Showing posts with label آہا زندگی. Show all posts
Showing posts with label آہا زندگی. Show all posts

9.10.12

چاروں موسم یکجا

یہ سال کا وہ وقت ہے جس میں گمان ہوتا ہے جیسے چاروں موسم اکٹھے آن موجود ہوئے ہیں۔ کبھی گرمی کا احساس ایسا ہوتا ہے کہ اے سی چلا دو۔ کبھی خنکی ایسی کہ لگے اب گیزر چلے۔ لان میں جا کر زرد پتے جو دیکھو ہر سُو تو جانو ارے یہ تو خزاں ہے۔ اور دن کے کسی حصے میں دل ایک عجیب خوشی اور قرار سے ہو جائے سرشار تو دِکھے یہی ہے بہار۔ یہی تو ہیں قدرت کے فنون لطیفہ۔


لان سے نظر آنے والا زرد پتوں والا درخت



24.11.11

بابی یار Babi Yar

؀
وہی مکان، وہی گلیاں مگر وہ لوگ نہیں،
یہی مراد تو ہے بستیاں اجڑنے سے۔     
انسان کا بھی عجیب معاملہ ہے۔ پیدا ہوتا ہے تو وہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بعد کی زندگی میں اپنے گمان کے مطابق کامیابی حاصل کرنے کے لیے سالہا سال چیزوں کے حصول اور کاموں کی تکمیل کی خاطر اندھا دھند بھا گتا رہتا ہے، اس بات سے بے خبر کہ اس دوران زندگی گزرتی جا رہی ہے۔
پھر ایک دن غیر متوقع طور پر موت کا فرشتہ مقرر کیے ہوئے وقت سے نہ ایک سیکنڈ پہلے نہ ایک لمحہ بعد جان نکال لینے کے لیے آ پہنچتا ہے۔موت سے اس اپنے شب و روز میں مگن انسان کی یہ دنیا والی زندگی اختتام پذیر ہو جاتی ہے اور پھر وہ ایک اور ہی جہاں میں جا پہنچتا ہے جو اس دنیا ہیں رہتے ہوئے اس کی آنکھ سے اوجھل تھا اور جہاں اب اسے دائمی طور پر رہنا ہے۔
بعض اوقات موت اجتماعی طور پر آن دبوچتی ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ ستمبر ۱۹۴۱ میں یوکرین کے مقام پر ہوا۔ دوسری جنگ عظیم جاری تھی۔ ہٹلر کی نازی افواج ۱۹ ستمبر ۱۹۴۱ کو یوکرین کے دارلحکومت کیف (Kiev) پر قابض ہو چکی تھیں۔ ۲۶ ستمبر کو جرمن فوج کی طرف سے کیف کے یہو دیوں کے لیے شہر بھر میں ایک اعلانیہ چسپاں کیا گیا جس میں تمام یہودیوں کو کہا گیا کہ ۲۹ ستمبر کو وہ سب اپنا سامان، قیمتی اشیاء، نقدی، دستاویزات ہمراہ لیے،گرم کپڑے پہنے صبح آٹھ بجے شہر میں واقع یہودیوں کے قبرستان کے قریب جمع ہو جائیں۔ نہ پہنچنے والوں کو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔
نازیوں کو امید تھی کہ کوئی پانچ چھ ہزار یہودی اس دن وہاں اکٹھے ہو جائیں گے لیکن وہاں تو تیس ہزار سے زیادہ یہودی۔۔۔آدمی، عورتیں، جوان، بوڑھے،بچے۔۔۔ اپنے مال و متاع سمیت آن پہنچے۔ دراصل نازیوں نے اس قدر مہارت اور چالاکی سے سارا منصوبہ ترتیب دیا تھا کہ یہودی آخر وقت تک یہی سمجھتے رہے کہ ان کو وہاں اس لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے تا کہ ان سب کی کسی اور علاقے میں نقل مکانی کی جائے جہاں وہ اکٹھے مل کر آباد ہو سکیں۔سب یہودی اسی گمان میں رہے کہ جلد ہی ان کو ریل گاڑیوں میں سوار کر دیا جائے گا۔
جب تک حقیقت ان پر کھلی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔جب ان کو مشین گنز چلنے کی ترتراہٹ سنائی دینی شروع ہوئی تو تب کسی کے لیے بھی جان بچا کر فرار ہونا ممکن نہیں رہا تھا۔انتہائی منظم طریقے سے تمام یہودیوں سے ان کا سامان لے لیا گیا اور ان کا تمام لباس اتروا لیا گیا۔پھر دس دس یہودیوں کو فوجی بابی یار کی طرف ہانک کر لے جاتے جہاں ان کو گولیوں سے اڑا دیا جاتا۔بابی یار کیف میں واقع ایک گھاٹی کا نام ہے جو تقریباً ۱۵۰ میٹر لمبی، ۳۰ میٹر چوڑی اور ۱۵ میٹر گہری ہے۔دو دن میں ۳۳۷۷۱ یہودی گولیاں مار کر ختم کر دیے گئے اور بابی یار میں ان کی لاشوں کے انبار لگا دیے گئے۔

اور رہا انفرادی موت کا سلسلہ تو وہ تو ہمارے ارد گرد چلتا ہی رہتا ہے۔ انسان اپنے خاندان والوں کو اور دوست احباب کو  فوت ہوتے دیکھتا تو ہے لیکن کسی نہ کسی طرح اپنے لیے اس کے دل میں یہی گمان رہتا ہے کہ یہ تو دوسرے لوگ ہیں  جوفوت ہوتے ہیں، میں نے تو ابھی زندہ ہی رہنا ہے۔میں تو ابھی صحتمند ہوں،میرے تو بہت سے منصوبے ابھی ایسے ہیں جن کو میں نے پورا کرنا ہے، میں تو ایک اہم انسان ہوں۔۔۔یہ گھر یا یہ ادارہ میں ہی تو چلا رہا ہوں۔میں ابھی فوت نہیں ہوسکتا۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موت بہت ہی چپکے سے آ جاتی ہے۔ضروری نہیں کہ کوئی بیمار ہی ہو یا بدحال ہو تو ہی مرتا ہے۔ 

