Showing posts with label موٹر وے. Show all posts
Showing posts with label موٹر وے. Show all posts

7.1.11

پنڈی ایگزٹ

یوں تو مری و گلیات میں کرنے کا نیا تو کچھ نہیں ہوتا کہ ہر بار پہلے والی سرگرمیاں، پہلے والے مناظر ہی دہرانے کو ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اس جگہ کی کچھ کشش ضرور ہے۔ اور لاہور سے جاتے آتے ہوئے موٹر وے پہ بھی کچھ خاص کرنے کو نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ آپ ڈیش بورڈ پہ بدلتے اعداد و شمار سے محظوظ ہوتے رہیں ۔۔۔۳۳۰۰ آرپی ایم پہ گاڑی کی رفتار ۱۲۰ کلومیٹرفی گھنٹہ ہوتی ہے، گاڑی کی رفتار ۱۰۰ ہو تو انجن کی رفتار ۲۷۰۰ ہو جاتی ہے اور ۱۴۰ کی غیر قانونی رفتار کے لئے پورے ۴۰۰۰ چکر فی منٹ درکار ہوتے ہیں۔ لاہور سے فُل کرایا گیا فیول ٹینک جب گیج پہ نصف ظاہر ہونے لگےتو جان لینا ہے کہ بھیرہ قیام و طعام آ نے کو ہے، آپ بیٹھے انجن کے صوتی مدوجذر سے محظوظ ہوتے رہیں وغیرہ وغیرہ۔

پچھلے سال سکول کی گرمیوں کی چھٹیوں میں نتھیاگلی جانے کا پروگرام بنا۔ اس دفعہ پہلے ایک رات راولپنڈی میں رکنا تھا۔ 29 جولائی کو لاہور سے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہمیشہ کی طرح بھیرہ سروس ایریا سے پیٹرول ٹینک پھر سے فل کروایا۔ پھر جب سالٹ رینج کے پہاڑی سلسلے میں داخل ہوئے تو وہاں بارش ملی۔ اس سے پہلے اس جگہ اتنے خوبصورت مناظر دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔ بادل بہت نیچے آئے ہوئے تھے۔ بارش بھی خاصی تیز تھی۔

اسلام آباد ٹال پلازہ میں E Toll کی سکرین پر لکھا آیا کہ 235 روپے منہا کیے گئے ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جب فروری میں مری جاتے ہوے یہاں سے گزرے تھے تو شاید کچھ کم رقم چارج ہوئی تھی۔ راولپنڈی میں قیام قاسم مارکیٹ کے قریب تھا جہاں ہم سہ پہر کےوقت پہنچ گئے۔

اس سے پہلے موٹر وے سے ہمیشہ سیدھے کشمیر ہائی وے کو چلے جایا کرتے تھے۔ یہ پہلی بار تھی کہ موٹر وے کے بعد راولپنڈی جانا تھا۔ میرا خیال تھا کہ موٹر وے سے آنے والوں کے لیے جیسے جی ٹی روڈ انٹر چینج پر بائیں کو ایک سڑک ٹیکسلا، واہ، پشاور جانے والوں کے لیے بنی ہوئی ہے اسی طرح راولپنڈی جانے والوں کے لیے بھی کوئی ایسا ہی مخرج ہو گا ۔

لیکن مجھے ایسی کوئی سڑک نظر نہیں آئی۔ اب یا تو میں وہی پشاور والی ایگزٹ سے ٹیکسلا، واہ کی طرف مڑ جا تا اور پھر کسی U ٹرن سے گھوم کر اپنا رخ پنڈی کی جانب کرتا۔ یا پھر یہ سمجھ میں آئی کہ میں گوٖلڑہ چوک کی جانب چلتا رہوں اور وہاں سے دائیں مڑ کر گولڑہ روڈ سے جی ٹی روڈ پر جا ملوں۔ میں نے یہ دوسرا والا آپشن ہی اپنایا۔

مجھے لگتا تھا کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ راولپنڈی جیسے مین شہر کے لیے جی ٹی روڈ انٹر چینج پر کوئی ایگزٹ نہ ہو۔ یقیناً ہو گی لیکن مجھے نظر نہیں آئی ہو گی۔ لیکن پنڈی پہنچ کر دریافت کرنے پر یہی بتایا گیا کہ واقعی ایسی کوئی ایگزٹ نہیں ہے اور لوگ بائیں کو جا کر یو ٹرن لے کر ہی راولپنڈی کو آتے ہیں۔ یہ بات تب بھی مجھے انتہا ئی نا قابل یقین سی لگی۔

میں حیران ہوں کیا واقعی موٹر وے کے اختتام پر دائیں جانب پنڈی کو جانے کے لیے کوئی ایگزٹ نہیں ہے؟