگر ہم اپنے طور پر تصور کر لیتے ہیں کہ ایسا ایسا ہوا ہے۔ مھض کسی کے چہرے کے تاثرات سے اندازے لگاتے رہنا کہ دوسرا آپ کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ رہا یا کوئی فون پر بات کر رہا ہو تو پاس سے گزر تے ہوئے ایک آدھ فقرا یا فقرے کا کچھ حصہ سن کر اپنے دل کو یقین دلا لینا کہ یہ گفتگو میرے خلاف کی جا رہی ہے یا کسی کے ہلکے پھلکے مذاق کے رد عمل میں سیخ پا ہو جانا کہ یہ تو اس نے مجھے طعنہ دیا ہے، میری توہین کی ہے۔۔۔یہ اور اس سے ملتے جلتے دیگر ذہنی رحجانات بد گمانیوں کو جنم دینے اور پھر ان کو استحکام دینے کا باعث بنتے ہیں۔

سورۃ الحجرات کی آیت 12 میں اللہ نے ہمیں بدگمانی سے بچنے کا حکم دیاہے۔ لیکن شیطان جو ہمہ وقت منفی اور فاسد خیالات ہمارے دلوں میں ڈالنے کو بیتاب اور چوکس رہتا ہے وہ ہمیں ایسے اقدامات سے روکے ہی رکھتا ہے جن سے باہم بد گمانیاں دور ہونے کا کچھ سامان ہو سکے۔ اور شیطان صرف جِنّوں میں ہی نہیں ہوتے۔ بد طینت انسانوں کے روپ میں بھی ہماری زندگیوں میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ لگائی بجھائی کرنے والے لوگ خاندانوں میں، اداروں میں، مارکیٹوں میں حتیٰ کہ مساجد میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان سے چوکنا رہنا ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔

28.5.10

روٹین نعمت ہے

کچھ لوگوں کا مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

رہنے کو انہیں اپنا اچھا خاصا ایک گھر میسر ہوتا ہے۔کرائے کے گھر میں رہنے کے کیا جھنجھٹ ہوتے ہیں اس سے وہ لوگ قطعی نا آشنا ہوتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ بل کتنا آتا ہے، انہیں گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر ہمیشہ دستیاب ہوتا ہے۔فرِج ان کا ہر روز بھانت بھانت کی کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا رہتا ہے۔ ریٹ اور ڈیٹ سے وہ لوگ بے نیاز ہوتے ہیں۔پورا مہینہ جس دن بھی جو دل چاہے جا کر اپنی پسند کی دکان سے خرید لیتے ہیں۔ جب دل کرے اپنی مرضی کے ریستوراں میں جا کر کھانا کھا لیتے ہیں۔سارا سال ان کا پرس پنج ہندسی کیش سے روزبھرا رہتا ہے۔

سفر کرنے کو ان کے پاس اپنی گاڑی ہوتی ہے جس کا ٹینک وہ خالی ہونے سے پہلے ہی پیٹرول سے لبا لب بھروا لیتے ہیں۔دور کے سفر کے لیے جہاز استعمال کرتے ہیں۔ انہیں زندگی بھر پتا ہی نہیں چلتا کہ بسوں، ویگنوں، ریل گاڑیوں کے سفر میں کیا گزرتی ہے اور موٹر سائکل پر پورا خاندان ڈھونا کیا معنی رکھتا ہے۔سال میں ایک دو بارکسی پرسکون جگہ پر جا کر چھٹیاں بھی گزارتے ہیں۔ اللہ نے انہیں بیماری اور معذوری سے بھی بچایا ہوتا ہے۔ تھانوں، کورٹ کچہری سے بھی دور رکھا ہوتا ہے۔سرکاری محکموں میں اپنے کام کے لیے دھکے کھانے کی نوبت بھی ان کی زندگی میں کبھی نہیں آئی ہوتی۔ غرض کہ کمال بےفکری اور آسانی کی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں۔

اس سب کے باوجود ان کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ روٹین کی زندگی سے نالاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ زندگی کی یکسانیت سےبورہو چکے ہیں۔اب ان بے خبر لوگوں کو کون بتائے کہ بھائی یہ روٹین تو نعمت ہے۔ یہ جو ہم صبح اٹھتے میں اور رات سونے تک بغیر کسی خوف و رنج سے گزرے اپنے تمام کام ترتیب سے کر جاتے ہیں یہ بہت بڑی نعمت ہے۔لیکن چونکہ بیچ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی اس لیے ہم جان ہی نہیں پاتے اس بات کی قدر۔ہم شاکی اور ملول رہتے میں کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے جو ہم گذار رہے ہیں۔بس ایک ہی روٹین روز ایک جیسی۔ یک رنگی۔ بے کیف۔