موت کے ساتھ ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور اعمال کا سلسلہ موقوف ہو جاتا ہے۔یہ جو وقت ہمیں ملا ہوا ہوتا ہے یہ بس ایک مہلت ہی ہے۔سٹیو جابز کا یہ کہا Your time is limited بہت قابل غور ہے۔ لیکن جیتے جی ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ نہ ہی یہ بات یقین میں آ تی ہے کہ زندگی میں جو کچھ ہم کر رہے ہیں، موت کے بعد اس سب کے لیے ہمیں اپنے خالق کے ہاں جواب دہ ہونا ہے اور پھر سزا اور جزا کا سلسلہ ہے۔ہمارا دل یہ مان کے ہی نہیں دیتا کہ دنیا کا یہ سلسلہ عارضی ہے۔۔۔


؀
وہ وقت،وہ محفلیں،وہ شگوفتہ مزاج لوگ
موج زمانہ لے گئی جانے کہاں کہاں     

14.11.11

زندگی

مڑے ہوئے پتوں پہ
بوندوں کی کھنک۔۔۔
زیروبم،
لاجونتی،
مدھ بھری،
ارغوانی زندگی۔

زندگی۔۔۔
تتلی،
ترنگ،
سوہنی
سہانی زندگی۔

23.6.11

ہوا مارنا

کسی کا حق مارنا، کسی کے پیسے مارنا وغیرہ جیسی غلط کاریاں تو آپ سنتے ہی رہتے ہیں ۔آج میں آپکی توجہ ایک اور اہم معاشرتی مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ وہ ہے ہوا مارنا۔ آپ اپنی گاڑی کسی سروس سٹیشن پر لے کر جاتے ہیں کہ اس کی دحلائی ستھرائی کروا لیں تو وہ لوگ کاروائی کا آغاز ہوا مارنے سے کرتے ہیں۔

گاڑی کے چاروں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک صاحب ایک پائپ پکڑ کر اس میں سے نکلتی تیز رفتار ہوا گاڑی کے فرش اور تمام کونوں کھدروں میں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔اب اپنے گمان کے مطابق تو وہ گاڑی کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں جو ہو رہا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گاڑی کے فلور میٹس پر پڑی تمام گرد و دیگر گند بلا اڑ اڑ کر ڈیش بورڈ اور اطراف میں جا بکھرتا ہے۔ اس عمل سے گاڑی کا اندر صاف ہونے کی بجائے اور گندا ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ وہ لوگ ہوا مارنے کی بجائے ویکیوم کلینر کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ ویکیوم کلینر گند بلا کو دور دور تک اڑانے کی بجائے اپنے اندر کھینچ لے گا جو کہ گاڑی کے اندر کی صفائی کا ایک زیادہ منطقی طریقہ ہے۔ اور یہ بھی نہیں کہ ویکیوم کلینر خریدنے کے لیے کوئی لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ نہ ہی یہ ہے کہ ویکیوم کلینر ایسے مقاصد کے لیے کسی بھی سروس سٹیشن پر استعمال نہیں ہو رہے۔ دبئی میں دیرہ کے علاقے میں ایک دفعہ میں نے دیکھا تھا کہ وہ لوگ گاڑی کے اندر ہوا نہیں مار رہے تھے۔ ویکیوم کلینر استعمال کر رہے تھے۔

اب سروس سٹیشنز کی بات ہو رہی ہے تو ان سے متعلق ایک اور رونا بھی رو ہی لیا جائے: گاڑی کے پچھلے شیشے کو سردیوں میں دھندلا جانے سے بچانے کے لیئے ڈی فراسٹر لگا ہوتا ہے جس کو ہم ڈیش بورڈ میں لگے ایک بٹن سے آن آف کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ کارآمد سسٹم بہت جلد کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اس کا سہرا بھی سروس سٹیشن والوں کے سر ہے۔ان کے بے خبر لڑکے بالے صفائی کے زعم میں پچھلے شیشے کے اندر کی طرف اس قدر زور سے دبا دبا کر کپڑا لگاتے ہیں کہ وہاں لگی ڈی فراسٹر کی سٹرائپس ان کے دباو کی تاب نہیں لا سکتیں اور کہیں نہ کہیں سے کٹ جاتی ہیں۔اب یا تو گاڑی بنانے والے ان سٹرائپس کو شیشے کے اندر یا باہر لگانے کی بجائے شیشے کے درمیان میں لگاتے جہاں کوئی چیز ان سے مس نہ ہوتی۔ لیکن ایسا کرنا گاڑی کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا۔ یا پھر یہ ہے کہ سروس سٹیشن والے ہی کچھ احساس اور درد مندی اس سلسلے میں پیدا کر لیتے۔

لیکن چونکہ یہ دوسرا امکان پہلے والے سے بھی زیادہ کم ہے اس لیے یہی کیا جا سکتا ہے کہ سروس سٹیشن والوں کو کہہ دیا جائے کہ بھائی پچھلا شیشہ اندر سے صاف نہ کرنا۔ لیکن آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ آپ ان کی جتنی بھی منت سماجت کر لیں اس سلسلے میں، آپ کو تو وہ لڑکے کہہ دیں گے کہ اچھا جی نہیں کرتے لیکن جیسے ہی آپ کا دھیان ادھر ادھر ہوا، وہ لوگ عادت سے مجبور ہو کر اندر سے شیشے کی رگڑائی کر ہی ڈالیں گے۔ اب اس کا کیا کیا جائے،جبکہ منقطع شدہ ڈی فراسٹر کی مرمت بھی عام حالات میں آسان نہیں۔

30.5.11

گاڑی تیز چلانا

مجھے وہ لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے جو گاڑی تیز چلاتے ہیں۔ اسی لیے میں ان کو اوورٹیک کر لیتا ہوں۔

