Showing posts with label رمضان کریم. Show all posts
Showing posts with label رمضان کریم. Show all posts

9.9.10

رمضان کے بعد

ستائیسویں روزے کے بعد عموما ً رمضان کے لیے ہمارا ولولہ ماند پڑ جاتا ہے۔ شاید ایک تو یہ خیال ہوتا ہے کہ بس اب تو روزے ختم ہی سمجھو اور دوسرا دھیان سارا عید کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو آخری دو یا تین روزے ہوتے ہیں وہ بھی رمضان کا اسی طرح حصہ ہوتے ہے جیسے کہ پہلے والے باقی روزے۔

اور یہ بھی توجہ طلب بات ہے کہ انتیسویں رات بھی آخری عشرے کی طاق رات ہوتی ہے باقی چار طاق راتوں کی طرح۔ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلتہ قدر کی رات آخری پانچ طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں پانچوں طاق راتوں کی اہمیت برابر ہے۔ رمضان کی انتیسویں رات بھی وہ رات ہو سکتی ہے جو کہ لیلتہ القدر ہو۔

رمضان کے بابرکت مہینے میں جو ہماری ایک تقویٰ والی، اللہ کی اطاعت والی ایک کیفیت بن جاتی ہے رمضان کے عین اختتام پر چاند رات کو بازاروں میں اس کا بالکل الٹ منظر پیش کیا جاتا ہے۔ عید کی شاپنگ کے نام پر ایک عجب ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔ اگر صرف خریداری کی ہی بات ہو تو چیزیں تو رمضان سے پہلے والے مہینے میں بھی خرید لی جا سکتی ہیں۔ خیر۔

اس دفعہ تو ویسے بھی دل یہی چاہتا ہے کہ عید سادگی سے ہی منائی جائے۔ سیلاب کے مارے لاتعداد لوگوں کی لاچاری کو روزانہ دیکھ کر دل ملول تو ہوتا ہی ہے نا۔ عید پر ہمیں اللہ کا تہہ دل سے ممنون ہونا چاہیے کہ اس نے ہم میں سے بہت سوں کو سیلاب کی اس آفت سے اپنی امان میں رکھا، عافیت سے روزے رکھنے کی توفیق دی اور عید کا دن دکھایا۔ رمضان سے کوئی دو ہفتے پہلے جو 152 افراد جہاز کے حادثے میں لقمہ اجل بن گئے تھے وہ نہ یہ رمضان دیکھ سکے نہ یہ عید۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

رمضان کے بعد دو بہت ثواب کے کام ہیں جو توجہ طلب ہیں. ان میں سے ایک تو کرنا لازم ہے اور دوسرا نفلی عبادت کے زمرے میں آتا ہے ۔ لازم تو ہے فطرانے کی ادائیگی۔ اس کو صدقہ الفطر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا درست اور بر وقت اہتمام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

دوسرا کام ہے شوال کے چھ روزے رکھنا۔ ان کا بہت ثواب ہے۔ یکم شوال کو عید ہوتی ہے۔ اس دن کو چھوڑ کر شوال کے باقی دنوں میں ہر سال یہ چھ روزے رکھ کرخوش نصیب لوگ گناہوں کی مغفرت کے ایک بڑے موقعے سے فائدہ اٹھا تے ہیں۔

6.9.10

جاتےرمضان میں کچھ باتیں


مجھے کچھ دن پہلے ایک میل ملی جس میں لکھا تھا کہ آپ ایک پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں۔ پھر تصور کریں کہ اللہ آپ سے فرما رہا ہے مانگو مجھ سے کیا مانگنا ہے، میں تمہیں دوں گا ۔ سو آپ ان تمام چیزوں کا سوچیں جو آپ اس دنیا اور آخرت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ان میں سے اپنی پسندیدہ ترین کچھ چیزوں کا انتخاب کر لیں۔ پھر آخری عشرے کی تمام راتوں میں آپ تسلسل، یکسوئی اور یقین کے ساتھ اللہ سے وہ چیزیں مانگیں۔ اس طرح لازم ہے کہ آپ کی دعا لیلتہ القدر میں آ جائے گی۔ انشاءاللہ۔
اور جو دعا اللہ کے حضور لیلتہ القدر میں پہنچے اس کی قبولیت کے امکانات تو پھر آپ سمجھ ہی سکتے ہیں۔
سو یہ کر دیکھیں۔


اعتکاف بیٹھنا ایک زبردست کام ہے جس کے بہت سے روحانی فوا ئد ہیں۔ ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں جو یکسوئی اعتکاف کی حالت میں میسر آسکتی ہے وہ ویسے عام حالات میں ملنا مشکل ہوتی ہے۔
اعتکاف کے اختتام پر خاموشی سے گھر لوٹ آنا ہی ٹھیک ہے۔ یہ جو لوگ ہار وغیرہ لے کر اعتکاف سے فارغ ہونے والے کو ایک جشن کی سی کیفیت میں لینے مسجد پہنچے ہوتے ہیں اس قسم کے سلسلے سے گریز ہی کرنا چاہیے۔


