Showing posts with label بلاگنگ. Show all posts
Showing posts with label بلاگنگ. Show all posts

1.12.10

سیارہ میں شمولیت دوبارہ

فری ہاسٹنگ پر منتقل ہونے کے چند روز بعد ایک دن جو اپنے بلاگ کا دیدار کرنے کی خواہش کی تو سب ندارد پایا۔ دل میں فوراْ یہ خیال کوندا کہ لو بھئ یہ وہ گھڑی آن ہی پہنچی جس کے لیے سب خیر خواہوں نے تاکید کی تھی کہ بیک اپ لینے میں کبھی سستی نہ کرنا۔ میں بھا گا بھاگا عثمان اور یاسر کے بلاگز پر پہنچا تو وہاں سب خیریت پائی۔ تب جانا کہ مسئلہ اکراس دی بورڈ نہیں ہے بلکہ صرف میرے بلاگ کے ساتھ ہی ہے۔

پھر جیسا کہ انسانی ذہن کی روش ہے، طرح طرح کے خیالات و خدشات دل میں امنڈنے لگے۔ کوشش کر کے ان کی بریک لگائی کہ بھا ئی تھوڑا رک کے دیکھ تو لو کہ صورتحال واقعی اتنی گھمبیر ہے بھی یا نہیں جتنی کہ دکھائی دے رہی ہے۔تب دل کو یہ سوچ کر قدرے قرار ہوا کہ گاہے بگاہے تو پیڈ ہاسٹنگ سروس بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈاون ہو جاتی ہے۔ سو ہو سکتا ہے یہ اسی قسم کی چیز ہو۔

ایسا ہی تھا۔ کچھ دیر کے بعد بلاگ ٹھیک ٹھیک چلنا شروع ہو گیا۔ اوسان بحال ہوئے تو فوراْ Byethost والوں سے دل ہی دل میں ان ناشائستہ خیالات کی معذرت کی جو ان کی بابت ذہن میں آ گئے تھے۔

اور آج ورڈ پریس کے ڈیش بورڈ پر ورژن 3.0.2 کی دستیابی کا مژدو سنایا جا رہا تھا۔ جب آٹو میٹک اپگریڈ کی کوشش کی تو کامیابی نہ ہوئی۔ حیرت ہوئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ wp-content میں جا کر upgrades نامی ڈائریکٹری کو ڈیلیٹ بھی کر کے دیکھ لیا مگر کچھ نہ ہوا۔ لیکن پھر جب تمام پلگ انز کو deactivate کر کے ورڈ پریس اپگریڈ کرنے کی کوشش کی تو الحمدو للہ پلک جھپکتے میں ہو گیا۔

گویا پیڈ ہاسٹنگ سے فری ہاسٹنگ پر منتقلی کے بعد جملہ معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام پا رہے ہیں۔ بس ایک کام ہے جو کہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور ہو ہے سیارہ میں بلاگ کی نئے ڈومین کے ساتھ شمولیت۔ ان کو ایک ایمیل کی تھی کہ براہ کرم بلاگ کے یو آر ایل اور فیڈ ایڈریس میں ترمیم کر لیں۔ اس کے علاوہ سیارہ میں شمولیت کا form بھی از سر نو submit کروایا تھا لیکن تا حال شنوائی نہیں ہوئی۔ چلو، دنیا امید پر قائم ہے۔

اردو کے سب رنگ نے ترمیم کی درخواست پر انتہائی جلدی عملدرآمد کر دیا تھا ۔ ان کا میں ممنون ہوں۔

10.11.10

فری ہاسٹنگ پر ورڈپریس۔۔۔کیونکر؟

دیکھیئے میں ورڈ پریس پر ہی رہنا چاہتا ہوں مگر paid hosting پر نہیں۔۔۔اب فری ہاسٹنگ پر۔


لیکن ابھی تک سننے میں تو یہی آیا ہے کہ فری ہاسٹنگ والے کسی نہ کسی شکل میں کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی گڑ بڑ کر ہی دیتے ہیں جس کا نتیجہ بعض صورتوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے بلاگ سے ہی ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بلاگران نے فری ہاسٹنگ پر اپنا بلاگ ورڈ پریس پر چلایا ہوا ہے اور بظاہر سب ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا ہے۔