23.5.11

بری لت

یہ بھی ایک عجیب مصیبت ہوتی ہے بعض لوگوں کے ساتھ۔کسی کے گھر جو جاتے ہیں مہمان بن کر تو وہاں جا کر میز بان کو کہہ کر ٹی وی پر اپنی پسند کا چینل ٹیون کروا لیتے ہیں اور پھر گھنٹوں بیٹھ کر اپنے من چاہے ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں۔ میز بان بیچارہ ساتھ میں مفت میں ٹنگا رہتا ہے۔ سوچتا رہتا ہے کہ بھئ آپ میرے گھر مجھ سے ملنے، مجھ سے باتیں کرنے کے لیے آئے تھے یا اپنے گھر کے ٹی وی بینی کے معمولات پورے کرنے؟ یہ میرا گھر ہے یا تھیٹر ہے؟وغیرہ۔

اور پھر کچھ مہمان تو آپ کو کہہ کر اپنے چینل ٹیون کروا لیتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایک قدم آگے ہوتے ہیں۔ وہ آپ سے پوچھے بغیر، آپ کو بتائے بغیر سیدھا ریموٹ پکڑتے ہیں اور آپ کے ٹی وی پر اپنی پسند کے چینل ٹیون کر کے دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کمال ہے نا۔

یہ کئی طرح سے ایک نامناسب حرکت ہے۔ ایک تو میزبان اوراسکے اہل خانہ شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہ کہ مہمان کا مطمع نظر ٹی وی تھا نہ کہ ان سے ملنا۔ دوسرا میزبان اس بات سے بھی خفت محسوس کرتا ہے کہ جو چینل ہم لوگ نہیں دیکھتے وہ ہمارے ہی گھر میں بیٹھ کر دھونس سے ہم پر ٹھونسے جا رہے ہیں۔بھئی اگر آپ ہمارے گھر آ ہی گئے ہو تو اپنی ٹی وی کی لت کو کچھ دیر کے لیے خیر باد کہہ دو اور ہم سے بات وات کر لو۔عجب بدتہذیبی ہے :(

28.1.11

مرد بڑے ظالم ہوتے ہیں

ساری زندگی عورت کو کنفیوژن میں ہی رکھتے ہیں۔کبھی تو اس کو لگتا ہے کہ میرا میاں بس مجھ کو ہی دل و جان سے چاہتا ہے اور کبھی اس کو یوں لگنے لگتا ہے کہ اس کا شوہر کسی دوسری عورت سے بھی محبت کرتا ہے۔آدمی کے طرز عمل کے مد و جزر عورت کے ان دو خیالات کا باعث بنتے ہیں۔وہ اندرونی طور پر اسی ادھیڑ بن میں سالہا سال گزار دیتی ہے۔

7.1.11

پنڈی ایگزٹ

یوں تو مری و گلیات میں کرنے کا نیا تو کچھ نہیں ہوتا کہ ہر بار پہلے والی سرگرمیاں، پہلے والے مناظر ہی دہرانے کو ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اس جگہ کی کچھ کشش ضرور ہے۔ اور لاہور سے جاتے آتے ہوئے موٹر وے پہ بھی کچھ خاص کرنے کو نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ آپ ڈیش بورڈ پہ بدلتے اعداد و شمار سے محظوظ ہوتے رہیں ۔۔۔۳۳۰۰ آرپی ایم پہ گاڑی کی رفتار ۱۲۰ کلومیٹرفی گھنٹہ ہوتی ہے، گاڑی کی رفتار ۱۰۰ ہو تو انجن کی رفتار ۲۷۰۰ ہو جاتی ہے اور ۱۴۰ کی غیر قانونی رفتار کے لئے پورے ۴۰۰۰ چکر فی منٹ درکار ہوتے ہیں۔ لاہور سے فُل کرایا گیا فیول ٹینک جب گیج پہ نصف ظاہر ہونے لگےتو جان لینا ہے کہ بھیرہ قیام و طعام آ نے کو ہے، آپ بیٹھے انجن کے صوتی مدوجذر سے محظوظ ہوتے رہیں وغیرہ وغیرہ۔

پچھلے سال سکول کی گرمیوں کی چھٹیوں میں نتھیاگلی جانے کا پروگرام بنا۔ اس دفعہ پہلے ایک رات راولپنڈی میں رکنا تھا۔ 29 جولائی کو لاہور سے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہمیشہ کی طرح بھیرہ سروس ایریا سے پیٹرول ٹینک پھر سے فل کروایا۔ پھر جب سالٹ رینج کے پہاڑی سلسلے میں داخل ہوئے تو وہاں بارش ملی۔ اس سے پہلے اس جگہ اتنے خوبصورت مناظر دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔ بادل بہت نیچے آئے ہوئے تھے۔ بارش بھی خاصی تیز تھی۔

اسلام آباد ٹال پلازہ میں E Toll کی سکرین پر لکھا آیا کہ 235 روپے منہا کیے گئے ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جب فروری میں مری جاتے ہوے یہاں سے گزرے تھے تو شاید کچھ کم رقم چارج ہوئی تھی۔ راولپنڈی میں قیام قاسم مارکیٹ کے قریب تھا جہاں ہم سہ پہر کےوقت پہنچ گئے۔

اس سے پہلے موٹر وے سے ہمیشہ سیدھے کشمیر ہائی وے کو چلے جایا کرتے تھے۔ یہ پہلی بار تھی کہ موٹر وے کے بعد راولپنڈی جانا تھا۔ میرا خیال تھا کہ موٹر وے سے آنے والوں کے لیے جیسے جی ٹی روڈ انٹر چینج پر بائیں کو ایک سڑک ٹیکسلا، واہ، پشاور جانے والوں کے لیے بنی ہوئی ہے اسی طرح راولپنڈی جانے والوں کے لیے بھی کوئی ایسا ہی مخرج ہو گا ۔

لیکن مجھے ایسی کوئی سڑک نظر نہیں آئی۔ اب یا تو میں وہی پشاور والی ایگزٹ سے ٹیکسلا، واہ کی طرف مڑ جا تا اور پھر کسی U ٹرن سے گھوم کر اپنا رخ پنڈی کی جانب کرتا۔ یا پھر یہ سمجھ میں آئی کہ میں گوٖلڑہ چوک کی جانب چلتا رہوں اور وہاں سے دائیں مڑ کر گولڑہ روڈ سے جی ٹی روڈ پر جا ملوں۔ میں نے یہ دوسرا والا آپشن ہی اپنایا۔