اچھا لیکن آپ نےکبھی کسی کو ایسا کچھ بتاتےبھی تو سنا ہو گا :

”جناب وہ اچھا بھلا روٹین کے مطابق صبح اٹھا۔ دفتر کے لیے تیاری کر رہا تھا کہ بس اچانک فالج کا ایسا اٹیک ہوا۔۔۔“

”بھائی وہ ہم دوپہر کا کھانا معمول کے مطابق کھا کر ابھی بیٹھے ہی تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ چھوٹا بھائی سیڑھیوں سے گر گیا ہے۔بس تب سے سب بھاگے پھر رہے ہیں۔۔۔“

”یار میں روزانہ کی طرح روٹین کے رستے سے دکان سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ایسی بھگدڑ مچی کہ میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ کیا ہوا ہے۔ آناً فاناً پولیس کی ایک وین وہاں نمودار ہوئی اور اور لوگوں کے ساتھ مجھے بھی اس میں بٹھا کر یہاں حوالات لے آئے ۔ اس دن سے یہاں ایڑیاں رگڑ رہا ہوں،کوئی شنوائی نہیں۔۔۔“

یا پھر کسی ہسپتال کے وارڈ میں جا کر مختلف لوگوں سے جانیں روٹین کی قدر۔ اور پوچھیں یہ بور ہونا کیا ہوتا ہے۔

26.5.10

ادھاریئے

سپر سٹور میں کوئی گھنٹہ بھر صرف کرنے کے بعد آپ اپنی سامان سے بھری ٹرالی لیے کیش کاونٹر پہ پہنچتے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ قدرے اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ آپکے آگےقطار میں صرف ایک آدمی ہے جو نیکر پہنے، ایک ٹوکری پکڑے کھڑا ہے،سو آپ جلدی فارغ ہو جائیں گے۔اس آدمی کی ٹوکری میں دو ایک جوڑے جراب، ایک ۵۰۰ ایم ایل کی پیپسی، تین بڑی موم بتیاں اور ایک رس کا پیکٹ پڑا نظر آ رہا ہے۔جلد ہی اس کے سامان کی بلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

لیکن کئی منٹ گزرنے کے باوجود آپ کی باری نہیں آتی تو آپ دھیان دیتے ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ آپ سوچتے ہیں اتنا سا سامان تو زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں کیش رجسٹر سے گزر جانا چاہیےتھا تو پھر آخر کاونٹر کے دوسری جانب کھڑا شخص کر کیا رہا ہے؟

سو آپ کیشیئر کی جانب توجہ کرتے ہیں تو اسے ایک کارڈ ایک مشین میں پھیرتا ہوا پاتے ہیں۔ اس کے چہرے سے لگ رہا ہے کہ اس کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔وہ کچھ توقف کرتا ہے اور پھر سے اس کارڈ کو مشین میں پھیرنے لگ جاتا ہے۔ساتھ میں کچھ بٹن بھی دباتا جاتا ہے۔ اس سب میں کئی منٹ اور گذر جاتے ہیں۔پھر آپ یہ دیکھ کر بے چینی کی ایک نئی لہر سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ اب وہ کیشیئر کاونٹر سے ہٹ گیا ہے اور پتا نہیں کدھر چلا گیا ہے۔ اس دوران اس کارڈ کا مالک، یعنی وہ شخص جو لائن میں آپ سے آگے کھڑا ہے اطمینان سے موبائل فون پر کسی سے باتیں کرنے میں مشغول رہتا ہے۔

کافی دیر بعد وہ کیشیئر واپس آ کر اپنی جگہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ کہیں سے ایک اور مشین لے کر آیا ہے اور اب اس والی مشین میں کارڈ کو پھیرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ کافی ٹائم گذر جاتا ہے۔ پھر کیشیئر پاس پڑے فون سے کسی سےاس مسلے کی بابت کچھ بات کرنے لگ جاتا ہے۔آپ کھڑے بیزار ہوتے رہتے ہیں۔فون رکھ کر کیشیئر اس گاہک سے کچھ کہتا ہے۔ جواب میں وہ گاہک کمال بے اعتنائی سے ایک اور کارڈ کیشیئر کے سامنے پھینک دیتا ہے۔ اب کیشیئر اس والے کارڈ کو لے کر مشین پر طبع آزمائی کرنے میں مگن ہو جاتا ہے۔ کئی منٹ گزر جاتے ہیں۔