سو وہ لوگ جو اپنی فری ہاسٹنگ سے مطمئن ہیں براہ کرم راہنما ئی فرمائیں کہ کونسی فری ہاسٹنگ سروس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ عین نوازش ہو گی۔
wordpress.org سے ہٹ کر wordpress.pk کو دیکھا ہے لیکن اس میں تھیم میں ترمیم کرنا یا خود سے پلگ انز شامل کرنا ممکن نہیں۔ یہی حال wordpress.com کا ہے۔ اس میں تو پلگ انز کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پوسٹ ایڈیٹر میں تو چلو نستعلیق فونٹ کسی طور کر ہی لیں، کمنٹ باکس کا فونٹ کلی طور پر ناقابل ترمیم اور بنا ترمیم قطعئ طور پر ناقابل قبول ہے۔ Blogger.com میں تھیم تو ایڈٹ ہو سکتی ہے مگر کمنٹ باکس میں فونٹ سائز اور فونٹ ٹائپ تبدیل کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ یا ہے؟


تو پھر جناب ہے کوئی فری ہاسٹنگ جس پر اپنے پیارے ورڈ پریس پر ہی طبع آزمائی جاری رکھی جا سکے؟

13.7.10

عجیب مصیبت

یہ ہاسٹنگ کمپنی ہے جو میری اس کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے۔ آج صبح پہلے تو سائٹ ہی ڈاون تھی۔ اب جو چلی ہے تو میری تازہ ترین پوسٹ بمعہ تبصرہ جات غائب ہے۔۔۔جی جی وہی والی جو کل رات شائع کی تھی نا۔۔۔حلالے کا قصہ جو تھا۔

عجیب مصیبت ہے!

ان کے سامنے جو اپنا رونا رویا ہے تو یہ جواب آ گیا ہے:

Due to services affected at old datacentre we immidiatley moved your site to high config new server at new datacentre. We took this action to provide you better services in future. We are sorry for inconvinience but we took this action to provide better services in future

اب کوئی پوچھے کہ جب ڈیٹا لاس ہو رہا ہے تو یہ کہاں کی بیٹر سروس ہے؟؟؟

24.5.10

انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں ہم آہنگی

منظر نامہ نے نقطہ نظر بیان کرنے کے لئے بہت حسب حال موضوع دیا ہے۔ بات یہ ہے کہ جہاں بھی کچھ انسان اکٹھے ہوں گے وہاں پر خیالات اور آراء کی سو فیصد ہم آہنگی کا پایا جانا ممکن نہیں۔ اس کا اطلاق اردو انٹرنیٹ کی دنیا پر بھی ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے والے لوگ روزانہ فورمز اور بلاگز کے توسط سے ا یک دوسرے سے بات چیت کا سلسلہ چلاے رکھتے ہیں۔ زیادہ تر تو یہ سلسلہ موافق ماحول میں جاری رہتا ہے لیکن کبھی کبھار یہ ہم آہنگی کے فقدان کا شکار ہو جاتا ہے جو کہ ایک نارمل بات ہے۔

بلاگز پہ تبصرہ کرنے کی سہولت کی دستیابی تبادلہ خیالات کو ممکن بناتی ہے۔ بنیادی طور پر یہی چیز ایک بلاگ کو روا ئتی ویب سائٹ سے ممتاز کرتی ہے۔ لیکن یہی تبصرہ کرنے کی سہولت اس وقت گڑ بڑ کا باعث بن جاتی ہے جب تبصرہ کرنے والا تحمل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب آپ بلاگ پر لکھی ہوئی پوسٹ میں کہی گئی بات کو ٹھیک سے سمجھے بغیر ہی اشتعال میں آجاتے ہیں اور تحریر لکھنے والے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ جواباً وہ شخص بھی جذبات کی رو میں بہہ جاتا ہے اور اپنے رد عمل کے اظہار میں کہاں سے کہاں نکل جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ جب بھی لگے کہ دوسرے کی بات ، چا ہے وہ بلاگ پوسٹ میں ہو یا کسی تبصرے میں، ہمیں ناگوار گزری ہے تو ذرا سا ٹھیر جائیں۔ فوراً ہی اس کا جواب لکھ کر اسی وقت اسے شائع کرنے سے گریز کریں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ غصہ کی حالت میں کسی کو خط نہ لکھیں، وہی بات یہاں پر بھی ہے۔ آپ یہ کر کے دیکھیں۔ اپنے تبصرے کو ایک دن کے لیے موّخر کر دیں۔اگلے دن اپنا تبصرہ شائع کرنے سے پہلے وہ تحریر جس پر آپ اپنا ردعمل ظاہر کرنے والے ہیں اسے ایک بار پھر پڑھ لیں۔ ساتھ میں ان تبصرہ جات کو بھی پڑھ ڈالیں جو اس اثنا میں دوسرے لوگوں نے وہاں لکھے ہیں۔ اس سب کو پڑھ کر ہو سکتا ہے کہ بات آپ کو ایک نئے زاویے سے نظر آنی شروع ہو جائے۔ بہت امکان ہے کہ کل آپ جس نکتے پہ سیخ پا ہو گئے تھے آج آپ کو لگے کہ اس میں تو غصہ کرنے کی کوئی ایسی بات ہی نہیں۔نتیجتاً ممکن ہے آپ اپنے اشتعال انگیز تبصرے میں مناسب ترمیم کر لیں۔ حتی کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس تبصرے کو اب غیر ضروری سمجھ کر شائع کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھیں۔