مجھے لگتا تھا کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ راولپنڈی جیسے مین شہر کے لیے جی ٹی روڈ انٹر چینج پر کوئی ایگزٹ نہ ہو۔ یقیناً ہو گی لیکن مجھے نظر نہیں آئی ہو گی۔ لیکن پنڈی پہنچ کر دریافت کرنے پر یہی بتایا گیا کہ واقعی ایسی کوئی ایگزٹ نہیں ہے اور لوگ بائیں کو جا کر یو ٹرن لے کر ہی راولپنڈی کو آتے ہیں۔ یہ بات تب بھی مجھے انتہا ئی نا قابل یقین سی لگی۔

میں حیران ہوں کیا واقعی موٹر وے کے اختتام پر دائیں جانب پنڈی کو جانے کے لیے کوئی ایگزٹ نہیں ہے؟

5.1.11

ہاں یہ وہی دسمبر تھا۔۔۔

”دیکھو یہ جو دسمبر ابھی گزرا ہے نا یہ وہی دسمبر تھا جس کا تمہیں انتظار تھا۔اوریہ وہی سردیاں ہیں جن کا ذکر کر کے تم اتنا کچھ کہتے تھے۔

تم کتنے سالوں سے ہر سال یہی کہتے ہو کہ بس ذرا موسم بدل لینے دو، یہ گرمیاں یہ حبس جا لینے دو، سردیاں آ لینے دو بس پھر دیکھنا۔۔۔جتنے رکے پڑے کام ہیں، میں سارے کے سارے ختم کر دوں گا۔
مگر دیکھ لو، آج تک ایسا کچھ ہو نہیں سکا۔ سردیاں ہر سال آتی ہیں اور آ کر گزر جاتی ہیں۔ تم ہر سال کہتے ہو بس دسمبر آ لینے دو ذرا، سردی ذرا صحیح سے شروع ہو لینے دو، میں اگلا سال چڑھنے نہیں دوں گا۔ یکم جنوری سے پہلے پہلے سب التوا میں پڑئےکام، ہاں ہاں سب کے سب تم دیکھنا، میں انشاءاللہ اب کے نمٹا دوں گا۔
لیکن ہوتا کیا ہے۔۔۔گرمیوں میں تمہیں گرمی تنگ کرتی ہے۔بس اے سی کی ہوا دل کو بھاتی ہے۔سردیوں میں تمہیں سردی ستاتی ہے، گرم لحاف سے نکلنے کا تمہارا دل ہی نہیں کرتا۔خزاں میں ناسٹیلجیا تمہارےدل میں گھر کر لیتا ہے اور بہار میں رومانس تمہارے جسم و جاں میں رواں دواں ہو جاتا ہے۔ اور یوں سارا سال تم یہی انتظار کرتے رہتے ہو کہ موسم ذرا معتدل ہو جا ئے تو بس پھر ایک ساتھ ہی سارے کر دیے جانے کے منتظر کام میں سرانجام دے ڈالوں گا۔
میں تمہیں سچ بتاوں یہ محض خود فریبی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔تمہیں یاد ہو گا چند سال پہلے جب تمہارے ایک کزن کی وفات ہوئی تھی تو تم تھوڑا ساچونکے تھے۔کیونکہ وہ عمر میں تم سے کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا۔تمہارے ایج گروپ کا ہی تھا۔ تب تم تھوڑا ڈرے تھے کہ ایک دن اچانک تم بھی اسی طرح اس دنیا کی زندگی کو خیر باد کہہ دو گے اور تمہیں آخرت اور اس دنیا سے متعلقہ پینڈنگ کام کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملے گا۔ تب تم نے اپنےآپ سے کہا تھا کہ یہ سب کام تم کو اب فوراً نمٹا دینے چاہییں۔لیکن تب بھی تم نے ڈیڈ لائن اپنے آپ کو جو دی تھی وہ اُس سال کے دسمبر ہی کی تھی۔
دیکھو میں تو تمہیں یہی کہوں گی کہ تم دائمی سستی اور بے عملی کی یہ روش اب ترک کر ڈالو۔ اب کچھ کر ڈالو۔ یہ جو تمہارے سالہا سال سے التوا میں پڑے کام ہیں یقین کرو یہ کوئی بہت زیادہ وقت طلب نہیں ہیں۔ کچھ تو بالکل ہی چند گھنٹوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جانے والے ہیں۔ اگر تم آج سے ان کاموں کو ایک ایک کر کے کرنا شروع کر ڈالو تو سچی بات ہے ایک آدھ ہفتے میں یہ سب اختتام پذیر ہو جائیں گے۔ تمہا رے اندر کا ایک بوجھ، ایک احساس جرم ختم ہو جا ے گا۔تم خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرو گے۔
میری مانو۔۔۔پروگرام اور شیڈول بنانے ترک کر دو۔ جو کرنا ہے وہ کرنا شروع کر دو۔آگے تمہاری مرضی۔“

8.12.10

آپ سب کو نیا اسلامی سال 1432 مبارک ہو

اللہ ہمارے گناہ معاف کرے اور ہمارے لیئے آسانیاں پیدا فرمائے
آمین

1.12.10

سیارہ میں شمولیت دوبارہ

فری ہاسٹنگ پر منتقل ہونے کے چند روز بعد ایک دن جو اپنے بلاگ کا دیدار کرنے کی خواہش کی تو سب ندارد پایا۔ دل میں فوراْ یہ خیال کوندا کہ لو بھئ یہ وہ گھڑی آن ہی پہنچی جس کے لیے سب خیر خواہوں نے تاکید کی تھی کہ بیک اپ لینے میں کبھی سستی نہ کرنا۔ میں بھا گا بھاگا عثمان اور یاسر کے بلاگز پر پہنچا تو وہاں سب خیریت پائی۔ تب جانا کہ مسئلہ اکراس دی بورڈ نہیں ہے بلکہ صرف میرے بلاگ کے ساتھ ہی ہے۔

