فری ہاسٹنگ پر منتقل ہونے کے چند روز بعد ایک دن جو اپنے بلاگ کا دیدار کرنے کی خواہش کی تو سب ندارد پایا۔ دل میں فوراْ یہ خیال کوندا کہ لو بھئ یہ وہ گھڑی آن ہی پہنچی جس کے لیے سب خیر خواہوں نے تاکید کی تھی کہ بیک اپ لینے میں کبھی سستی نہ کرنا۔ میں بھا گا بھاگا عثمان اور یاسر کے بلاگز پر پہنچا تو وہاں سب خیریت پائی۔ تب جانا کہ مسئلہ اکراس دی بورڈ نہیں ہے بلکہ صرف میرے بلاگ کے ساتھ ہی ہے۔
پھر جیسا کہ انسانی ذہن کی روش ہے، طرح طرح کے خیالات و خدشات دل میں امنڈنے لگے۔ کوشش کر کے ان کی بریک لگائی کہ بھا ئی تھوڑا رک کے دیکھ تو لو کہ صورتحال واقعی اتنی گھمبیر ہے بھی یا نہیں جتنی کہ دکھائی دے رہی ہے۔تب دل کو یہ سوچ کر قدرے قرار ہوا کہ گاہے بگاہے تو پیڈ ہاسٹنگ سروس بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈاون ہو جاتی ہے۔ سو ہو سکتا ہے یہ اسی قسم کی چیز ہو۔
ایسا ہی تھا۔ کچھ دیر کے بعد بلاگ ٹھیک ٹھیک چلنا شروع ہو گیا۔ اوسان بحال ہوئے تو فوراْ Byethost والوں سے دل ہی دل میں ان ناشائستہ خیالات کی معذرت کی جو ان کی بابت ذہن میں آ گئے تھے۔
اور آج ورڈ پریس کے ڈیش بورڈ پر ورژن 3.0.2 کی دستیابی کا مژدو سنایا جا رہا تھا۔ جب آٹو میٹک اپگریڈ کی کوشش کی تو کامیابی نہ ہوئی۔ حیرت ہوئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ wp-content میں جا کر upgrades نامی ڈائریکٹری کو ڈیلیٹ بھی کر کے دیکھ لیا مگر کچھ نہ ہوا۔ لیکن پھر جب تمام پلگ انز کو deactivate کر کے ورڈ پریس اپگریڈ کرنے کی کوشش کی تو الحمدو للہ پلک جھپکتے میں ہو گیا۔
گویا پیڈ ہاسٹنگ سے فری ہاسٹنگ پر منتقلی کے بعد جملہ معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام پا رہے ہیں۔ بس ایک کام ہے جو کہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور ہو ہے سیارہ میں بلاگ کی نئے ڈومین کے ساتھ شمولیت۔ ان کو ایک ایمیل کی تھی کہ براہ کرم بلاگ کے یو آر ایل اور فیڈ ایڈریس میں ترمیم کر لیں۔ اس کے علاوہ سیارہ میں شمولیت کا form بھی از سر نو submit کروایا تھا لیکن تا حال شنوائی نہیں ہوئی۔ چلو، دنیا امید پر قائم ہے۔
اردو کے سب رنگ نے ترمیم کی درخواست پر انتہائی جلدی عملدرآمد کر دیا تھا ۔ ان کا میں ممنون ہوں۔