عام زندگی کی طرح انٹرنیٹ پر بھی لازم ہے کہ ہم تحمل اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اس سے بے جا غلط فہمیوں کو سر اٹھانے کا موقعہ ہی نہ ملے گا۔ لیکن یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ تمام تر کوشش اور ارادے کے باوجود ہم ہمیشہ ہی اس قدر نظم و ضبط کے پابند نہیں رہ سکتے۔ اس لیے انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں بھی کچھ نہ کچھ نوک جھونک گاہے بگاہے ہوتی ہی رہے گی۔ بلکہ بہت سے قارئین تو سمجھتے ہیں کہ یہ ہوتی ہی رہنی چاہیے کیونکہ ان کے خیال میں اسی گرما گرمی سے ہی بلاگز اور فورمز پہ زندگی کے رنگ اور دلچسپی برقرار رہتے ہیں۔ اس لیے چاہے وہ اس کا اظہار نہ بھی کریں لیکن اندر اندر سے وہ ان بلاگرز کو ذرا پسند ہی کرتے ہیں جو ہر صورت میں، چاہے آپ کچھ بھی لکھ دیں، بات کا بتنگڑ بنا کر، اسکا کچھ کا کچھ مطلب نکال کر، اس کو اس مہارت سے طول دیتے ہیں کہ پھر تقریباً پورا بلاگستان ہی اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور ہر طرف کراس فائر شروع ہو جاتے ہیں۔رونقیں دوبالا ہو جاتی ہیں۔

19.5.10

ایک اچھی تحریر کی خوبی

اس اہم موضوع پہ نعمان رقمطراز ہیں:
”ایک اچھی تحریر کی خوبی لوگ اکثر اسطرح جانچتے ہیں کہ وہ کسقدر اثر انگیز ہے، مصنف اپنا پیغام قاری تک پہنچانے میں کامیاب رہا یا نہیں۔ باقی سب چیزیں ثانوی ہیں۔

بعض اوقات لکھنے والے الفاظ کے چناؤ میں بے احتیاطی کے سبب اپنی تحریر کی اثر پذیری اور قاری تک اپنا نکتہ نظر پہنچانے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ اگر آپ اس معیار میں ناکام ہوجائیں تو تحریر اچھی کہلانے کی مستحق ہوگی؟

اس کی بہت ساری مثالیں کلاسیکی ادب میں موجود ہیں۔ جب ماہرین فن نے ٹکسالی فحش زبان کو ذریعہ اظہار بنایا ہے۔ مگر تب جب الفاظ کا یہ چناؤ اور اظہار کا یہ طریقہ ان کی تحریر کی اثر پذیری اور مقصدیت کے لئے ضروری تھا۔ جملے بازی اور فحش تمثیل کا بے جا استعمال تفریح کا ذریعہ تو ہوسکتا ہے، مگر یہ کسی تحریر کو اچھا نہیں بناتا۔

تحریر اچھی ہونے سے مراد یہ نہیں کہ اسے شاہکار ہی ہونا چاہئے۔ لیکن ایسا ہونا چاہئے کہ قاری اس سے لطف اندوز ہو۔ وہ اسے ٹھیک سے سمجھ سکے اور اس میں موجود پیغام، خیال یا سوال کی تائید و تردید کر سکے۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بطور قاری آپ کو مصنف کا الفاظ کا چناؤ ناگوار گزرتا ہے۔ یہ قطعا قاری کا نہیں بلکہ سراسر مصنف کا قصور ہے کہ اس نے قاری کو اس ناگواری کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں کیا۔ اور الفاظ کے بے جا چناؤ کے سبب قاری کو تحریر مقصد سے عاری اور پھکڑ بازی پر مبنی نظر آئی۔