پھر جیسا کہ انسانی ذہن کی روش ہے، طرح طرح کے خیالات و خدشات دل میں امنڈنے لگے۔ کوشش کر کے ان کی بریک لگائی کہ بھا ئی تھوڑا رک کے دیکھ تو لو کہ صورتحال واقعی اتنی گھمبیر ہے بھی یا نہیں جتنی کہ دکھائی دے رہی ہے۔تب دل کو یہ سوچ کر قدرے قرار ہوا کہ گاہے بگاہے تو پیڈ ہاسٹنگ سروس بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈاون ہو جاتی ہے۔ سو ہو سکتا ہے یہ اسی قسم کی چیز ہو۔

ایسا ہی تھا۔ کچھ دیر کے بعد بلاگ ٹھیک ٹھیک چلنا شروع ہو گیا۔ اوسان بحال ہوئے تو فوراْ Byethost والوں سے دل ہی دل میں ان ناشائستہ خیالات کی معذرت کی جو ان کی بابت ذہن میں آ گئے تھے۔

اور آج ورڈ پریس کے ڈیش بورڈ پر ورژن 3.0.2 کی دستیابی کا مژدو سنایا جا رہا تھا۔ جب آٹو میٹک اپگریڈ کی کوشش کی تو کامیابی نہ ہوئی۔ حیرت ہوئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ wp-content میں جا کر upgrades نامی ڈائریکٹری کو ڈیلیٹ بھی کر کے دیکھ لیا مگر کچھ نہ ہوا۔ لیکن پھر جب تمام پلگ انز کو deactivate کر کے ورڈ پریس اپگریڈ کرنے کی کوشش کی تو الحمدو للہ پلک جھپکتے میں ہو گیا۔

گویا پیڈ ہاسٹنگ سے فری ہاسٹنگ پر منتقلی کے بعد جملہ معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام پا رہے ہیں۔ بس ایک کام ہے جو کہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور ہو ہے سیارہ میں بلاگ کی نئے ڈومین کے ساتھ شمولیت۔ ان کو ایک ایمیل کی تھی کہ براہ کرم بلاگ کے یو آر ایل اور فیڈ ایڈریس میں ترمیم کر لیں۔ اس کے علاوہ سیارہ میں شمولیت کا form بھی از سر نو submit کروایا تھا لیکن تا حال شنوائی نہیں ہوئی۔ چلو، دنیا امید پر قائم ہے۔

اردو کے سب رنگ نے ترمیم کی درخواست پر انتہائی جلدی عملدرآمد کر دیا تھا ۔ ان کا میں ممنون ہوں۔

11.11.10

شارع الشیخ زید پر گاڑی چلانا...راہنما ویڈیو

10.11.10

فری ہاسٹنگ پر ورڈپریس۔۔۔کیونکر؟

دیکھیئے میں ورڈ پریس پر ہی رہنا چاہتا ہوں مگر paid hosting پر نہیں۔۔۔اب فری ہاسٹنگ پر۔


لیکن ابھی تک سننے میں تو یہی آیا ہے کہ فری ہاسٹنگ والے کسی نہ کسی شکل میں کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی گڑ بڑ کر ہی دیتے ہیں جس کا نتیجہ بعض صورتوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے بلاگ سے ہی ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بلاگران نے فری ہاسٹنگ پر اپنا بلاگ ورڈ پریس پر چلایا ہوا ہے اور بظاہر سب ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا ہے۔


سو وہ لوگ جو اپنی فری ہاسٹنگ سے مطمئن ہیں براہ کرم راہنما ئی فرمائیں کہ کونسی فری ہاسٹنگ سروس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ عین نوازش ہو گی۔
wordpress.org سے ہٹ کر wordpress.pk کو دیکھا ہے لیکن اس میں تھیم میں ترمیم کرنا یا خود سے پلگ انز شامل کرنا ممکن نہیں۔ یہی حال wordpress.com کا ہے۔ اس میں تو پلگ انز کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پوسٹ ایڈیٹر میں تو چلو نستعلیق فونٹ کسی طور کر ہی لیں، کمنٹ باکس کا فونٹ کلی طور پر ناقابل ترمیم اور بنا ترمیم قطعئ طور پر ناقابل قبول ہے۔ Blogger.com میں تھیم تو ایڈٹ ہو سکتی ہے مگر کمنٹ باکس میں فونٹ سائز اور فونٹ ٹائپ تبدیل کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ یا ہے؟


تو پھر جناب ہے کوئی فری ہاسٹنگ جس پر اپنے پیارے ورڈ پریس پر ہی طبع آزمائی جاری رکھی جا سکے؟

29.10.10

ذہین عورتیں

مردوں سے برابری کا مطالبہ صرف وہ عورتیں کرتی ہیں جو اپنے آپ کو ذہین سمجھتی ہیں۔جو عورتیں حقیقت میں ذہین ہوتی ہیں وہ ایسا نہیں کرتیں۔

13.8.10

مساجد میں افطاری

جس شام رمضان کا چاند نظر آیا اس رات مسجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی صفوں کی تعداد ڈبل ہو گئی۔ اگلے دن مغرب کے وقت یہ تعداد واضح طور پر اوربھی بڑھ گئی۔ مسجدوں میں افطار کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب کے وقت خاصی گہماگہمی ہو جاتی ہے۔

ایک خاطرخواہ تعداد اس رونق میں ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو صرف افطاری سے مستفید ہونے کی نیت سے آئے ہوتے ہیں اور ان کے پروگرام میں افطاری کے بعد مغرب کی نماز میں شرکت کرنا شامل نہیں ہوتا۔ یہ لوگ کھا پی کر اور کچھ مزید اشیاء خورد و نوش شاپر میں ہمراہ لے کر جماعت کھڑ ی ہونے سے پہلے پہلے واپسی کا قصد کرتے ہیں ۔