اس رمضان میں ٹی وی ون چینل سے ہر شام سات بجے جنید جمشید کے درس سننے کا موقعہ ملا۔ بہت کچھ کام کی باتیں بتاتا ہے یہ آدمی۔ اسے اللہ کی باتیں اتنے موثر انداز میں بتاتے دیکھ کر میں تو اکثر یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ اللہ کی شان ہے کہ ایک ایسا نوجوان جو ناچنے گانے میں مگن اپنی زندگی بِتا رہا تھا اسے اللہ نے کیسی ہدایت سے نوازا کہ آج وہی شخص لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف بلا رہا ہے۔ اکثر جنید خود بھی اپنے لہو و لعب اور گمراہی کے شب و روز کا ذکر کرتا ہے جب وہ بتاتا ہے کہ اتنا بڑا انقلاب کیسے اللہ نے اس کی زندگی میں برپا کیا۔

جنید انتہائی سادہ اور سلیس انداز میں اپنے سننے والوں کو اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہو سکے تو آپ بھی سنیں اسے۔


رمضان میں بہت سا قرآن سننے کو مل جاتا ہے ہر رات تراویح کی صورت میں۔ قرآن پڑھنے کا جو ایک بنیادی سلیقہ ہے وہ یہ ہے کہ اس عظیم کلام کو ٹھیر ٹھیر کر اطمینان سے پڑھا جائے۔ اگر تیز پڑھنا بھی ہو تو ایک خاص حد سے زیادہ تیز نہ پڑھا جائے اور اس پاک کلام کا ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رہے۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مساجد میں تراویح پڑھانے والے قاری صاحبان اس بات کا خیال بالکل نہیں رکھتے اور انتہائی تیز رفتاری سے قرآن پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس بات کو تراویح پڑھنے والے لوگ نوٹ کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اس خرابی کا ذکر بھی کرتے ہیں لیکن امام صاحب کو اس روش کو چھوڑنے کا نہیں کہتے۔

پھر وہ جوقرآن کو ایک، دو یا تین راتوں میں ختم کرنےکے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہوتے ہیں ان میں اللہ کے کلام کو تیز رفتاری سے پڑھنے کے اپنے ہی بنائے ہوئے ریکارڈ توڑے جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اوپر سے گمان کیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ سلسلے انتہا ئی روح پرورہیں۔

اگر کوئی پوچھنے کی کوشش کرے کہ یہ والی سیٹنگ اور سلسلے کدھر سے آپ نے لیے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو رمضان میں باجماعت قیام اللیل صرف تین رات کیا تھا اور اس کے بعد صحابہ اکرام اپنے طور پر گھروں میں یا مسجد میں یہ نماز پڑھتے رہے تو کہا جاتا ہے کہ جی مسلمان صدیوں سے یہ نماز یونہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں۔

آپ کہیں اچھا جی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے تو جو ثابت ۔۔۔۔تو جواب ملتا ہے
” بس چُپ۔ جس بات کا پتا نہ ہو وہ نہیں پوچھتے۔“

13.8.10

مساجد میں افطاری

جس شام رمضان کا چاند نظر آیا اس رات مسجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی صفوں کی تعداد ڈبل ہو گئی۔ اگلے دن مغرب کے وقت یہ تعداد واضح طور پر اوربھی بڑھ گئی۔ مسجدوں میں افطار کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب کے وقت خاصی گہماگہمی ہو جاتی ہے۔

ایک خاطرخواہ تعداد اس رونق میں ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو صرف افطاری سے مستفید ہونے کی نیت سے آئے ہوتے ہیں اور ان کے پروگرام میں افطاری کے بعد مغرب کی نماز میں شرکت کرنا شامل نہیں ہوتا۔ یہ لوگ کھا پی کر اور کچھ مزید اشیاء خورد و نوش شاپر میں ہمراہ لے کر جماعت کھڑ ی ہونے سے پہلے پہلے واپسی کا قصد کرتے ہیں ۔

اکثر مساجد میں تو ان کی یوں واپسی میں کوئی خلل نہیں ڈالا جاتا لیکن بعض مساجد میں ذرا حساس طبع قسم کے انتظامیہ والے ان کو یوں نہیں لوٹنے دیتے اور ان کو گفتگو اور ہلکے ہلکے دھکوں وغیرہ کی مدد سے مسجد کے اندر بھیج دیتے ہیں کہ آپ باجماعت نماز پڑھے بغیر یوں نہ جائیں۔

اب ان بیچارے غریب لوگوں کے لیے جو محض پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر مسجد کی افطار پارٹی میں آ نکلے تھے ایک عجیب نہ جاۓ ماندن نہ پاۓ رفتن والی کیفیت ہو جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر کا روزہ نہیں بھی ہوتا۔ اور بعض صورتوںمیں گمان غالب ہے کہ بیچ میں کچھ غیر مسلم بھی شکم پری کے چکر میں آن پھنستےہیں۔