قاری کو یہ احساس ہوا کہ مصنف پھکڑ بازی پسند کرنے والے ٹولے کی داد پانے کے لئے اپنے معیار پر سمجھوتہ کررہا ہے۔ وہ اپنی بذلہ سنجی، شگفتگی اور ذہین حس مزاح کو ٹھیلے پر بکنے والے فحش لطیفوں کی سطح پر لے کر آرہا ہے۔ قاری اسے اپنی تذلیل سمجھتا ہے۔ کیونکہ ایک مصنف جسے مسلسل پڑھنے والے قاری مل جائیں تو قارئیں اور اس کے درمیان اعتماد کا ایک رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف اپنے انداز سے پھر رہا ہے اور وہ اس بے وفائی پر مصنف کو برا بھلا کہتا ہے۔

آپ کو ایسی کئی مثالیں ملیں گی جن میں لکھنے والوں نے اپنے انداز تبدیل کرنے کی بارہا کوشش کی اور پھر وہیں لوٹ آئے جو ان کا انداز تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ قاری کے قصیدوں کے بھوکے تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے اصل انداز میں زیادہ پراثر تھے۔

اگر آپ اچھا لکھنا نہیں چاہتے، یعنی نہ اثرانداز ہونا چاہتے ہیں نہ خیالات کی ترسیل چاہتے ہیں۔ تو پھر آپ اچھا لکھیں چاہے برا، کیا فرق پڑتا ہے؟“

3.2.10

رُوبہ زوال ہاسٹنگ

میری ہاسٹنگ سروس والے رُوپے کے لالچ کا شکار ہو گئے ہیں۔جیسا کہ زمانہ قدیم سے انسانوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔ ان کے سرورز پہ لوڈ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہماری سائٹس کا ڈاون ٹائم بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ہاسٹنگ سروس والے اس ضمن میں کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ ظاہر ہے سرور سپیس میں اضافہ کرنے کے لیئے رقم خرچ کرنا پڑتی ہے،
اس صورتحال سے میرا یہ نوزائیدہ بلاگ بھی متاثر ہوا ہے۔ مانا کہ اس پہ  قارئین فی الحال خال خال ہی آتےہیں لیکن بہرحال پھر بھی دل تو چاہتا ہے نا کہ سائٹ درست طور پر چلتی رہے۔
دیکھیں اب کیا بنتا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ خراب کارگردگی سے نالاں ہو کر جب لوگوں کی  کافی بڑی تعداد اس ہاسٹنگ سروس کو چھوڑ جائے تو سرور پہ  لوڈ خود بخود کم ہو جائے۔۔۔

20.1.10

ایک کار آمد پلگ اِن

جب کوئی قاری آپ کے بلاگ پرکوئی تبصرہ کر چُکتا ہے تو اس کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ اپنے تبصرے کے بعد ہونے والے مزید تبصروں سے آگاہ رہ سکے۔ اب ہر ایسے صفحے کو بکمارک کرنا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی زبانی یاد رکھا جا سکتا ہے کہ کس کس بلاگ پرکسی نے کہاں کہاں تبصرے لکھے تھے۔
اس کے بہترین حل کے لئے اکثر بلاگز پر کمینٹ باکس کے نیچے ایسا ایک چیک باکس موجود ہوتا ہے
جسے کلک کرنے سے بعد میں ہونے والے ہر تبصرے کی بابت آپ کو بذر یعہ ای میل اس ای میل ایڈریس پر آگاہ کر دیا جاتا ہے جو اپنا تبصرہ لکھتے وقت آپ نے ای میل ایڈریس والے خانے میں لکھا ہوتا ہے۔ بعد ازاں آپ  جب چاہیں کسی بھی پوسٹ کے کمینٹ فالو اَپ سے اَن سبسکرا ئیب کر سکتے ہیں۔
لیکن ہر تھیم میں اوپر بیان کردہ آپشن موجود نہیں ہوتا۔ تاہم آپ یہ  پلگ اِن اِنسٹال کر کہ  یہ والا آپشن اپنے بلاگ پردستیاب کر سکتے ہیں۔ یہ اضافہ آپ کے بلاگ پہ تبصرہ چھوڑنے کے خواھشمند قارئین کے لئے ایک بڑی سہولت کا سبب ہو گا۔
یہ پلگ اِن آپ ورڈ پریس کی سائیٹ سے بھی ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں۔ اور ورڈ پریس کے ڈیش بورڈ پہ رہتے ہوئے Add New Plugins کے ذریعے اسے براہ راست بھی اِنسٹال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے وہاں سرچ باکس میں subscribe to comments  لکھنا ہو گا۔ آنے والی لسٹ میں پہلا پلگ اِن یہی ہو گا۔