اکثر مساجد میں تو ان کی یوں واپسی میں کوئی خلل نہیں ڈالا جاتا لیکن بعض مساجد میں ذرا حساس طبع قسم کے انتظامیہ والے ان کو یوں نہیں لوٹنے دیتے اور ان کو گفتگو اور ہلکے ہلکے دھکوں وغیرہ کی مدد سے مسجد کے اندر بھیج دیتے ہیں کہ آپ باجماعت نماز پڑھے بغیر یوں نہ جائیں۔

اب ان بیچارے غریب لوگوں کے لیے جو محض پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر مسجد کی افطار پارٹی میں آ نکلے تھے ایک عجیب نہ جاۓ ماندن نہ پاۓ رفتن والی کیفیت ہو جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر کا روزہ نہیں بھی ہوتا۔ اور بعض صورتوںمیں گمان غالب ہے کہ بیچ میں کچھ غیر مسلم بھی شکم پری کے چکر میں آن پھنستےہیں۔

مسجد کےھال میں پہنچ کر یہ مجبور کیا گیا گروہ پچھلی ترین صفوں میں کھڑا ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ دوران نماز ان کی کیفیت اور حالت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی رش سے بھری سڑک پر لرنر لائسنس والے ڈرائیور کی ہوتی ہے۔لیکن چیلنج سے بھرپور یہ صورتحال ان کے حوصلے اس طور پست نہیں ہونے دیتی کہ وہ آنے والے بقیہ دنوں میں نماز سے عاری افطاری میں شمولیت کا ارادہ ترک کر دیں۔

سو رونقیں لگی رہتی ہیں۔

13.7.10

عجیب مصیبت

یہ ہاسٹنگ کمپنی ہے جو میری اس کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے۔ آج صبح پہلے تو سائٹ ہی ڈاون تھی۔ اب جو چلی ہے تو میری تازہ ترین پوسٹ بمعہ تبصرہ جات غائب ہے۔۔۔جی جی وہی والی جو کل رات شائع کی تھی نا۔۔۔حلالے کا قصہ جو تھا۔

عجیب مصیبت ہے!

ان کے سامنے جو اپنا رونا رویا ہے تو یہ جواب آ گیا ہے:

Due to services affected at old datacentre we immidiatley moved your site to high config new server at new datacentre. We took this action to provide you better services in future. We are sorry for inconvinience but we took this action to provide better services in future

اب کوئی پوچھے کہ جب ڈیٹا لاس ہو رہا ہے تو یہ کہاں کی بیٹر سروس ہے؟؟؟

31.5.10

منہ لگی بوتل

یہ تو اکثر ہی سنا ہے کہ اگر آپ ہوٹلوں کے باورچی خانوں کی حالت زار، وہاں گندگی و غلاظت کا عالم ایک دفعہ خود دیکھ لیں تو آپ ہوٹلوں میں کھانا کھانا ترک کر دیں۔

اچھا جی یہ تو ہو گیا گھر سے باہر کھانا کھانا یا نہ کھانا۔

کسی کے گھر میں جا کرپانی پینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

تقریباً ہر گھر میں گھر کے چھوٹے بڑے افراد یہی کرتے ہیں کہ پیاس لگی تو گزرتے گزرتے فریج کھولا، پانی کی بوتل نکالی، منہ کو لگائی، غٹا غٹ کچھ پانی پیا اور بوتل واپس فریج میں۔

مہمان آئے۔ ان میں سے کسی نے پانی مانگا یا کھا نے کے ہمراہ انہیں پانی دینے کا مرحلہ آیا تو وہی منہ لگی بوتل مہمان کے سامنے حاضر بمعہ ایک خوبصورت گلاس۔ اس پانی میں ہے کچھ خاص۔

29.5.10

بد گمانی بڑ ھائیں

بدگمانی بڑھائیں تو بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ آپس کی دوریاں اتنی بڑھ جائیں گی کہ معاملات کو سلجھانا بہت مشکل نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ سو بہتر تو یہی ہے کہ بدگمانی شروع ہی نہ ہونے دیں۔ چیزوں کو واضع انداز میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ بات جو ہو اور جتنی ہو اسے ویسا ہی اور اتنا ہی دیکھیں۔ اندازے لگانے سے گریز کریں۔ اس ضمن میں اپنےتخیل سے زیادہ کامن سینس کو کام میں لائیں۔

دلوں میں وسوسوں اور ابہام کو پلنے دیں تو وہ بہت بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا توڑ آپس کی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ دوسرے سے وہ بات کہہ ڈالیں جو اس کے بارے میں آپ کو پریشان کر رہی ہے یا غصہ دلا رہی ہے۔ ایسا کرنے سے غلط فہمی دور ہو جانے کا امکان ہے۔اور غلط فہمی دور ہو جائے تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ ایک خوامخواہ کے دباو سے آزادی مل جاتی ہے۔زندگی خوشگوار لگنے لگتی ہے۔

بسا اوقات ایک بات دوسرے کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی مگر ہم اپنے طور پر تصور کر لیتے ہیں کہ ایسا ایسا ہوا ہے۔ مھض کسی کے چہرے کے تاثرات سے اندازے لگاتے رہنا کہ دوسرا آپ کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ رہا یا کوئی فون پر بات کر رہا ہو تو پاس سے گزر تے ہوئے ایک آدھ فقرا یا فقرے کا کچھ حصہ سن کر اپنے دل کو یقین دلا لینا کہ یہ گفتگو میرے خلاف کی جا رہی ہے یا کسی کے ہلکے پھلکے مذاق کے رد عمل میں سیخ پا ہو جانا کہ یہ تو اس نے مجھے طعنہ دیا ہے، میری توہین کی ہے۔۔۔یہ اور اس سے ملتے جلتے دیگر ذہنی رحجانات بد گمانیوں کو جنم دینے اور پھر ان کو استحکام دینے کا باعث بنتے ہیں۔