مسجد کےھال میں پہنچ کر یہ مجبور کیا گیا گروہ پچھلی ترین صفوں میں کھڑا ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ دوران نماز ان کی کیفیت اور حالت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی رش سے بھری سڑک پر لرنر لائسنس والے ڈرائیور کی ہوتی ہے۔لیکن چیلنج سے بھرپور یہ صورتحال ان کے حوصلے اس طور پست نہیں ہونے دیتی کہ وہ آنے والے بقیہ دنوں میں نماز سے عاری افطاری میں شمولیت کا ارادہ ترک کر دیں۔

سو رونقیں لگی رہتی ہیں۔

قرآن ایکسپلورر اور ایک اور لنک

اس ویب سائٹ کو ملاحظہ فرمائیں اور وہاں ٖLAUNCH QURAN EXPLORER کے سرخ بٹن کو کلک کریں۔

اس سائٹ میں اور بھی بہت کچھ فائدہ مند پائیں گے آپ انشاء اللہ۔

اور یہ ایک اور لنک۔۔۔ان لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جو رمضان میں سنجیدگی سے اللہ کی رضا کے لیے کوشاں ہیں۔

12.8.10

ہر سال رمضان میں۔۔۔

آج سعودی عرب اور امارات میں 2010 کے رمضان کا پہلا روزہ رکھا گیا۔ اب سے تھوڑی دیر پہلے پاکستان میں بھی رمضان کا چاند نظر آگیا ہے سو کل ہم بھی پہلے روزے سے ہوں گے۔انشاء اللہ۔

اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ایک مرتبہ پھر زندگی میں موقعہ عطا فرمایا کہ ہم رمضان کی برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔پچھلے چند ہی ہفتوں میں سیلاب میں، جہاز کے حادثے میں، فسادات اور قتل و غارت میں کتنے ہی لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عام حالات میں بھی کچھ پتا نہیں ہوتا کب کس کی موت آجائے۔ ایسے میں ایک اور ماہ رمضان کا مل جانا بہت بڑی نعمت ہے۔ اس بات پر اللہ کا شکر کرتا ہوں۔

ہر سال جب رمضان شروع ہوتا ہے تو میں ارادہ کرتا ہوں کہ اس مرتبہ رمضان کی اس نعمت سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی سچی کوشش کروں گا۔ فر ض عبادات تو کروں گا ہی ساتھ میں ڈھیر سی نفلی عبادات بھی کروں گا۔ لغویات میں وقت بِتانے کی بجائے بہت سا قرآن پڑھوں گا۔ ساتھ میں اللہ کے اس کلام میں جو عظیم الشان رب کا پیغام ہے اس کو بھی سمجھنے کی کوشش کروں گا۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ ساتھ میں جن جن کاموں سے اللہ کریم نے منع فرمایا ہے ان سے ہر صورت اجتناب کروں گا چاہے میرے دل کو وہ کام کتنے ہی پر لطف اور سرور انگیز لگتے ہوں۔ نیز یہ کہ دوسرے انسانوں سے بات اور معاملات کرتے وقت ان سے برداشت، نرمی اور رواداری سے پیش آوں گا۔ نا مناسب الفاظ، زبان کی تیزی یا آواز و لہجہ کی سختی سے کسی کا دل نہیں توڑوں گا۔ علاوہ ازیں اس بات کو نہیں بھولوں گا کہ قرآن میں میں اللہ نے شرک اور فحش کاموں کی ہر ہر شکل سے بچنے کا ہمیں حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ قرآن کے مطابق جنت نیک اعمال کے بدلے ہی میں ملنی ہے۔

یہ سب اور بہت کچھ۔ نہ جانے کیا کیا ارادے کرتا ہوں۔ اور یہ بھی سوچتا ہوں کہ رمضان میں تو شیطان قید کر دیا جاتا ہے لہذا نیکی کے ان تمام ارادوں کو عملی جامہ پہنانے میں مجھے چنداں مشکل نہیں ہو گی۔

اور پھر جب رمضان گزر جاتا ہے تو یہی احساس دل میں رہ جاتا ہے کہ اس مرتبہ بھی اعمال کی درستگی کا وہ اہتمام جو کہ میں کر سکتا تھا رمضان میں وہ کر نہیں سکا۔ شیطان تو مقید تھا تو پھر یہ شاید ہمارا نفس ہوتا ہے جو خیر کی طرف نہیں بڑھنے دیتا اور ہر اس کام کو جس سے کائنات کے مالک نے ہم کو منع فرمایا ہوتا ہے اسے نہایت دلکش بنا کر ہمیں دکھاتا ہے۔

اللہ ہم پر رحم فرمائے۔ آمین۔