آخر کار کچھ آوازیں مشین سے آتی ہیں جن سے لگتا ہے کہ اب کی بار کام یابی ہو گئی ہے۔کچھ دیر بعد کیشیئر اس صاحبِ کارڈ کے سامنے ایک کاغذ رکھتا ہے جس پر جناب نے اپنے دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ وہ صاحب لکھنا شروع کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ قلم جواب دے گیا ہے۔وہ اس کو پاس پڑی بل بک کے گتے پر رگڑتے ہیں۔ پھر قلم کی نب کو کا ؤنٹر پر یوں زور زور سے مارتے ہیں جیسے قلم کو دانا چگا رہے ہوں۔ پھر اس کو ہوا میں پوری طاقت سے چھڑکنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیشیئر اس اثنا میں کوئی دوسرا آلہ تحریر ڈھونڈنے کے لیے اپنی جگہ سے ہٹنے ہی لگتا ہے کہ آپ تلملاتے ہوئے اپنا قلم نکال کر پیش کر دیتے ہیں۔

ایک طویل وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے جس کے دوران آپ اندرہی اندر بلبلا تے رہے کہ خدارا ان ادھاریئوں کے لیئے الگ کاونٹر بنالو۔ان کی چند سو کی شاپنگ کے لیئے دس ہزار کیش کے گاہک کو ناحق تکلیف میں ڈالا جاتا ہے۔ مگر یہ بات دکان ولوں کی سمجھ میں شاید کبھی نہیں آ سکتی۔

ان ادھارکے دلدادہ لوگوں کے جنجال صرف شاپنگ مالز تک ہی محدود نہیں۔ اپنی زندگی تو یہ ادھاریئے ادھار لے لے کرآخر کار اجیرن کر ہی لیتے ہیں لیکن باقی معاشرہ بھی ان کے غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی سے بے طرح متاثر ہوتا ہے۔

۱۹۲۹ میں جو امریکی سٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی تھی وہ ان ادھاریئوں کے سبب ہی ہوئی تھی۔ اس وقت پھیلنے والی عالمی کساد بازاری کی جڑوں میں یہ قرض کے رسیا لوگ ہی تھے۔ ہمارے اپنے بازار حصص میں جب بھی کوئی بھونچال آیا انہی بدلے والوں کی وجہ سے آیا۔ ماضی قریب میں سڑکوں پہ دیکھتے ہی دیکھتے جو کاروں کا بے انتہا اضافہ ہوا، انہی ادھار کے شوقین لوگوں کی وجہ سے ہی ہوا۔ جس کی اصل استطاعت شاید موٹر سائیکل خریدنے کی بھی نہ تھی اس نے بھی ادھار کے پیسوں کی گاڑی لی، اس میں سی این جی لگوائی اور سڑکوں پہ اندھی مچا دی۔ جلد ہی ان میں سے آدھی سے زیادہ گاڑیاں بنک نے واپس ضبط کر لیں کیونکہ ادھاریئے حسب معمول ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ۲۰۰۸ میں امریکہ میں جو سب پرائم فیاسکو کا طوفان اٹھا، وہ تبھی اٹھا جب لاکھوں ادھاریئوں نے ادھار کی واپسی کے وقت ہنس کر دکھا دیا۔پچھلے سال دبئی کا مالیاتی پٹاخہ بھی اسی وجہ سے پھوٹا کیونکہ ساری ٹیپ ٹاپ، شو شا ادھار پہ ہی کھڑی تھی۔

اللہ رحم کرے اگر انسان مجبوری میں کسی اشد ضرورت کی وجہ سے ادھار کے چنگل میں پھنس جائے تو اور بات ہے۔ مگر محض دیکھا دیکھی، صرف لائف سٹائل کو ٹی وی پہ دکھائے جانے والی زندگیوں کے مطابق بنانے کے لئے بغیر سوچے سمجھے ادھار لیتے چلے جانا کسی طرح بھی کبھی بھی خیر والی بات نہیں ہو سکتی۔

کریڈٹ کارڈ، لیزنگ، مورگیج، پرسنل لون، انسٹالمنٹس وغیرہ ۔۔۔نام چاہے کچھ بھی ہو ادھار ہوتا ایک لعنت ہی ہے۔