سورۃ الحجرات کی آیت 12 میں اللہ نے ہمیں بدگمانی سے بچنے کا حکم دیاہے۔ لیکن شیطان جو ہمہ وقت منفی اور فاسد خیالات ہمارے دلوں میں ڈالنے کو بیتاب اور چوکس رہتا ہے وہ ہمیں ایسے اقدامات سے روکے ہی رکھتا ہے جن سے باہم بد گمانیاں دور ہونے کا کچھ سامان ہو سکے۔ اور شیطان صرف جِنّوں میں ہی نہیں ہوتے۔ بد طینت انسانوں کے روپ میں بھی ہماری زندگیوں میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ لگائی بجھائی کرنے والے لوگ خاندانوں میں، اداروں میں، مارکیٹوں میں حتیٰ کہ مساجد میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان سے چوکنا رہنا ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔

28.5.10

روٹین نعمت ہے

کچھ لوگوں کا مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

رہنے کو انہیں اپنا اچھا خاصا ایک گھر میسر ہوتا ہے۔کرائے کے گھر میں رہنے کے کیا جھنجھٹ ہوتے ہیں اس سے وہ لوگ قطعی نا آشنا ہوتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ بل کتنا آتا ہے، انہیں گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر ہمیشہ دستیاب ہوتا ہے۔فرِج ان کا ہر روز بھانت بھانت کی کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا رہتا ہے۔ ریٹ اور ڈیٹ سے وہ لوگ بے نیاز ہوتے ہیں۔پورا مہینہ جس دن بھی جو دل چاہے جا کر اپنی پسند کی دکان سے خرید لیتے ہیں۔ جب دل کرے اپنی مرضی کے ریستوراں میں جا کر کھانا کھا لیتے ہیں۔سارا سال ان کا پرس پنج ہندسی کیش سے روزبھرا رہتا ہے۔

سفر کرنے کو ان کے پاس اپنی گاڑی ہوتی ہے جس کا ٹینک وہ خالی ہونے سے پہلے ہی پیٹرول سے لبا لب بھروا لیتے ہیں۔دور کے سفر کے لیے جہاز استعمال کرتے ہیں۔ انہیں زندگی بھر پتا ہی نہیں چلتا کہ بسوں، ویگنوں، ریل گاڑیوں کے سفر میں کیا گزرتی ہے اور موٹر سائکل پر پورا خاندان ڈھونا کیا معنی رکھتا ہے۔سال میں ایک دو بارکسی پرسکون جگہ پر جا کر چھٹیاں بھی گزارتے ہیں۔ اللہ نے انہیں بیماری اور معذوری سے بھی بچایا ہوتا ہے۔ تھانوں، کورٹ کچہری سے بھی دور رکھا ہوتا ہے۔سرکاری محکموں میں اپنے کام کے لیے دھکے کھانے کی نوبت بھی ان کی زندگی میں کبھی نہیں آئی ہوتی۔ غرض کہ کمال بےفکری اور آسانی کی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں۔

اس سب کے باوجود ان کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ روٹین کی زندگی سے نالاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ زندگی کی یکسانیت سےبورہو چکے ہیں۔اب ان بے خبر لوگوں کو کون بتائے کہ بھائی یہ روٹین تو نعمت ہے۔ یہ جو ہم صبح اٹھتے میں اور رات سونے تک بغیر کسی خوف و رنج سے گزرے اپنے تمام کام ترتیب سے کر جاتے ہیں یہ بہت بڑی نعمت ہے۔لیکن چونکہ بیچ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی اس لیے ہم جان ہی نہیں پاتے اس بات کی قدر۔ہم شاکی اور ملول رہتے میں کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے جو ہم گذار رہے ہیں۔بس ایک ہی روٹین روز ایک جیسی۔ یک رنگی۔ بے کیف۔

اچھا لیکن آپ نےکبھی کسی کو ایسا کچھ بتاتےبھی تو سنا ہو گا :

”جناب وہ اچھا بھلا روٹین کے مطابق صبح اٹھا۔ دفتر کے لیے تیاری کر رہا تھا کہ بس اچانک فالج کا ایسا اٹیک ہوا۔۔۔“

”بھائی وہ ہم دوپہر کا کھانا معمول کے مطابق کھا کر ابھی بیٹھے ہی تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ چھوٹا بھائی سیڑھیوں سے گر گیا ہے۔بس تب سے سب بھاگے پھر رہے ہیں۔۔۔“

”یار میں روزانہ کی طرح روٹین کے رستے سے دکان سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ایسی بھگدڑ مچی کہ میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ کیا ہوا ہے۔ آناً فاناً پولیس کی ایک وین وہاں نمودار ہوئی اور اور لوگوں کے ساتھ مجھے بھی اس میں بٹھا کر یہاں حوالات لے آئے ۔ اس دن سے یہاں ایڑیاں رگڑ رہا ہوں،کوئی شنوائی نہیں۔۔۔“

یا پھر کسی ہسپتال کے وارڈ میں جا کر مختلف لوگوں سے جانیں روٹین کی قدر۔ اور پوچھیں یہ بور ہونا کیا ہوتا ہے۔

26.5.10

ادھاریئے

سپر سٹور میں کوئی گھنٹہ بھر صرف کرنے کے بعد آپ اپنی سامان سے بھری ٹرالی لیے کیش کاونٹر پہ پہنچتے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ قدرے اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ آپکے آگےقطار میں صرف ایک آدمی ہے جو نیکر پہنے، ایک ٹوکری پکڑے کھڑا ہے،سو آپ جلدی فارغ ہو جائیں گے۔اس آدمی کی ٹوکری میں دو ایک جوڑے جراب، ایک ۵۰۰ ایم ایل کی پیپسی، تین بڑی موم بتیاں اور ایک رس کا پیکٹ پڑا نظر آ رہا ہے۔جلد ہی اس کے سامان کی بلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

لیکن کئی منٹ گزرنے کے باوجود آپ کی باری نہیں آتی تو آپ دھیان دیتے ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ آپ سوچتے ہیں اتنا سا سامان تو زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں کیش رجسٹر سے گزر جانا چاہیےتھا تو پھر آخر کاونٹر کے دوسری جانب کھڑا شخص کر کیا رہا ہے؟

سو آپ کیشیئر کی جانب توجہ کرتے ہیں تو اسے ایک کارڈ ایک مشین میں پھیرتا ہوا پاتے ہیں۔ اس کے چہرے سے لگ رہا ہے کہ اس کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔وہ کچھ توقف کرتا ہے اور پھر سے اس کارڈ کو مشین میں پھیرنے لگ جاتا ہے۔ساتھ میں کچھ بٹن بھی دباتا جاتا ہے۔ اس سب میں کئی منٹ اور گذر جاتے ہیں۔پھر آپ یہ دیکھ کر بے چینی کی ایک نئی لہر سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ اب وہ کیشیئر کاونٹر سے ہٹ گیا ہے اور پتا نہیں کدھر چلا گیا ہے۔ اس دوران اس کارڈ کا مالک، یعنی وہ شخص جو لائن میں آپ سے آگے کھڑا ہے اطمینان سے موبائل فون پر کسی سے باتیں کرنے میں مشغول رہتا ہے۔

کافی دیر بعد وہ کیشیئر واپس آ کر اپنی جگہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ کہیں سے ایک اور مشین لے کر آیا ہے اور اب اس والی مشین میں کارڈ کو پھیرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ کافی ٹائم گذر جاتا ہے۔ پھر کیشیئر پاس پڑے فون سے کسی سےاس مسلے کی بابت کچھ بات کرنے لگ جاتا ہے۔آپ کھڑے بیزار ہوتے رہتے ہیں۔فون رکھ کر کیشیئر اس گاہک سے کچھ کہتا ہے۔ جواب میں وہ گاہک کمال بے اعتنائی سے ایک اور کارڈ کیشیئر کے سامنے پھینک دیتا ہے۔ اب کیشیئر اس والے کارڈ کو لے کر مشین پر طبع آزمائی کرنے میں مگن ہو جاتا ہے۔ کئی منٹ گزر جاتے ہیں۔

آخر کار کچھ آوازیں مشین سے آتی ہیں جن سے لگتا ہے کہ اب کی بار کام یابی ہو گئی ہے۔کچھ دیر بعد کیشیئر اس صاحبِ کارڈ کے سامنے ایک کاغذ رکھتا ہے جس پر جناب نے اپنے دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ وہ صاحب لکھنا شروع کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ قلم جواب دے گیا ہے۔وہ اس کو پاس پڑی بل بک کے گتے پر رگڑتے ہیں۔ پھر قلم کی نب کو کا ؤنٹر پر یوں زور زور سے مارتے ہیں جیسے قلم کو دانا چگا رہے ہوں۔ پھر اس کو ہوا میں پوری طاقت سے چھڑکنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیشیئر اس اثنا میں کوئی دوسرا آلہ تحریر ڈھونڈنے کے لیے اپنی جگہ سے ہٹنے ہی لگتا ہے کہ آپ تلملاتے ہوئے اپنا قلم نکال کر پیش کر دیتے ہیں۔

ایک طویل وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے جس کے دوران آپ اندرہی اندر بلبلا تے رہے کہ خدارا ان ادھاریئوں کے لیئے الگ کاونٹر بنالو۔ان کی چند سو کی شاپنگ کے لیئے دس ہزار کیش کے گاہک کو ناحق تکلیف میں ڈالا جاتا ہے۔ مگر یہ بات دکان ولوں کی سمجھ میں شاید کبھی نہیں آ سکتی۔

ان ادھارکے دلدادہ لوگوں کے جنجال صرف شاپنگ مالز تک ہی محدود نہیں۔ اپنی زندگی تو یہ ادھاریئے ادھار لے لے کرآخر کار اجیرن کر ہی لیتے ہیں لیکن باقی معاشرہ بھی ان کے غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی سے بے طرح متاثر ہوتا ہے۔

۱۹۲۹ میں جو امریکی سٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی تھی وہ ان ادھاریئوں کے سبب ہی ہوئی تھی۔ اس وقت پھیلنے والی عالمی کساد بازاری کی جڑوں میں یہ قرض کے رسیا لوگ ہی تھے۔ ہمارے اپنے بازار حصص میں جب بھی کوئی بھونچال آیا انہی بدلے والوں کی وجہ سے آیا۔ ماضی قریب میں سڑکوں پہ دیکھتے ہی دیکھتے جو کاروں کا بے انتہا اضافہ ہوا، انہی ادھار کے شوقین لوگوں کی وجہ سے ہی ہوا۔ جس کی اصل استطاعت شاید موٹر سائیکل خریدنے کی بھی نہ تھی اس نے بھی ادھار کے پیسوں کی گاڑی لی، اس میں سی این جی لگوائی اور سڑکوں پہ اندھی مچا دی۔ جلد ہی ان میں سے آدھی سے زیادہ گاڑیاں بنک نے واپس ضبط کر لیں کیونکہ ادھاریئے حسب معمول ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ۲۰۰۸ میں امریکہ میں جو سب پرائم فیاسکو کا طوفان اٹھا، وہ تبھی اٹھا جب لاکھوں ادھاریئوں نے ادھار کی واپسی کے وقت ہنس کر دکھا دیا۔پچھلے سال دبئی کا مالیاتی پٹاخہ بھی اسی وجہ سے پھوٹا کیونکہ ساری ٹیپ ٹاپ، شو شا ادھار پہ ہی کھڑی تھی۔

اللہ رحم کرے اگر انسان مجبوری میں کسی اشد ضرورت کی وجہ سے ادھار کے چنگل میں پھنس جائے تو اور بات ہے۔ مگر محض دیکھا دیکھی، صرف لائف سٹائل کو ٹی وی پہ دکھائے جانے والی زندگیوں کے مطابق بنانے کے لئے بغیر سوچے سمجھے ادھار لیتے چلے جانا کسی طرح بھی کبھی بھی خیر والی بات نہیں ہو سکتی۔

کریڈٹ کارڈ، لیزنگ، مورگیج، پرسنل لون، انسٹالمنٹس وغیرہ ۔۔۔نام چاہے کچھ بھی ہو ادھار ہوتا ایک لعنت ہی ہے۔